صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
19. باب صوم يوم عاشوراء:
باب: عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1129 ترقیم شاملہ: -- 2653
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ خَطِيبًا بِالْمَدِينَةِ يَعْنِي فِي قَدْمَةٍ قَدِمَهَا خَطَبَهُمْ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ: أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِهَذَا الْيَوْمِ: " هَذَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ، وَلَمْ يَكْتُبْ اللَّهُ عَلَيْكُمْ صِيَامَهُ، وَأَنَا صَائِمٌ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَصُومَ فَلْيَصُمْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُفْطِرَ فَلْيُفْطِرْ "،
حرملہ بن یحییٰ، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، حضرت حمید بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہ خبر دیتے ہیں کہ انہوں نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کا مدینہ میں خطبہ سنا یعنی جب وہ مدینہ آئے تو انہوں نے عاشورہ کے دن خطبہ دیا اور فرمایا: ”اے مدینہ والو! کہاں ہیں تمہارے علماء؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس دن کے لیے فرماتے ہوئے سنا کہ یہ عاشورہ کا دن ہے اور اللہ تعالیٰ نے تم پر اس دن کا روزہ فرض نہیں کیا اور میں روزے سے ہوں تو جو تم میں سے پسند کرتا ہو کہ وہ روزہ رکھے تو اسے چاہیے کہ وہ روزہ رکھ لے اور جو تم میں سے پسند کرتا ہو کہ وہ افطار کر لے تو اسے چاہیے کہ وہ افطار کر لے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2653]
حمید بن عبدالرحمن رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ مدینہ آئے اور انہوں نے عاشورہ کے دن خطبہ دیا، میں نے ان سے خطبہ میں سنا، انہوں نے کہا: ”تمہارے علماء کہاں ہیں؟ اے اہل مدینہ! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس دن کے بارے میں فرماتے ہوئے سنا: ”یہ یومِ عاشورہ ہے، اللہ تعالیٰ نے تم پر اس کا روزہ فرض قرار نہیں دیا، میں روزے دار ہوں، تو تم میں سے جو پسند کرے کہ وہ روزہ رکھے وہ روزہ رکھ لے اور جو افطار پسند کرے وہ روزہ نہ رکھے“۔“ (حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ صلح حدیبیہ کے بعد مسلمان ہوئے جس کا اظہار فتح مکہ کے بعد کیا) [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2653]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1129
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1129 ترقیم شاملہ: -- 2654
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ،
ابوطاہر عبداللہ، عبداللہ بن وہب، مالک بن انس، ابن شہاب سے اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح روایت کیا گیا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2654]
امام صاحب ایک اور استاد سے ابن شہاب رحمہ اللہ ہی کی سند سے یہ روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2654]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1129
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1129 ترقیم شاملہ: -- 2655
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي مِثْلِ هَذَا الْيَوْمِ: " إِنِّي صَائِمٌ فَمَنْ شَاءَ أَنْ يَصُومَ فَلْيَصُمْ "، وَلَمْ يَذْكُرْ بَاقِي حَدِيثِ مَالِكٍ وَيُونُسَ.
ابن ابی عمر، سفیان بن عیینہ، زہری سے اس سند کے ساتھ روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس دن کے بارے میں فرماتے ہوئے سنا کہ ”میں روزے سے ہوں کہ جو چاہتا ہے کہ روزہ رکھ لے وہ رکھ لے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2655]
امام صاحب ایک اور استاد سے زہری ہی کی سند سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس دن کے بارے میں سنا: ”میں روزے دار ہوں، تو جو چاہے کہ روزہ رکھے وہ روزہ رکھ لے۔“ مالک اور یونس کی حدیث کا بقیہ حصہ بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2655]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1129
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة