🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
35. باب كَرَاهِيَتِهِ لِلشَّابِّ
باب: جوان شخص کے لیے بیوی سے مباشرت کی کراہت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2387
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ يَعْنِي الزُّبَيْرِيَّ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي الْعنبس عَنْ الْأَغَرِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،" أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُبَاشَرَةِ لِلصَّائِمِ فَرَخَّصَ لَهُ، وَأَتَاهُ آخَرُ فَسَأَلَهُ، فَنَهَاهُ. فَإِذَا الَّذِي رَخَّصَ لَهُ شَيْخٌ وَالَّذِي نَهَاهُ شَابٌّ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روزہ دار کے بیوی سے چمٹ کر سونے کے متعلق پوچھا، آپ نے اس کو اس کی اجازت دی، اور ایک دوسرا شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے بھی اسی سلسلہ میں آپ سے پوچھا تو اس کو منع کر دیا، جس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی تھی، وہ بوڑھا تھا اور جسے منع فرمایا تھا وہ جوان تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2387]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ”ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا کہ روزہ دار شخص بیوی کے ساتھ لیٹے یا نہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اجازت دی۔ پھر دوسرا آیا اور اس نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو منع فرما دیا۔ دراصل آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس کو اجازت دی، وہ بوڑھا تھا اور جس کو منع فرمایا، وہ جوان تھا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2387]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12198) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (2006)
وللحديث شاھد عند البيھقي (4/231، 232)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2382
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، وَعَلْقَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ، وَيُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ، وَلَكِنَّهُ كَانَ أَمْلَكَ لِإِرْبِهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لیتے اور چمٹ کر سوتے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی خواہش پر سب سے زیادہ قابو رکھنے والے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2382]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لے لیا کرتے تھے اور روزے کی حالت میں بیوی کے ساتھ لیٹ بھی جاتے تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جذبات پر خوب ضبط رکھنے والے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2382]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الصوم 12 (1106)، سنن الترمذی/الصوم 32 (729)، (تحفة الأشراف: 1550، 15932، 17407)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم 24 (1928)، سنن ابن ماجہ/الصیام 19 (1684)، موطا امام مالک/الصیام 6(18)، مسند احمد (6/230)، سنن الدارمی/المقدمة 53 (698) والصوم 21 (1763) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1927) صحيح مسلم (1106)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں