🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
28. باب ما يؤمر به من القصد في الصلاة
باب: نماز میں میانہ روی اختیار کرنے کا حکم ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1370
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ: كَيْفَ كَانَ عَمَلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ هَلْ كَانَ يَخُصُّ شَيْئًا مِنَ الْأَيَّامِ؟ قَالَتْ: لَا،" كَانَ كُلُّ عَمَلِهِ دِيمَةً" وَأَيُّكُمْ يَسْتَطِيعُ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَطِيعُ؟.
علقمہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کا حال کیسا تھا؟ کیا آپ عمل کے لیے کچھ دن خاص کر لیتے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر عمل مداومت و پابندی کے ساتھ ہوتا تھا اور تم میں کون اتنی طاقت رکھتا ہے جتنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکھتے تھے؟۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1370]
جناب علقمہ بیان کرتے ہیں، میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال کا کیا انداز تھا، کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی دن خاص کر رکھے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر عمل میں ہمیشگی ہوتی تھی اور تم میں وہ استطاعت کہاں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل تھی۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1370]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الرقاق 18 (6466)، صحیح مسلم/المسافرین 30 (783)، سنن الترمذی/الشمائل (310)، (تحفة الأشراف: 17406)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/43، 55، 174، 189، 278) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6466) صحيح مسلم (783)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1368
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" اكْلَفُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ، فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا، وَإِنَّ أَحَبَّ الْعَمَلِ إِلَى اللَّهِ أَدْوَمُهُ وَإِنْ قَلَّ، وَكَانَ إِذَا عَمِلَ عَمَلًا أَثْبَتَهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمل کرتے رہو جتنا تم سے ہو سکے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ (ثواب دینے سے) نہیں تھکتا یہاں تک کہ تم (عمل کرنے سے) تھک جاؤ، اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے جو پابندی کے ساتھ کیا جائے اگرچہ وہ کم ہو، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی کام شروع کرتے تو اس پر جمے رہتے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1368]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمل اسی قدر اختیار کرو جس کی تم میں طاقت ہو کیونکہ اللہ عزوجل (تمہیں ثواب دینے سے) نہیں اکتاتا، حتیٰ کہ تم ہی (عمل سے) اکتا جاؤ۔ بلاشبہ اللہ عزوجل کو وہی عمل محبوب ہے جو ہمیشہ ہو اگرچہ تھوڑا ہی ہو۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی عمل اختیار کرتے تو اس پر ہمیشگی کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/أبواب قيام الليل /حدیث: 1368]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الإیمان 32 (43)، الأذان 81 (730)، والتھجد 18 (1152)، واللباس 43 (5861)، والرقاق 18 (6465)، صحیح مسلم/المسافرین 30 (782)، سنن النسائی/القبلة 13 (763)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 36 (942)، (تحفة الأشراف: 17720)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/40، 51، 61، 241) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5861) صحيح مسلم (782)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں