🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. باب النار يدخلها الجبارون والجنة يدخلها الضعفاء:
باب: اس بات کے بیان میں کہ دوزخ میں ظالم و متکبر داخل ہوں گے اور جنت میں کمزور و مسکین داخل ہوں گے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2856 ترقیم شاملہ: -- 7192
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ لُحَيِّ بْنِ قَمْعَةَ بْنِ خِنْدِفَ أَبَا بَنِي كَعْبٍ هَؤُلَاءِ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ ".
سہیل کے والد (ابوصالح) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے عروہ بن لحی بن قمعہ بن خندف، ان بنو کعب والوں کے جذع اعلیٰ کو دیکھا، وہ جہنم میں اپنی انتڑیاں گھسیٹ رہا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7192]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے ان بنو کعب کے باپ عمرو بن لحی بن قمعہ بن خندف کو آگ میں اپنی انتڑیاں گھسیٹتے ہوئے دیکھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7192]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2856
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2856 ترقیم شاملہ: -- 7193
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ عَبد بن حميد: أَخْبَرَنِي، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، يَقُولُ: إِنَّ الْبَحِيرَةَ الَّتِي يُمْنَعُ دَرُّهَا لِلطَّوَاغِيتِ، فَلَا يَحْلُبُهَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ، وَأَمَّا السَّائِبَةُ الَّتِي كَانُوا يُسَيِّبُونَهَا لِآلِهَتِهِمْ، فَلَا يُحْمَلُ عَلَيْهَا شَيْءٌ، وَقَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ عَامِرٍ الْخُزَاعِيَّ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ، وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ سَيَّبَ السُّيُوبَ ".
ابن شہاب نے کہا: میں نے سعید بن مسیب سے سنا، وہ کہتے ہیں: بحیرہ وہ جانور ہے جس کا دودھ جھوٹے خداؤں (بتوں) کے چڑھاوے کے لیے دوہنا بند کر دیا جاتا ہے، اس لیے کوئی شخص ان کو نہیں دوہتا تھا، اور سائبہ وہ جانور ہے جسے جھوٹے خداؤں (کی سواری کے لیے) کھلا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اس پر کوئی چیز تک نہیں لادی جاتی۔ اور ابن مسیب نے کہا: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے عمرو بن عامر خزاعی کو دیکھا، وہ جہنم میں اپنی انتڑیاں گھسیٹ رہا تھا، وہ پہلا شخص تھا جس نے سب سے پہلے (بتوں کے نام پر) کھلا چھوڑا جانے والا جانور چھوڑا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7193]
حضرت سعید بن المسیب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، «بَحِيْرَة» بحیرہ وہ جانور ہے جس کا دودھ بتوں کے لیے روک لیا جاتا ہے، چنانچہ ان کو کوئی شخص اپنے لیے نہیں دوہتا تھا اور «سَآئِبَة» سائبہ وہ جانور ہے جسے لوگ اپنے معبودان باطلہ کے لیے چھوڑ دیتے تھے اور ان پر کوئی چیز نہیں لادی جاتی تھی۔ ابن المسیب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے عمرو بن عامر خزاعی کو آگ میں اپنی انتڑیاں گھسیٹتے دیکھا اور وہ پہلا شخص ہے، جس نے حیوانوں کو بتوں کے لیے چھوڑا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7193]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2856
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں