صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
48. باب بيان ان القرآن على سبعة احرف وبيان معناه:
باب: قرآن کا سات حرفوں میں اترنے اور اس کے مطلب کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 818 ترقیم شاملہ: -- 1899
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَؤُهَا، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْرَأَنِيهَا، فَكِدْتُ أَنْ أَعْجَلَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَمْهَلْتُهُ حَتَّى انْصَرَفَ، ثُمَّ لَبَّبْتُهُ بِرِدَائِهِ، فَجِئْتُ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي سَمِعْتُ هَذَا، " يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَأْتَنِيهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرْسِلْهُ اقْرَأْ، فَقَرَأَ الْقِرَاءَةَ الَّتِي سَمِعْتُهُ يَقْرَأُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَكَذَا أُنْزِلَتْ، ثُمَّ قَالَ لِي: اقْرَأْ، فَقَرَأْتُ، فَقَالَ: هَكَذَا أُنْزِلَتْ، إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ، فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ ".
مالک نے ابن شہاب سے، انہوں نے عروہ بن زبیر سے، انہوں نے عبدالرحمن بن عبدالقاری سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں نے ہشام بن حکیم بن حزام کو سورہ فرقان اس سے مختلف (صورت میں) پڑھتے سنا جس طرح میں پڑھتا تھا، حالانکہ مجھے (خود) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سورت پڑھائی تھی، قریب تھا کہ میں اس سے جھگڑا کرنے میں جلد بازی سے کام لیتا لیکن میں نے اسے مہلت دی حتیٰ کہ وہ نماز سے فارغ ہو گیا، پھر میں نے اس کی چادر سے اسے باندھا اور کھینچ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں نے اسے اس طرح سورہ فرقان پڑھتے ہوئے سنا ہے جو اس سے مختلف ہے جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وہ سورت پڑھائی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اسے چھوڑ دو (اور اسے مخاطب ہو کر فرمایا:) پڑھو۔" تو اس نے اسی طرح پڑھا جس طرح میں نے اسے پڑھتے ہوئے سنا تھا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "یہ سورت اسی طرح نازل ہوئی ہے۔" پھر مجھ سے کہا: "تم پڑھو۔" میں نے پڑھا تو (اس پر بھی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "یہ سورت اسی طرح اتری تھی۔ بلاشبہ یہ قرآن سات حروف پر نازل کیا گیا ہے۔ پس ان میں سے جو تمہارے لیے آسان ہو اسی کے مطابق پڑھو۔" [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1899]
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کو سورة الفرقان اپنے انداز میں پڑھتے سنا، جو میرے اسلوبِ قراءت سے الگ تھا، حالانکہ یہ سورت مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائی تھی، تو قریب تھا کہ میں (اس کے مواخذہ و گرفت میں) جلد بازی سے کام لوں، لیکن میں نے اس کو مہلت دی حتیٰ کہ وہ نماز سے فارغ ہو گیا، پھر میں نے اسے گلے کی چادر سے باندھا اور کھینچ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے اس کو اس طرح سورة الفرقان پڑھتے ہوئے سنا ہے جو اس سے مختلف ہے جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وہ سورت پڑھائی تھی۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو (اور اس سے مخاطب ہو کر فرمایا:) پڑھو۔“ تو اس نے اسی طرح پڑھا جس طرح میں نے اسے پڑھتے ہوئے سنا تھا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ سورت اسی طرح نازل ہوئی ہے۔“ پھر مجھ سے کہا: ”تم پڑھو۔“ میں نے پڑھا تو (اس پر بھی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ سورت اسی طرح اتری تھی۔ بلاشبہ یہ قرآن سات حروف پر نازل کیا گیا ہے، پس ان میں سے جو تمہارے لیے آسان ہو، اسی کے مطابق پڑھو۔“ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1899]
ترقیم فوادعبدالباقی: 818
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 818 ترقیم شاملہ: -- 1900
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخَرَمَةَ ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدٍ الْقَارِيَّ أَخْبَرَاهُ، أَنَّهُمَا سَمِعَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيمٍ، يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ، وَزَادَ، فَكِدْتُ أُسَاوِرُهُ فِي الصَّلَاةِ، فَتَصَبَّرْتُ حَتَّى سَلَّمَ.
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے عروہ بن زبیر نے بتایا کہ مسور بن مخرمہ اور عبدالرحمن بن عبدالقاری نے بتایا کہ ان دونوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں ہشام بن حکیم کو سورہ فرقان پڑھتے سنا۔ آگے اسی کے مانند حدیث سنائی اور یہ اضافہ کیا کہ قریب تھا کہ میں اس پر نماز میں ہی پل پڑوں، میں نے بڑی مشکل سے صبر کیا یہاں تک کہ اس نے سلام پھیرا۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1900]
مسور بن مخرمہ اور عبدالرحمٰن بن عبدالقاری بیان کرتے ہیں کہ ہم نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ میں ہشام بن حکیم کو سورہ فرقان پڑھتے سنا۔۔۔“ آگے مذکورہ بالا واقعہ بیان کیا، اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ ”قریب تھا کہ میں اس پر نماز میں پل پڑوں، میں نے بڑی مشکل سے صبر کیا، یہاں تک کہ اس نے سلام پھیرا۔“ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1900]
ترقیم فوادعبدالباقی: 818
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 818 ترقیم شاملہ: -- 1901
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، كَرِوَايَةِ يُونُسَ بِإِسْنَادِهِ.
معمر نے زہری سے یونس کی روایت کی طرح اسی سند کے ساتھ روایت کی۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1901]
مصنف نے یہی حدیث اپنے دوسرے استاد سے بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/کتاب فضائل القرآن وما يتعلق به/حدیث: 1901]
ترقیم فوادعبدالباقی: 818
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة