صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
5. باب قَبُولِ التَّوْبَةِ مِنَ الذُّنُوبِ وَإِنْ تَكَرَّرَتِ الذُّنُوبُ وَالتَّوْبَةُ:
باب: گناہوں کی توبہ کا قبول ہونا خواہ گناہ اور توبہ بار بار ہوں۔
ترقیم عبدالباقی: 2758 ترقیم شاملہ: -- 6986
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَحْكِي عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: " أَذْنَبَ عَبْدٌ ذَنْبًا، فَقَالَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي، فَقَالَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: أَذْنَبَ عَبْدِي ذَنْبًا، فَعَلِمَ أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ، وَيَأْخُذُ بِالذَّنْبِ ثُمَّ عَادَ، فَأَذْنَبَ، فَقَالَ: أَيْ رَبِّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي، فَقَالَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: عَبْدِي أَذْنَبَ ذَنْبًا، فَعَلِمَ أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَأْخُذُ بِالذَّنْبِ، ثُمَّ عَادَ، فَأَذْنَبَ، فَقَالَ: أَيْ رَبِّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي، فَقَالَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: أَذْنَبَ عَبْدِي ذَنْبًا، فَعَلِمَ أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ، وَيَأْخُذُ بِالذَّنْبِ اعْمَلْ مَا شِئْتَ، فَقَدْ غَفَرْتُ لَكَ، قَالَ عَبْدُ الْأَعْلَى: لَا أَدْرِي، أَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ اعْمَلْ مَا شِئْتَ "،
عبدالاعلیٰ بن حماد نے مجھے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں حماد بن سلمہ نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے حدیث سنائی، انہوں نے عبدالرحمان بن ابی عمرہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب عزوجل سے نقل کرتے ہوئے فرمایا: ”ایک بندے نے گناہ کیا، اس نے کہا: «اللہم اغفر لی ذنبی» اے اللہ! میرا گناہ بخش دے، تو (اللہ) تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: میرے بندے نے گناہ کیا ہے، اس کو پتہ ہے کہ اس کا رب ہے جو گناہ معاف بھی کرتا ہے اور گناہ پر گرفت بھی کرتا ہے، اس بندے نے پھر گناہ کیا تو کہا: «رب اغفر لی ذنبی» میرے رب! میرا گناہ بخش دے، تو (اللہ) تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: میرا بندہ ہے، اس نے گناہ کیا ہے تو اسے معلوم ہے کہ اس کا رب ہے جو گناہ بخش دیتا ہے اور (چاہے تو) گناہ پر پکڑتا ہے۔ اس بندے نے پھر سے وہی کیا، گناہ کیا اور کہا: «رب اغفر لی ذنبی» میرے رب! میرے لیے میرا گناہ بخش دے، تو (اللہ) تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: میرے بندے نے گناہ کیا تو اسے معلوم ہے کہ اس کا رب ہے جو گناہ بخشتا ہے اور (چاہے تو) گناہ پر پکڑ لیتا ہے، (میرے بندے! اب تو) جو چاہے کر، میں نے تجھے بخش دیا ہے۔“ عبدالاعلیٰ نے کہا: مجھے (پوری طرح) معلوم نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری بار فرمایا یا چوتھی بار: ”جو چاہے کر۔“ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6986]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب عزوجل سے نقل کرتے ہوئے فرمایا: ”ایک بندے نے گناہ کیا، پھر کہا: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي» ”اے اللہ! میرا گناہ بخش دے“ تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ”میرے بندے نے ایک گناہ کیا ہے اور اسے پتہ ہے، اس کا رب ہے جو گناہ بخش دیتا ہے اور گناہ پر پکڑ کرتا ہے“، پھر اس نے دوبارہ گناہ کیا، چنانچہ کہا: «أَيْ رَبِّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي» ”اے میرے رب! مجھے میرا گناہ بخش دے“ تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ”میرے بندے نے ایک گناہ کیا ہے اور اسے علم ہے، اس کا رب ہے جو گناہ بخش دیتا ہے اور گناہ پر گرفت بھی کرتا ہے“، پھر اس نے سہ بارہ گناہ کیا اور عرض کیا: «أَيْ رَبِّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي» ”اے میرے رب! مجھے میرا گناہ بخش دے“ سو اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ”میرے بندے نے ایک گناہ کیا ہے اور اس نے جان لیا ہے، اس کا رب ہے جو گناہ بخش دیتا ہے، اس پر گرفت بھی کر سکتا ہے، «اعْمَلْ مَا شِئْتَ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكَ» ”جو چاہے عمل کر، (معافی مانگ) میں نے تجھے معافی دے دی“۔“ عبدالاعلیٰ کہتے ہیں: مجھے یاد نہیں ہے، آپ نے تیسری دفعہ کہا، یا چوتھی دفعہ: ”جو چاہے عمل کر“۔ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6986]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2758
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2758 ترقیم شاملہ: -- 6987
قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ زَنْجُويَةَ الْقُرَشِيُّ الْقُشَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ،
محمد بن زنجویہ قشیری نے کہا: ہمیں عبدالاعلیٰ بن حماد نرسی نے اسی سند کے ساتھ (یہی) حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6987]
امام صاحب ایک اور استاد سے یہی روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6987]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2758
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2758 ترقیم شاملہ: -- 6988
حَدَّثَنِي عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، قَالَ: كَانَ بِالْمَدِينَةِ قَاصٌّ يُقَالُ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ ، قَالَ: فَسَمِعْتُهُ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِنَّ عَبْدًا أَذْنَبَ ذَنْبًا بِمَعْنَى حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، وَذَكَرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ أَذْنَبَ ذَنْبًا وَفِي الثَّالِثَةِ قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِي، فَلْيَعْمَلْ مَا شَاءَ.
ہمام نے کہا: ہمیں اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مدینہ میں ایک واعظ تھا جسے عبدالرحمان بن ابی عمرہ کہا جاتا تھا، میں نے اسے کہتے ہوئے سنا کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”یقیناً ایک بندے نے گناہ کیا“ (آگے) حماد بن سلمہ کی حدیث کے مطابق بیان کیا اور اس نے ”گناہ کیا“ (کے الفاظ) تین بار کہے اور تیسری دفعہ کے بعد کہا: ”میں نے اپنے بندے کو بخش دیا، لہٰذا جو چاہے کرے۔“ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6988]
ایک واعظ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے بتایا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”ایک بندے نے ایک گناہ کیا“ مذکورہ بالا حدیث بیان کی، تین دفعہ ذکر کیا، ”اس نے ایک گناہ کیا اور تیسری بار کہا: میں نے اپنے بندے کو بخش دیا، جو چاہے عمل کرے (بخش طلب کرتا رہے)۔“ [صحيح مسلم/كتاب التوبة/حدیث: 6988]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2758
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة