صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
28. باب التداوي بالعود الهندي وهو الكست:
باب: عود ہندی کے ذریعے علاج کرنے کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 2214 ترقیم شاملہ: -- 5763
قَالَتْ: وَدَخَلْتُ عَلَيْهِ بِابْنٍ لِي قَدْ أَعْلَقْتُ عَلَيْهِ مِنَ الْعُذْرَةِ، فَقَالَ: " عَلَامَهْ تَدْغَرْنَ أَوْلَادَكُنَّ بِهَذَا الْعِلَاقِ عَلَيْكُنَّ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ، فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ مِنْهَا ذَاتُ الْجَنْبِ يُسْعَطُ مِنَ الْعُذْرَةِ وَيُلَدُّ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ ".
انہوں نے (ام قیس رضی اللہ عنہا) کہا: میں اپنے ایک بچے کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، میں نے اس کے گلے میں سوزش کی بنا پر اس کے حلق کو انگلی سے اوپر کی طرف دبایا تھا (تاکہ سوزش کی وجہ سے لٹکا ہوا حصہ اوپر ہو جائے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم انگلیوں کے دباؤ کے ذریعے سے اپنے بچوں کا گلا کیوں دباتی ہو؟ (آپ نے بچوں کے لیے اس تکلیف دہ طریقہ علاج کو ناپسند فرمایا۔) تم عود ہندی کا استعمال لازم کر لو۔ اس میں سات اقسام کی شفا ہے ان میں سے ایک نمونیا حلق کی سوزش کے لیے اس کو ناک کے راستے استعمال کیا جاتا ہے۔ اور نمونیے کے لیے اسے منہ میں انڈیلا جاتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5763]
اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے بیٹے کو لے کر گئی، جس کے گلے کو میں نے تالو کے ورم کی بنا پر دبایا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس طرح اپنے بچوں کا گلا کیوں دباتی ہو؟ تم اس عود ہندی کو لازم پکڑو، اس میں سات چیزوں سے شفا ہے، ان میں سے ایک پسلیوں کا ورم اور نمونیا ہے، گلے کے ورم کی صورت میں ناک کے نتھنے سے اور پسلیوں کے ورم یا نمونیا کی صورت میں منہ کی ایک جانب سے۔“ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5763]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2214
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2214 ترقیم شاملہ: -- 5764
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ، قال: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ أُمَّ قَيْسٍ بِنْتَ مِحْصَنٍ ، وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الْأُوَلِ اللَّاتِي بَايَعْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهِيَ أُخْتُ عُكَّاشَةَ بْنِ مِحْصَنٍ أَحَدِ بَنِي أَسَدِ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي أَنَّهَا أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لَهَا لَمْ يَبْلُغْ أَنْ يَأْكُلَ الطَّعَامَ، وَقَدْ أَعْلَقَتْ عَلَيْهِ مِنَ الْعُذْرَةِ، قَالَ يُونُسُ: أَعْلَقَتْ غَمَزَتْ فَهِيَ تَخَافُ أَنْ يَكُونَ بِهِ عُذْرَةٌ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَامَهْ تَدْغَرْنَ أَوْلَادَكُنَّ بِهَذَا الْإِعْلَاقِ عَلَيْكُمْ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ يَعْنِي بِهِ الْكُسْتَ، فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ مِنْهَا ذَاتُ الْجَنْبِ "،
یونس بن یزید نے کہا کہ ابن شہاب نے انہیں بتایا کہا: مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے خبر دی کہ حضرت ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا۔ پہلے پہل ہجرت کرنے والی ان خواتین میں سے تھیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیعت کی تھی۔ یہ بنو اسد بن خزیمہ کے فرد حضرت عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کی بہن تھیں۔ کہا: انہوں نے مجھے خبر دی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ایک بیٹے کو لے کر آئیں جو ابھی کھانا کھانے کی عمر کو نہیں پہنچا تھا، انہوں نے گلے کی سوزش کی بنا پر اس کے حلق کو انگلی سے دبایا تھا۔ یونس نے کہا حلق دبایا تھا۔ یعنی انگلی چبھوئی تھی (تاکہ فاسد خون نکل جائے) انہیں یہ خوف تھا کہ اس گلے کے اندر سوزش ہے۔ انہوں (ام قیس رضی اللہ عنہا) نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس انگلی چبھونے والے طریقے سے تم اپنے بچوں کا گلا کیوں دباتی ہو؟ اس عود ہندی یعنی کست کا استعمال کرو کیونکہ اس میں سات اقسام کی شفا ہے ان میں سے ایک نمونیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5764]
حضرت ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا جو پہلی مہاجرات میں سے ہیں، جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تھی اور حضرت عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ ہیں، جو بنو اسد بن خزیمہ کے ایک فرد ہیں، وہ بیان کرتی ہیں کہ وہ اپنے بیٹے کو، جو کھانا کھانے کی عمر کو نہیں پہنچا تھا اور کوا گرنے کی بنا پر وہ اس کے حلق کو دبا چکی تھیں، لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، یونس کہتے ہیں کہ انہوں نے کوا گرنے کے اندیشہ کے پیشِ نظر اس کا کوا اٹھایا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس طرح گلا دبا کر اپنی اولاد کو کیوں تکلیف پہنچاتی ہو؟ تم اس «الْعُودِ الْهِنْدِيِّ» ”عودِ ہندی“ یعنی کست (کوٹ) کو لازم پکڑو، کیونکہ اس میں سات بیماریوں سے شفا ہے، ان میں سے «ذَاتِ الْجَنْبِ» ”پسلیوں کے ورم“ کی بیماری بھی ہے“، اور بقول بعض نمونیا بھی ہے، ڈاکٹر خالد غزنوی نے «ذَاتِ الْجَنْبِ» کا معنی پلورسی کیا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب السلام/حدیث: 5764]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2214
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة