🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب صلاة المسافر
باب: مسافر کی نماز کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1199
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَمُسَدَّدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ. ح وحَدَّثَنَا خُشَيْشٌ يَعْنِي ابْنَ أَصْرَمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَيْهِ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ: قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: أَرَأَيْتَ إِقْصَارَ النَّاسِ الصَّلَاةَ، وَإِنَّمَا قَالَ تَعَالَى: إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا سورة النساء آية 101، فَقَدْ ذَهَبَ ذَلِكَ الْيَوْمَ؟ فَقَالَ: عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْهُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ" صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللَّهُ بِهَا عَلَيْكُمْ فَاقْبَلُوا صَدَقَتَهُ".
یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا: مجھے بتائیے کہ (سفر میں) لوگوں کے نماز قصر کرنے کا کیا مسئلہ ہے اللہ تعالیٰ تو فرما رہا ہے: اگر تمہیں ڈر ہو کہ کافر تمہیں فتنہ میں مبتلا کر دیں گے، تو اب تو وہ دن گزر چکا ہے تو آپ نے کہا: جس بات پر تمہیں تعجب ہوا ہے اس پر مجھے بھی تعجب ہوا تھا تو میں نے اس کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تبارک و تعالیٰ نے تم پر یہ صدقہ کیا ہے لہٰذا تم اس کے صدقے کو قبول کرو ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1199]
جناب یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا: بتائیے کہ لوگوں کا (سفر میں) نماز قصر کرنا کیوں کر ہے؟ حالانکہ اللہ عزوجل نے فرمایا ہے: ﴿اگر تمہیں ڈر محسوس ہو کہ کفار تمہیں فتنے میں ڈال دیں گے﴾ [سورة النساء: 101] اور اب کفار سے ڈر خوف والی کیفیت تو ختم ہو چکی ہے۔ انہوں نے جواب دیا: مجھے بھی یہی تعجب ہوا تھا جو تمہیں ہوا ہے۔ پس میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: یہ صدقہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے تم پر کیا ہے۔ سو اس کا صدقہ قبول کرو۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1199]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المسافرین 1 (686)، سنن الترمذی/تفسیر سورة النساء 5 (3034)، سنن النسائی/تقصیر الصلاة 1 (1434)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 73 (1065)، (تحفة الأشراف: 10659)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/25، 36)، سنن الدارمی/الصلاة 179 (1546) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: قصر نماز حالت خوف کے ساتھ خاص نہیں بلکہ امت کی آسانی کے لئے اسے سفر میں مشروع قرار دیا گیا خواہ سفر پر امن ہی کیوں نہ ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (686)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1223
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَفْصِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: صَحِبْتُ ابْنَ عُمَرَ فِي طَرِيقٍ، قَالَ: فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَقْبَلَ، فَرَأَى نَاسًا قِيَامًا، فَقَالَ: مَا يَصْنَعُ هَؤُلَاءِ؟ قُلْتُ: يُسَبِّحُونَ، قَالَ: لَوْ كُنْتُ مُسَبِّحًا أَتْمَمْتُ صَلَاتِي، يَا ابْنَ أَخِي، إِنِّي صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ" فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ" وَصَحِبْتُ أَبَا بَكْرٍ فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَصَحِبْتُ عُمَرَ فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ تَعَالَى، وَصَحِبْتُ عُثْمَانَ فَلَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ تَعَالَى، وَقَدْ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21.
حفص بن عاصم کہتے ہیں کہ میں ایک سفر میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ رہا تو آپ نے ہم کو دو رکعت نماز پڑھائی پھر متوجہ ہوئے تو دیکھا کہ کچھ لوگ (نماز کی حالت میں) کھڑے ہیں، پوچھا: یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: یہ نفل پڑھ رہے ہیں، تو آپ نے کہا: بھتیجے! اگر مجھے نفل ۱؎ پڑھنی ہوتی تو میں اپنی نماز ہی پوری پڑھتا، میں سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا لیکن آپ نے دو سے زیادہ رکعتیں نہیں پڑھیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دے دی، پھر میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا انہوں نے بھی دو رکعت سے زیادہ نہیں پڑھیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں وفات دے دی، اور عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا انہوں نے بھی دو سے زیادہ رکعتیں نہیں پڑھیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں وفات دے دی، مجھے (سفر میں) عثمان رضی اللہ عنہ کی رفاقت بھی ملی لیکن انہوں نے بھی دو سے زیادہ رکعتیں نہیں پڑھیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں وفات دے دی، اور اللہ عزوجل فرما چکا ہے: «لقد كان لكم في رسول الله أسوة حسنة‏» تمہارے لیے اللہ کے رسول کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1223]
سیدنا حفص بن عاصم بن عمر بن خطاب رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ میں ایک سفر میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا، انہوں نے ہم کو دو رکعتیں پڑھائیں، پھر (اپنی منزل میں) آ گئے اور کچھ لوگوں کو قیام کرتے دیکھا اور پوچھا کہ: یہ لوگ کیا کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: یہ نفل پڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا: اگر مجھے نفل ہی پڑھنے ہوتے تو میں اپنی (فرض) نماز پوری کر لیتا۔ اے بھتیجے! میں سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا ہوں، آپ نے دو رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھیں، حتیٰ کہ اللہ نے ان کو قبض کر لیا۔ اور میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صحبت میں رہا ہوں، انہوں نے بھی دو رکعت سے زیادہ نہیں پڑھیں، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو قبض کر لیا۔ اور میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی صحبت میں رہا ہوں، انہوں نے بھی دو رکعت سے زیادہ نہیں پڑھیں، حتیٰ کہ اللہ نے ان کو قبض کر لیا۔ اور میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی صحبت میں رہا ہوں، انہوں نے بھی دو رکعت سے زیادہ نہیں پڑھیں، حتیٰ کہ اللہ عزوجل نے ان کو قبض کر لیا، اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ [سورة الأحزاب: 21] تمہارے لیے اللہ کے رسول میں بہترین نمونہ ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب صلاة السفر/حدیث: 1223]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/تقصیر الصلاة 11 (1101)، صحیح مسلم/المسافرین 1 (689)، سنن النسائی/تقصیر الصلاة 4 (1459)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 75 (1071)، (تحفة الأشراف: 6693)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 274 (الجمعة 39) (544)، مسند احمد (2/24، 56)، سنن الدارمی/المناسک 47 (1916) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: نفل کی دو قسمیں ہیں: راتب سنتیں اور غیر راتب سنتیں، راتب سنتیں فرض نماز سے پہلے یا بعد میں پڑھی جاتی ہیں، اور غیر راتب عام نفلی نماز کو کہا جاتا ہے تمام علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ مسافر عام نفلی نماز پڑھ سکتا ہے، البتہ سنن رواتب میں اختلاف ہے اور اس حدیث سے راتب سنتیں ہی مراد ہیں، اس سلسلہ میں راجح قول یہ ہے کہ سفر میں سنن رواتب کا نہ پڑھنا افضل ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1102) صحيح مسلم (689)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں