صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
13. باب الامر بلزوم الجماعة عند ظهور الفتن وتحذير الدعاة إلى الكفر:
باب: فتنہ اور فساد کے وقت بلکہ ہر وقت مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہنا۔
ترقیم عبدالباقی: 1849 ترقیم شاملہ: -- 4790
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ يَرْوِيه، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ رَأَى مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا يَكْرَهُهُ فَلْيَصْبِرْ، فَإِنَّهُ مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ شِبْرًا فَمَاتَ فَمِيتَةٌ جَاهِلِيَّةٌ ".
حماد بن زید نے ہمیں جعد ابوعثمان سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابورجاء سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ حدیث روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنے امیر میں ایسی بات دیکھے جو اسے ناپسند ہے تو صبر کرے، کیونکہ جو شخص جماعت سے ایک بالشت بھی ہٹا اور (اسی حالت میں) مر گیا تو یہ جاہلیت کی موت ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4790]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنے امیر میں کوئی ناگوار چیز دیکھتا ہے وہ صبر سے کام لے (بغاوت نہ کرے) کیونکہ جو شخص ایک بالشت بھر جماعت سے الگ ہوتا ہے اور مر جاتا ہے تو اس کی موت جاہلیت کے انداز کی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4790]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1849
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1849 ترقیم شاملہ: -- 4791
وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا الْجَعْدُ ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ كَرِهَ مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا فَلْيَصْبِرْ عَلَيْهِ، فَإِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ خَرَجَ مِنَ السُّلْطَانِ شِبْرًا، فَمَاتَ عَلَيْهِ إِلَّا مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً ".
عبدالوارث نے ہمیں جعد سے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابورجاء عطاردی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو اپنے امیر کی کوئی بات بری لگے، وہ اس پر صبر کرے، کیونکہ لوگوں میں سے جو شخص بھی سلطان (کی اطاعت) سے ایک بالشت بھی باہر نکلا اور اسی حالت میں مر گیا تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4791]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنے امیر کی کسی بات کو ناپسند کیا، وہ اس (ناگواری) کو برداشت کرے، (اطاعت نہ چھوڑے) کیونکہ جو انسان بھی سلطان (اقتدار و حکومت) سے ایک بالشت بھر نکلتا ہے اور اسی حالت میں مر جاتا ہے، تو وہ جاہلیت کے دور کی موت مرتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4791]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1849
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة