🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. باب فِي الْمُعَوِّذَتَيْنِ
باب: سورۃ الفلق اور سورۃ الناس کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1463
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا أَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْجُحْفَةِ، وَالْأَبْوَاءِ، إِذْ غَشِيَتْنَا رِيحٌ وَظُلْمَةٌ شَدِيدَةٌ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ بِ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ، وَيَقُولُ:" يَا عُقْبَةُ، تَعَوَّذْ بِهِمَا، فَمَا تَعَوَّذَ مُتَعَوِّذٌ بِمِثْلِهِمَا" قَالَ: وَسَمِعْتُهُ يَؤُمُّنَا بِهِمَا فِي الصَّلَاةِ.
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں حجفہ اور ابواء کے درمیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا کہ اسی دوران اچانک ہمیں تیز آندھی اور شدید تاریکی نے ڈھانپ لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «قل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس» پڑھنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”اے عقبہ! تم بھی ان دونوں کو پڑھ کر پناہ مانگو، اس لیے کہ ان جیسی سورتوں کے ذریعہ پناہ مانگنے والے کی طرح کسی پناہ مانگنے والے نے پناہ نہیں مانگی“۔ عقبہ کہتے ہیں: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا آپ انہیں دونوں کے ذریعہ ہماری امامت فرما رہے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1463]
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بار میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا، ہم جحفہ اور ابواء کے درمیان تھے کہ آندھی آئی اور سخت اندھیرا چھا گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ [سورة الفلق: 1] اور ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ [سورة الناس: 1] پڑھنے لگے اور فرمانے لگے: ”اے عقبہ! ان کی تلاوت سے تعوذ کیا کرو۔ (اللہ سے پناہ مانگا کرو۔) کسی پناہ مانگنے والے نے ان سے بڑھ کر افضل کلمات سے پناہ نہیں مانگی۔“ عقبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”میں نے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہی سورتوں کے ساتھ نماز میں ہماری امامت فرماتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1463]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:9952) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن إسحاق مدلس وعنعن
والحديث السابق (الأصل : 1462) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 58

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5082
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ أَبِي أَسِيدٍ الْبَرَّادِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ:" خَرَجْنَا فِي لَيْلَةِ مَطَرٍ وَظُلْمَةٍ شَدِيدَةٍ نَطْلُبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصَلِّيَ لَنَا فَأَدْرَكْنَاهُ، فَقَالَ: أَصَلَّيْتُمْ؟ فَلَمْ أَقُلْ شَيْئًا , فَقَالَ: قُلْ فَلَمْ أَقُلْ شَيْئًا، ثُمَّ قَالَ: قُلْ , فَلَمْ أَقُلْ شَيْئًا، ثُمَّ قَالَ: قُلْ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَقُولُ؟ قَالَ: قُلْ: قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، حِينَ تُمْسِي وَحِينَ تُصْبِحُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ تَكْفِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ".
عبداللہ بن خبیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بارش کی ایک سخت اندھیری رات میں نماز پڑھانے کے لیے تلاش کرنے نکلے، تو ہم نے آپ کو پا لیا، آپ نے فرمایا: ”کیا تم لوگوں نے نماز پڑھ لی؟“ ہم نے کوئی جواب نہیں دیا، آپ نے فرمایا: ”کچھ کہو“ اس پر بھی ہم نے کچھ نہیں کہا، آپ نے پھر فرمایا: ”کچھ کہو“ (پھر بھی) ہم نے کچھ نہیں کہا، پھر آپ نے فرمایا: ”کچھ تو کہو“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا کہوں؟ آپ نے فرمایا: «قل هو الله أحد» اور معوذتین تین مرتبہ صبح کے وقت، اور تین مرتبہ شام کے وقت کہہ لیا کرو تو یہ تمہیں (ہر طرح کی پریشانیوں سے بچاؤ کے لیے) کافی ہوں گی۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 5082]
معاذ بن عبداللہ بن خبیب اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ ”ہم ایک بارش والی اور سخت اندھیری رات میں نکلے، جبکہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈھونڈ رہے تھے تاکہ وہ ہمیں نماز پڑھائیں۔ چنانچہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پا لیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہو۔“ تو میں کچھ نہ بولا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”کہو۔“ تو بھی میں کچھ نہ بولا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”کہو۔“ تو میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میں کیا کہوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہو: ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1] اور معوذتین یعنی ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ [سورة الفلق: 1] اور ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ [سورة الناس: 1] صبح اور شام تین تین بار یہ کہہ لو، تو ہر چیز سے تمہاری کفایت ہو جائے گی۔““ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 5082]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الدعوات 117 (3575)، سنن النسائی/الاستعاذة (5430)، (تحفة الأشراف: 5250) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (2163)
أخرجه الترمذي (3575 وسنده حسن) ورواه النسائي (5430 وسنده حسن) أبو أسيد ھو أسيد بن أبي أسيد

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں