صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
82. باب تحريم مكة وصيدها وخلاها وشجرها ولقطتها إلا لمنشد على الدوام:
باب: مکہ مکرمہ کے حرم ہونے اور اس کے شکار اور گھاس اور درخت اور گری پڑی چیز کی حرمت کا بیان سوائے اس کے جو گری پڑی چیز کا اعلان کرنے والا ہو۔
ترقیم عبدالباقی: 1355 ترقیم شاملہ: -- 3305
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، جميعا عَنِ الْوَلِيدِ ، قَالَ زُهَيْرٌ: حدثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حدثنا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ: لَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ، قَامَ فِي النَّاسِ، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ حَبَسَ عَنْ مَكَّةَ الْفِيلَ، وَسَلَّطَ عَلَيْهَا رَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ، وَإِنَّهَا لَنْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ كَانَ قَبْلِي، وَإِنَّهَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، وَإِنَّهَا لَنْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ بَعْدِي، فَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا، وَلَا يُخْتَلَى شَوْكُهَا، وَلَا تَحِلُّ سَاقِطَتُهَا إِلَّا لِمُنْشِدٍ، وَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ، فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ، إِمَّا أَنْ يُفْدَى، وَإِمَّا أَنْ يُقْتَلَ "، فقَالَ الْعَبَّاسُ: إِلَّا الْإِذْخِرَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنَّا نَجْعَلُهُ فِي قُبُورِنَا وَبُيُوتِنَا، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِلَّا الْإِذْخِرَ "، فَقَامَ أَبُو شَاهٍ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ، فقَالَ: اكْتُبُوا لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اكْتُبُوا لِأَبِي شَاهٍ "، قَالَ الْوَلِيدُ: فَقُلْتُ لِلْأَوْزَاعِيِّ: مَا قَوْلُهُ: اكْتُبُوا لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: هَذِهِ الْخُطْبَةَ الَّتِي سَمِعَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ولید بن مسلم نے ہمیں حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں اوزاعی نے حدیث سنائی۔ (کہا:) مجھے یحییٰ بن ابی کثیر نے حدیث سنائی۔ (کہا:) مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور (انہوں نے کہا:) مجھے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: جب اللہ عزوجل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ پر فتح عطا کی تو آپ لوگوں میں (خطبہ دینے کے لیے) کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: ”بلاشبہ اللہ نے ہاتھی کو مکہ سے روک دیا۔ اور اپنے رسول اور مومنوں کو اس پر تسلط عطا کیا، مجھ سے پہلے یہ ہرگز کسی کے لیے حلال نہ تھا، میرے لیے دن کی ایک گھڑی کے لیے حلال کیا گیا۔ اور میرے بعد یہ ہرگز کسی کے لیے حلال نہ ہوگا۔ اس لیے نہ اس کے شکار کو ڈرا کر بھگایا جائے اور نہ اس کے کانٹے (دار درخت) کاٹے جائیں۔ اور اس میں گری پڑی کوئی چیز اٹھانا اعلان کرنے والے کے سوا کسی کے لیے حلال نہیں۔ اور جس کا کوئی قریبی (عزیز) قتل کر دیا جائے اس کے لیے دو صورتوں میں سے وہ ہے جو (اس کی نظر میں) بہتر ہو: یا اس کی دیت دی جائے یا (قاتل) قتل کیا جائے۔“ اس پر حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اذخر کے سوا، ہم اسے اپنی قبروں (کی سلوں کی درزوں) اور گھروں (کی چھتوں) میں استعمال کرتے ہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اذخر کے سوا۔“ اس پر اہل یمن میں سے ایک آدمی ابوشاہ کھڑے ہوئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! (یہ سب) میرے لیے لکھوا دیجیے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوشاہ کے لیے لکھ دو۔“ ولید نے کہا: میں نے اوزاعی سے پوچھا: اس (یمنی) کا یہ کہنا ”اے اللہ کے رسول! مجھے لکھوا دیں۔“ (اس سے مراد) کیا تھا؟ انہوں نے کہا: یہ خطبہ (مراد تھا) جو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3305]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ پر فتح دی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے سامنے کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی، پھر فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مکہ سے ہاتھ روک دیا، اور اس پر اپنے رسول اور مومنوں کو غلبہ عنایت فرمایا، واقعہ یہ ہے کہ مکہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال قرار نہیں دیا گیا تھا، (کسی کو اس پر حملہ کرنے کی اجازت نہیں ملی) اور یہ میرے لیے بھی دن کے کچھ وقت کے لیے حلال ٹھہرایا گیا، (جنگ کی اجازت دی گئی) اور یہ میرے بعد ہرگز کسی کے لیے حلال نہیں ہو گا۔ لہذا اس کے شکار کو پریشان نہ کیا جائے، اور نہ یہاں سے کانٹے کاٹے جائیں، اور یہاں گری پڑی چیز اٹھانا صرف اس کے لیے جائز ہے، جو اس کی تشہیر اور اعلان کرنا چاہتا ہو، اور جس انسان کا کوئی قریبی قتل کر دیا جائے اس کو دو چیزوں میں سے ایک کے انتخاب کا حق ہو گا، یا دیت لے لے یا قاتل کو (قصاص میں) قتل کر دیا جائے۔“ تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: «إِلَّا الْإِذْخِرَ» ”سوائے اذخر کے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3305]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1355
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1355 ترقیم شاملہ: -- 3306
حَدَّثَنِي إِسْحَاقَ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ شَيْبَانَ ، عَنْ يَحْيَى ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: إِنَّ خُزَاعَةَ قَتَلُوا رَجُلًا مِنْ بَنِي لَيْثٍ عَامَ فَتْحِ مَكَّةَ بِقَتِيلٍ مِنْهُمْ قَتَلُوهُ، فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَكِبَ رَاحِلَتَهُ فَخَطَبَ، فقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَبَسَ عَنْ مَكَّةَ الْفِيلَ، وَسَلَّطَ عَلَيْهَا رَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ، أَلَا وَإِنَّهَا لَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي، وَلَنْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ بَعْدِي، أَلَا وَإِنَّهَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنَ النَّهَارِ، أَلَا وَإِنَّهَا سَاعَتِي هَذِهِ حَرَامٌ، لَا يُخْبَطُ شَوْكُهَا، وَلَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا، وَلَا يَلْتَقِطُ سَاقِطَتَهَا، إِلَّا مُنْشِدٌ، وَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ، فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ، إِمَّا أَنْ يُعْطَى، يَعْنِي الدِّيَةَ، وَإِمَّا أَنْ يُقَادَ أَهْلُ الْقَتِيلِ "، قَالَ: فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ، يُقَالَ لَهُ: أَبُو شَاهٍ، فقَالَ: اكْتُبْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، فقَالَ: " اكْتُبُوا لِأَبِي شَاهٍ "، فقَالَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ: إِلَّا الْإِذْخِرَ، فَإِنَّا نَجْعَلُهُ فِي بُيُوتِنَا وَقُبُورِنَا، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِلَّا الْإِذْخِرَ ".
شیبان نے یحییٰ سے رو??? روایت کی، (کہا:) مجھے ابوسلمہ نے خبر دی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: فتح مکہ کے سال خزاعہ نے بنو لیث کا ایک آدمی اپنے ایک مقتول کے بدلے میں جسے انہوں نے (بنو لیث) نے قتل کیا تھا، قتل کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی گئی تو آپ اپنی سواری پر بیٹھے اور خطبہ ارشاد فرمایا: ”بلاشبہ اللہ عزوجل نے ہاتھی کو مکہ (پر حملے) سے روک دیا جبکہ اپنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنوں کو اس پر تسلط عطا کیا۔ مجھ سے پہلے یہ کسی کے لیے حلال نہیں تھا اور میرے بعد بھی ہرگز کسی کے لیے حلال نہ ہوگا۔ سن لو! یہ میرے لیے دن کی ایک گھڑی بھر حلال کیا گیا تھا اور (اب) یہ میری اس موجودہ گھڑی میں بھی حرمت والا ہے، نہ ڈنڈے کے ذریعے سے اس کے کانٹے جھاڑے جائیں، نہ اس کے درخت کاٹے جائیں اور نہ ہی اعلان کرنے والے کے سوا اس میں گری ہوئی چیز اٹھائے اور جس کا کوئی قریبی قتل کر دیا گیا اس کے لیے دو صورتوں میں سے وہ ہے جو (اس کی نظر میں) بہتر ہو: یا اسے عطا کر دیا جائے۔ یعنی خون بہا۔ یا مقتول کے گھر والوں کو اس سے بدلہ لینے دیا جائے۔“ کہا: تو اہل یمن میں سے ایک آدمی آیا جسے ابوشاہ کہا جاتا تھا، اس نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے لکھوا دیں، آپ نے فرمایا: ”ابوشاہ کو لکھ دو۔“ قریش کے ایک آدمی نے عرض کی: اذخر کے سوا، (کیونکہ) ہم اسے اپنے گھروں اور اپنی قبروں میں استعمال کرتے ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اذخر کے سوا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3306]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ خزاعہ نے فتح مکہ کے سال بنو لیث کا ایک آدمی اپنے ایک مقتول کے بدلے میں جو بنو لیث نے قتل کیا تھا، قتل کر دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری پر سوار ہو کر خطبہ دیا اور فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مکہ میں ہاتھی کو (داخل ہونے سے) روک دیا تھا، اور اس پر اپنے رسول اور مومنوں کو غلبہ عنایت فرمایا ہے، خبردار! یہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال قرار نہیں دیا گیا (کہ وہ اس پر حملہ آور ہو) اور نہ ہر گز میرے بعد کسی کے لیے حلال ہو گا، خبردار! میرے لیے بھی دن کے کچھ وقت کے لیے حلال قرار دیا گیا تھا، خبردار! اب وہ اس وقت محترم ہے، اس کے کانٹے گرائے نہیں جا سکیں گے، اور نہ ہی اس کے درخت کاٹے جائیں گے، اور اس کی گری پڑی چیز وہی اٹھا سکے گا جو تشہیر کرنا چاہتا ہو، اور جس شخص کا کوئی عزیز قتل کر دیا جائے تو اسے دو چیزوں میں سے ایک کے انتخاب کا حق حاصل ہو گا، یا تو اسے دیت دلوائی جائے گی یا مقتول کے ورثاء کو قصاص دلوایا جائے گا۔“ (قاتل ان کے حوالے کیا جائے گا کہ وہ قتل کر دیں) اس کے بعد ایک یمنی آدمی ابو شاہ نامی آیا اور اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے لکھوا دیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابو شاہ کو لکھ دو۔“ قریش میں سے ایک آدمی نے عرض کیا: «الْإِذْخِرُ» ”اذخر“ (گھاس کا استثنا کر دیں)۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3306]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1355
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة