صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
20. باب المبايعة بعد فتح مكة على الإسلام والجهاد والخير وبيان معنى: «لا هجرة بعد الفتح».
باب: مکہ کی فتح کے بعد اسلام یا جہاد یا نیکی پر بیعت ہونا، اور اس کے بعد ہجرت نہ ہونے کے معنی۔
ترقیم عبدالباقی: 1863 ترقیم شاملہ: -- 4826
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ أَبُو جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، حَدَّثَنِي مُجَاشِعُ بْنُ مَسْعُودٍ السُّلَمِيُّ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُبَايِعُهُ عَلَى الْهِجْرَةِ، فَقَالَ: " إِنَّ الْهِجْرَةَ قَدْ مَضَتْ لِأَهْلِهَا وَلَكِنْ عَلَى الْإِسْلَامِ وَالْجِهَادِ وَالْخَيْرِ ".
اسماعیل بن زکریا نے عاصم احول سے، انہوں نے ابوعثمان نہدی سے روایت کی، کہا: مجھے حضرت مجاشع بن مسعود سلمی رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی، کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہجرت پر بیعت کرنے کے لیے آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہجرت کی بیعت کرنے والوں کا وقت گزر گیا، البتہ اسلام، جہاد اور خیر پر بیعت (جائز) ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4826]
حضرت مجاشع بن مسعود سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت کے لیے بیعت کرنے کی خاطر حاضر ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہجرت، اصحابِ ہجرت کو مل چکی ہے، لیکن اب اسلام، جہاد اور نیکی کے کام کے لیے بیعت ہو سکتی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4826]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1863
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1863 ترقیم شاملہ: -- 4827
وحَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُجَاشِعُ بْنُ مَسْعُودٍ السُّلَمِيُّ ، قَالَ: جِئْتُ بِأَخِي أَبِي مَعْبَدٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْفَتْحِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَايِعْهُ عَلَى الْهِجْرَةِ، قَالَ: " قَدْ مَضَتِ الْهِجْرَةُ بِأَهْلِهَا "، قُلْتُ: فَبِأَيِّ شَيْءٍ تُبَايِعُهُ؟، قَالَ: " عَلَى الْإِسْلَامِ وَالْجِهَادِ وَالْخَيْرِ "، قَالَ أَبُو عُثْمَانَ: فَلَقِيتُ أَبَا مَعْبَدٍ فَأَخْبَرْتُهُ، بِقَوْلِ مُجَاشِعٍ، فَقَالَ: صَدَقَ
علی بن مسہر نے عاصم سے، انہوں نے ابوعثمان سے روایت کی، کہا: مجھے مجاشع بن مسعود سلمی رضی اللہ عنہ نے خبر دی، کہا: میں اپنے بھائی ابومعبدکے ساتھ فتح (مکہ) کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! اس سے ہجرت پر بیعت لے لیجیے، آپ نے فرمایا: ”ہجرت والوں کے ساتھ ہجرت (کا مرحلہ) گزر گیا۔“ میں نے عرض کی: پھر آپ کس بات پر اس سے بیعت لیں گے؟ آپ نے فرمایا: ”اسلام، جہاد اور خیر پر۔“ ابوعثمان نے کہا: میری حضرت ابومعبدرضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی تو میں نے ان کو حضرت مجاشع رضی اللہ عنہ کی حدیث سنائی، انہوں نے کہا: اس نے سچ کہا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4827]
حضرت مجاشع بن مسعود سلمی رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ فتحِ مکہ کے بعد میں اپنے بھائی ابو معبد رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا اور میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ اس سے ہجرت پر بیعت لیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہجرت مہاجرین کے لیے گزر چکی ہے۔“ میں نے پوچھا: آپ اس سے کس چیز پر بیعت لیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام، جہاد اور خیر پر۔“ ابو عثمان کہتے ہیں کہ میں ابو معبد سے ملا اور انہیں مجاشع کی بات بتائی تو انہوں نے کہا: اس نے سچ کہا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4827]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1863
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1863 ترقیم شاملہ: -- 4828
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عَاصِمٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ: فَلَقِيتُ أَخَاهُ، فَقَالَ: صَدَقَ مُجَاشِعٌ وَلَمْ يَذْكُرْ أَبَا مَعْبَدٍ.
محمد بن فضیل نے عاصم سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، کہا: میں حضرت مجاشع رضی اللہ عنہ کے بھائی سے ملا، انہوں نے کہا: اس نے سچ کہا، ابومعبدرضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4828]
امام صاحب ایک اور استاد سے یہی روایت بیان کرتے ہیں، اس میں ہے: میں اس کے بھائی سے ملا، تو اس نے کہا: مجاشع نے سچ کہا، انہوں نے ابو معبد رضی اللہ عنہ کا نام نہیں لیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4828]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1863
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة