سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. باب فِي الْمَقَامِ عِنْدَ الْبِكْرِ
باب: کنواری عورت سے نکاح کرنے پر کتنے دن اس کے ساتھ رہے؟
حدیث نمبر: 2122
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَةَ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ:" لَيْسَ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ هَوَانٌ، إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ وَإِنْ سَبَّعْتُ لَكِ سَبَّعْتُ لِنِسَائِي".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان سے نکاح کیا تو ان کے پاس تین رات رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے اپنے خاندان کے لیے بے عزتی مت تصور کرنا، اگر تم چاہو تو میں تمہارے پاس سات رات رہ سکتا ہوں لیکن پھر اپنی اور بیویوں کے پاس بھی سات سات رات رہوں گا“۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2122]
ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے شادی کی تو آپ (شروع ایام میں) ان کے ہاں تین دن ٹھہرے، پھر فرمایا: ”تم اپنے گھر والوں پر کوئی بے قدر و قیمت نہیں ہو۔ اگر چاہو تو میں تمہارے لیے سات دن رک جاتا ہوں۔ لیکن اگر تمہارے ہاں سات دن ٹھہرا، تو دیگر ازواج کے ہاں بھی سات سات ہی دن ٹھہروں گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2122]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الرضاع 12 (1460)، سنن ابن ماجہ/النکاح 26 (1917)، (تحفة الأشراف: 18229)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الکبری/ عشرة النساء (8925)، موطا امام مالک/النکاح 5(14)، مسند احمد (6/292، 296، 307)، سنن الدارمی/النکاح 27 (2256) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1460)
حدیث نمبر: 2123
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" لَمَّا أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفِيَّةَ، أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا". زَادَ عُثْمَانُ:" وَكَانَتْ ثَيِّبًا". وقَالَ: حَدَّثَنِي هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ، أَخْبَرَنَا أَنَسٌ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو ان کے پاس تین رات گزاری، اور وہ ثیبہ تھیں ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2123]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ”جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ (صفیہ بنت حیی) کو لے لیا (شادی کر لی) تو ان کے ہاں تین دن اقامت کی۔“ عثمان بن ابی شیبہ نے مزید کہا کہ ”وہ بیوہ تھیں۔“ اور (ان کی سند میں تصریح تحدیث و اخبار ہے۔) انہوں نے کہا: «حَدَّثَنِي هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ، أَخْبَرَنَا أَنَسٌ» ”مجھ سے ہشیم نے بیان کیا، ہمیں حمید نے خبر دی اور ہمیں انس نے خبر دی۔“ [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2123]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 786)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/99) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: عثمان بن ابی شیبہ کے الفاظ ہیں «کانت ثیباً» ثیبہ وہ عورت ہے جس کی شادی پہلے ہو چکی ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح