🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. باب في حبس لحوم الأضاحي
باب: قربانی کے گوشت کو رکھ چھوڑنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2812
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ: دَفَّ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ حَضْرَةَ الأَضْحَى فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ادَّخِرُوا الثُّلُثَ، وَتَصَدَّقُوا بِمَا بَقِيَ قَالَتْ: فَلَمَّا كَانَ بَعْدُ ذَلِكَ، قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ كَانَ النَّاسُ يَنْتَفِعُونَ مِنْ ضَحَايَاهُمْ وَيَجْمُلُونَ مِنْهَا الْوَدَكَ، وَيَتَّخِذُونَ مِنْهَا الأَسْقِيَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَمَا ذَاكَ، أَوْ كَمَا قَالَ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ نَهَيْتَ عَنْ إِمْسَاكِ لُحُومِ الضَّحَايَا بَعْدَ ثَلَاثٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا نَهَيْتُكُمْ مِنْ أَجْلِ الدَّافَّةِ الَّتِي دَفَّتْ عَلَيْكُمْ فَكُلُوا وَتَصَدَّقُوا وَادَّخِرُوا".
عمرہ بنت عبدالرحمٰن کہتی ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں قربانی کے موقع پر (مدینہ میں) کچھ دیہاتی آ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین روز تک کا گوشت رکھ لو، جو باقی بچے صدقہ کر دو، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: تو اس کے بعد جب پھر قربانی کا موقع آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! لوگ اس سے پہلے اپنی قربانیوں سے فائدہ اٹھایا کرتے تھے، ان کی چربی محفوظ رکھتے تھے، ان کی کھالوں سے مشکیں بناتے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بات کیا ہے؟ یا ایسے ہی کچھ کہا، تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ نے قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ رکھنے سے منع فرما دیا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے اس وقت اس لیے منع کر دیا تھا کہ کچھ دیہاتی تمہارے پاس آ گئے تھے (اور انہیں بھی کچھ نہ کچھ کھانے کے لیے ملنا چاہیئے تھا)، اب قربانی کے گوشت کھاؤ، صدقہ کرو، اور رکھ چھوڑو۔ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2812]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں (ایک بار) عید الاضحی کے موقع پر دیہاتوں کے لوگ بہت زیادہ آ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی قربانیوں میں سے تین رات کے لیے رکھ لو اور باقی صدقہ کر دو۔ بیان کرتی ہیں کہ پھر اس کے بعد کا موقع آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! لوگ (پہلے) اپنی قربانیوں سے فائدہ اٹھاتے تھے، ان کی چربی جمع کر لیتے تھے اور ان (کی کھالوں) سے مشکیزے بنا لیتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو (اب) کیا ہوا؟ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے قربانی کا گوشت تین رات سے زیادہ رکھنے سے منع فرما دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں اس وجہ سے روکا تھا کہ تمہارے پاس دیہاتی لوگ بہت زیادہ آ گئے تھے۔ سو تم کھاؤ، صدقہ کرو اور رکھ بھی لو۔ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2812]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الأضاحي 5 (1971)، سنن النسائی/الضحایا 36 (4436)، (تحفة الأشراف: 16165، 17901)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأضاحي 14 (1511)، سنن ابن ماجہ/الأضاحي 16 (3160)، موطا امام مالک/الضحایا 4 (7)، مسند احمد (6/51) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1971)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2813
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ عَنْ نُبَيْشَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّا كُنَّا نَهَيْنَاكُمْ عَنْ لُحُومِهَا أَنْ تَأْكُلُوهَا فَوْقَ ثَلَاثٍ لِكَيْ تَسَعَكُمْ فَقَدْ جَاءَ اللَّهُ بِالسَّعَةِ فَكُلُوا وَادَّخِرُوا وَاتَّجِرُوا، أَلَا وَإِنَّ هَذِهِ الأَيَّامَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ وَذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
نبیشہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم نے تم لوگوں کو تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے اس واسطے منع کیا تھا کہ وہ تم سب کو پہنچ جائے، اب اللہ تعالیٰ نے گنجائش دے دی ہے تو کھاؤ اور بچا (بھی) رکھو اور (صدقہ دے کر) ثواب (بھی) کماؤ، سن لو! یہ دن کھانے، پینے اور اللہ عزوجل کی یاد (شکر گزاری) کے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2813]
سیدنا نبیشہ ہذلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم نے تم لوگوں کو قربانیوں کا گوشت تین دن سے زیادہ رکھنے سے اس لیے منع کیا تھا کہ تم سب کو گوشت پہنچ جائے اور (اب) اللہ تعالیٰ نے تمہیں وسعت دے دی ہے (اور غنی کر دیا ہے) پس کھاؤ، ذخیرہ کرو اور اجر کماؤ، خبردار! یہ دن کھانے پینے اور اللہ کا ذکر کرنے کے دن ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2813]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الفرع والعتیرة 2 (4241)، سنن ابن ماجہ/الأضاحي 16(3160)، (تحفة الأشراف: 11585)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/75، 76)، دی/ الأضاحی 6 (2001) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (2645)
أصله عند مسلم (1141)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں