صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
14. باب مثل المؤمن كالزرع ومثل الكافر كشجر الارز:
باب: مومن اور کافر کی مثال۔
ترقیم عبدالباقی: 2809 ترقیم شاملہ: -- 7092
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الزَّرْعِ لَا تَزَالُ الرِّيحُ تُمِيلُهُ، وَلَا يَزَالُ الْمُؤْمِنُ يُصِيبُهُ الْبَلَاءُ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَثَلِ شَجَرَةِ الْأَرْزِ لَا تَهْتَزُّ حَتَّى تَسْتَحْصِدَ "،
عبدالاعلیٰ نے ہمیں معمر سے حدیث بیان کی، انہوں نے زہری سے، انہوں نے سعید سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کی مثال کھیتی کی طرح ہے۔ ہوا مسلسل اس کو (ایک یا دوسری طرف) جھکاتی رہتی ہے اور مومن پر مسلسل مصیبتیں آتی رہتی ہیں، اور منافق کی مثال ویدار درخت کی طرح ہے (جس کا تنا ہوا میں بھی تن کر کھڑا رہتا ہے)۔ جھکتا نہیں حتیٰ کہ (ایک ہی بار) اسے کاٹ کر گرا دیا جاتا ہے“۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7092]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کی تمثیل کھیتی کی سی ہے، ہمیشہ ہوا اس کو جھکاتی رہتی ہے اور مومن کو بھی ہمیشہ آزمائش و ابتلاء یا مصیبت سے دوچار ہونا پڑتا ہے اور منافق کی مثل زمین میں مضبوطی سے پیوست درخت کی ہے جو اس وقت تک ہلتا نہیں ہے جب تک اسے کاٹ نہ لیا جائے۔“ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7092]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2809
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2809 ترقیم شاملہ: -- 7093
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حميد ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ مَكَانَ قَوْلِهِ تُمِيلُهُ تُفِيئُهُ.
عبدالرزاق نے کہا: ہمیں معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ خبر دی مگر عبدالرزاق کی حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان: ”اسے جھکاتی رہتی ہے“ کے بجائے ”اسے موڑتی رہتی ہے“ کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7093]
یہی روایت دو اور اساتذہ سے عبدالرزاق کی سند سے بیان کرتے ہیں اور اس میں «تُمِيلُهُ» کی جگہ «تُفِيئُهُ» ہے، معنی دونوں کا ”جھکانا مائل کرنا“ ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب صفة القيامة والجنة والنار/حدیث: 7093]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2809
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة