🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
213. باب كفارة من تركها
باب: جمعہ چھوڑنے والے کے کفارہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1054
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ أَيُّوبَ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ قُدَامَةَ بْنِ وَبَرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ فَاتَتْهُ الْجُمُعَةُ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ فَلْيَتَصَدَّقْ بِدِرْهَمٍ، أَوْ نِصْفِ دِرْهَمٍ، أَوْ صَاعِ حِنْطَةٍ، أَوْ نِصْفِ صَاعٍ". قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ هَكَذَا، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" مُدًّا أَوْ نِصْفَ مُدٍّ"، وَقَالَ: عَنْ سَمُرَةَ: قَالَ أَبُو دَاوُد: سَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ يُسْأَلُ عَنِ اخْتِلَافِ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: هَمَّامٌ عِنْدِي أَحْفَظُ مِنْ أَيُّوبَ يَعْنِي أَبَا الْعَلَاءِ.
قدامہ بن وبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس سے بغیر عذر کے جمعہ چھوٹ جائے تو اسے چاہیئے کہ وہ ایک درہم یا نصف درہم یا ایک صاع گیہوں یا نصف صاع گیہوں صدقہ دے ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے سعید بن بشیر نے قتادہ سے اسی طرح روایت کیا ہے مگر انہوں نے اپنی روایت میں مد یا نصف مد کہا ہے نیز «عن سمرة» کہا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل سے سنا ان سے اس حدیث کے اختلاف کے متعلق پوچھا جا رہا تھا تو انہوں نے کہا: میرے نزدیک ہمام ایوب ابو العلاء سے زیادہ حفظ میں قوی ہیں۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1054]
قدامہ بن وبرہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص سے بغیر کسی عذر کے ایک جمعہ رہ گیا ہو، تو وہ ایک درہم یا آدھا درہم یا ایک صاع یا آدھا صاع گندم صدقہ کرے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: اس کو سعید بن بشیر نے قتادہ (راوی) سے ایسے ہی روایت کیا ہے، مگر اس نے ایک مد یا آدھا مد کہا ہے اور سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے سنا، ان سے اس حدیث میں اختلاف کے بارے میں سوال کیا گیا تھا، تو انہوں نے کہا: میرے نزدیک ایوب یعنی ابو العلاء کی نسبت ہمام احفظ ہے۔ (یعنی زیادہ یاد رکھنے والا ہے۔) [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1054]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 4631، 19231) (ضعیف) (قدامہ مجہول ہیں، نیز سند میں ان کے درمیان اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان دو آدمیوں کا انقطاع ہے)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: صاع ڈھائی کلو گرام کا، درھم: چاندی کا سکہ تین گرام کے سے کچھ کم (۹۷۵,۲)۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (1053)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 49

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1052
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبِيدَةُ بْنُ سُفْيَانَ الْحَضْرَمِيُّ، عَنْ أَبِي الْجَعْدِ الضَّمْرِيِّ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ تَرَكَ ثَلَاثَ جُمَعٍ تَهَاوُنًا بِهَا طَبَعَ اللَّهُ عَلَى قَلْبِهِ".
ابوجعد ضمری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (انہیں شرف صحبت حاصل تھا) وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص سستی سے تین جمعہ چھوڑ دے تو اس کی وجہ سے اللہ اس کے دل پر مہر لگا دے گا ۱؎۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1052]
سیدنا ابوالجعد ضمری رضی اللہ عنہ (صحابی) سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص غفلت اور سستی سے تین جمعے چھوڑ دے اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1052]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/ الصلاة 242 (الجمعة 7) (500)، سنن النسائی/الجمعة 2 (1370)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 93 (1125)، (تحفة الأشراف: 11883)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجمعة 9 (20)، مسند احمد (3/424)، سنن الدارمی/الصلاة 205 (1612) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس مہر کے لگ جانے سے خیر اور ہدایت کی چیز اس کے دل میں داخل نہیں ہو سکے گی۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1371)
أخرجه الترمذي (500 وسنده حسن) والنسائي (1370 وسنده حسن) وابن ماجه (1125 وسنده حسن) محمد بن عمرو بن علقمة الليثي وثقه الجمھور

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں