صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1. باب كَيْفِيَّةِ الْخَلْقِ الآدَمِيِّ فِي بَطْنِ أُمِّهِ وَكِتَابَةِ رِزْقِهِ وَأَجَلِهِ وَعَمَلِهِ وَشَقَاوَتِهِ وَسَعَادَتِهِ:
باب: انسان کا اپنی ماں کے پیٹ میں تخلیق کی کیفیت اور اس کے رزق، عمر، عمل، شقاوت و سعادت لکھے جانے کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 2648 ترقیم شاملہ: -- 6735
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: جَاءَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَيِّنْ لَنَا دِينَنَا كَأَنَّا خُلِقْنَا الْآنَ، فِيمَا الْعَمَلُ الْيَوْمَ؟ أَفِيمَا جَفَّتْ بِهِ الْأَقْلَامُ وَجَرَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ؟ أَمْ فِيمَا نَسْتَقْبِلُ؟ قَالَ: لَا، بَلْ فِيمَا جَفَّتْ بِهِ الْأَقْلَامُ وَجَرَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ، قَالَ: فَفِيمَ الْعَمَلُ، قَالَ زُهَيْرٌ: ثُمَّ تَكَلَّمَ أَبُو الزُّبَيْرِ بِشَيْءٍ لَمْ أَفْهَمْهُ، فَسَأَلْتُ مَا قَالَ؟ فَقَالَ: اعْمَلُوا، فَكُلٌّ مُيَسَّرٌ ".
ابوخیثمہ زہیر (بن حرب) نے ابوزبیر سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: حضرت سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ آئے اور عرض کی: اللہ کے رسول! آپ ہمارے لیے دین کو اس طرح بیان کیجیے، گویا ہم ابھی پیدا کیے گئے ہیں، آج کا عمل (جو ہم کر رہے ہیں) کس نوع میں آتا ہے؟ کیا اس میں جسے (لکھنے والی) قلمیں (لکھ کر) خشک ہو چکیں اور جو پیمانے مقرر کیے گئے ہیں ان کا سلسلہ جاری ہو چکا ہے (ہم بس انہی کے مطابق عمل کیے جا رہے ہیں؟) یا اس میں جو ہم از سر نو کر رہے ہیں (پہلے سے ان کے بارے میں کچھ طے نہیں؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ جسے لکھنے والی قلمیں (لکھ کر) خشک ہو چکیں اور جن کے مقرر شدہ پیمانوں کے مطابق عمل شروع ہو چکا۔“ انہوں نے کہا: تو پھر عمل کس لیے (کیا جائے؟) زہیر نے کہا: پھر اس کے بعد ابوزبیر نے کوئی بات کی جو میں نہیں سمجھ سکا، تو میں نے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا؟ انہوں نے کہا: (آپ نے فرمایا:) ”تم عمل کرو، ہر ایک کو سہولت میسر کی گئی ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب القدر/حدیث: 6735]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ نے آکر دریافت کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے لیے ہمارا دین (دستورِ زندگی) اس طرح بیان فرمائیں گویا ہم ابھی پیدا ہوئے ہیں (ہمیں کسی چیز کا پتا نہیں)، آج کل جو ہم کر رہے ہیں اس کی کیا صورت ہے؟ کیا یہ ان چیزوں میں سے ہے جنہیں قلم لکھ کر خشک ہو چکے ہیں اور تقدیر طے ہو چکی ہے یا ہم نئے سرے سے کر رہے ہیں (تقدیر کا دخل نہیں ہے)؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ ان امور میں سے ہے جو قلم لکھ کر خشک ہو چکے ہیں اور تقدیر (فیصلہ) طے ہو چکا ہے۔“ انہوں نے عرض کیا: تو پھر عمل کی کیا حیثیت؟ زہیر کہتے ہیں: پھر ابوزبیر نے کوئی بات کہی جو میں سمجھ نہ سکا تو میں نے پوچھا: کیا کہا؟ انہوں نے کہا: آپ نے فرمایا: ”عمل کرتے رہو، ہر ایک کے لیے آسان کر دیے جائیں گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب القدر/حدیث: 6735]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2648
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2648 ترقیم شاملہ: -- 6736
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذَا الْمَعْنَى وَفِيهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُلُّ عَامِلٍ مُيَسَّرٌ لِعَمَلِهِ.
عمرو بن حارث نے ابوزبیر سے، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی معنی میں روایت کی اور اس میں یہ الفاظ ہیں: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر عمل کرنے والا اپنے عمل کے لیے آسانی پاتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب القدر/حدیث: 6736]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما اس کے ہم معنی روایت کرتے ہیں، اس میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر عمل کرنے والے کے لیے اس کا عمل آسان کر دیا جاتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب القدر/حدیث: 6736]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2648
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة