صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
10. باب الامر بقتل الكلاب وبيان نسخه وبيان تحريم اقتنائها إلا لصيد او زرع او ماشية ونحو ذلك.
باب: کتوں کے قتل کا حکم پھر اس حکم کا منسوخ ہونا اور اس امر کا بیان کہ کتے کا پالنا حرام ہے مگر شکار یا کھیتی یا جانوروں کی حفاظت کے لیے یا ایسے ہی اور کسی کام کے واسطے۔
ترقیم عبدالباقی: 1570 ترقیم شاملہ: -- 4016
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ ".
امام مالک نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو مار دینے کا حکم دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4016]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”کتوں کو مارنے کا حکم دیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4016]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1570
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1570 ترقیم شاملہ: -- 4017
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: " أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ "، فَأَرْسَلَ فِي أَقْطَارِ الْمَدِينَةِ: أَنْ تُقْتَلَ.
عبیداللہ نے ہمیں نافع کے حوالے سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو مارنے کا حکم دیا۔ آپ نے انہیں مارنے کے لیے مدینہ کی اطراف میں آدمی روانہ کیے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4017]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”کتوں کو مار ڈالنے“ کا حکم دیا اور اس کے لیے مدینہ منورہ کے اطراف میں قتل کرنے کے لیے آدمی روانہ فرمائے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4017]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1570
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1570 ترقیم شاملہ: -- 4018
وحَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل وَهُوَ ابْنُ أُمَيَّةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَأْمُرُ بِقَتْلِ الْكِلَابِ "، فَنَنْبَعِثُ فِي الْمَدِينَةِ، وَأَطْرَافِهَا، فَلَا نَدَعُ كَلْبًا، إِلَّا قَتَلْنَاهُ، حَتَّى إِنَّا لَنَقْتُلُ كَلْبَ الْمُرَيَّةِ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ يَتْبَعُهَا.
اسماعیل بن امیہ نے ہمیں نافع سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کتوں کو مارنے کا حکم دیتے تھے۔ میں مدینہ اور اس کی اطراف میں تلاش کرتا، ہم کوئی کتا نہ چھوڑتے مگر اسے مار ڈالتے، حتیٰ کہ ہم دیہات سے آنے والی عورت کے کتے کو بھی، جو اس کے پیچھے آ جاتا تھا، قتل کر دیتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4018]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دیتے تھے، تو ہم مدینہ کے اندر اور اس کے اطراف میں آدمی بھیجتے اور ہم کوئی کتا قتل کیے بغیر نہ چھوڑتے، حتیٰ کہ ہم کسی جنگلی عورت کے پیچھے آنے والا کتا بھی قتل کر دیتے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4018]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1570
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة