سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب في الضرير يولى
باب: اندھے کو حاکم بنانا درست ہے۔
حدیث نمبر: 2931
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُخَرَّمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَخْلَفَ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ عَلَى الْمَدِينَةِ مَرَّتَيْنِ.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں دو مرتبہ (جب جہاد کو جانے لگے) اپنا قائم مقام (خلیفہ) بنایا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2931]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابنِ امِ مکتوم رضی اللہ عنہ کو دو بار مدینے کا والی بنایا تھا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2931]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (595)، (تحفة الأشراف: 1321) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: حافظ ابن عبدالبر کہتے ہیں کہ نسب اور سیر کے علماء کی ایک جماعت نے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے غزوات میں ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو تیرہ مرتبہ اپنا جانشین مقرر کیا ہے، اور قتادہ کے اس قول کی توجیہ یہ کی جاتی ہے کہ ان تک وہ روایتیں نہیں پہنچ سکی ہیں جو دوسروں تک پہنچی ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (595
انظر الحديث السابق (595
حدیث نمبر: 595
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَنْبَرِيُّ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَخْلَفَ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ يَؤُمُّ النَّاسَ وَهُوَ أَعْمَى".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو اپنا جانشین مقرر فرمایا، وہ لوگوں کی امامت کرتے تھے، حالانکہ وہ نابینا تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 595]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”(اپنے سفر غزوہ کے موقع پر) سیدنا عبداللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو اپنا جانشین بنایا تھا اور یہی لوگوں کو امامت کراتے تھے اور یہ نابینا تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 595]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 1321)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/192) (حسن صحیح)»
وضاحت: نابینے شخص کی امامت بلا کراہت جائز ہے بشرطیکہ اس میں صلاحیت ہو۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (1121)
وله شاھد عند ابن حبان (370 وسنده صحيح)
مشكوة المصابيح (1121)
وله شاھد عند ابن حبان (370 وسنده صحيح)