🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
123. باب الاِغْتِسَالِ مِنَ الْحَيْضِ
باب: حیض سے غسل کے طریقے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 315
حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ،عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا ذَكَرَتْ نِسَاءَ الْأَنْصَارِ فَأَثْنَتْ عَلَيْهِنَّ، وَقَالَتْ: لَهُنَّ مَعْرُوفًا، وَقَالَتْ: دَخَلَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فِرْصَةً مُمَسَّكَةً، قَالَ مُسَدَّدٌ: كَانَ أَبُو عَوَانَةَ، يَقُولُ: فِرْصَةً، وَكَانَ أَبُو الْأَحْوَصِ، يَقُولُ: قَرْصَةً.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے انصار کی عورتوں کا ذکر کیا تو ان کی تعریف کی اور ان کے حق میں بھلی بات کہی اور بولیں: ”ان میں سے ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی“، پھر راوی نے سابقہ مفہوم کی حدیث بیان کی، مگر اس میں انہوں نے «فرصة ممسكة» (مشک میں بسا ہوا پھاہا) کہا۔ مسدد کا بیان ہے کہ ابوعوانہ «فرصة» (پھاہا) کہتے تھے اور ابوالاحوص «قرصة» (روئی کا ٹکڑا) کہتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 315]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے انصار کی خواتین کا ذکر کیا اور ان کی مدح کی اور ذکرِ خیر کیا، کہا کہ ان میں سے ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی، اور اوپر والی حدیث کے ہم معنی بیان کیا، مگر اس روایت میں ہے: ”کستوری کا پھاہا لے۔“ مسدد نے کہا کہ ابوعوانہ «فِرْصَة» کا لفظ بیان کرتے تھے اور ابوالاحوص «قِرْصَة» ۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 315]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 17847) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 314
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، أَخْبَرَنَا سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَخَلَتْ أَسْمَاءُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تَغْتَسِلُ إِحْدَانَا إِذَا طَهُرَتْ مِنَ الْمَحِيضِ؟ قَالَ:" تَأْخُذُ سِدْرَهَا وَمَاءَهَا فَتَوَضَّأُ، ثُمَّ تَغْسِلُ رَأْسَهَا وَتَدْلُكُهُ حَتَّى يَبْلُغَ الْمَاءُ أُصُولَ شَعْرِهَا، ثُمَّ تُفِيضُ عَلَى جَسَدِهَا، ثُمَّ تَأْخُذُ فِرْصَتَهَا فَتَطَّهَّرُ بِهَا"، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ أَتَطَهَّرُ بِهَا؟ قَالَتْ عَائِشَةُ: فَعَرَفْتُ الَّذِي يَكْنِي عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لَهَا: تَتَبَّعِينَ بِهَا آثَارَ الدَّمِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اسماء (اسماء بنت شکل انصاریہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! جب ہم میں سے کوئی حیض سے پاک ہو تو وہ کس طرح غسل کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیر کی پتی ملا ہوا پانی لے کر وضو کرے، پھر اپنا سر دھوئے، اور اسے ملے یہاں تک کہ پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے، پھر اپنے سارے جسم پر پانی بہائے، پھر روئی کا پھاہا لے کر اس سے طہارت حاصل کرے“۔ اسماء نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اس (پھاہے) سے طہارت کس طرح حاصل کروں؟ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بات کنایۃً کہی وہ میں سمجھ گئی، چنانچہ میں نے ان سے کہا: تم اسے خون کے نشانات پر پھیرو۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 314]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں آئیں اور کہنے لگیں: ”اے اللہ کے رسول! جب ہم میں سے کوئی حیض سے پاک ہو، تو کیسے غسل کرے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیری کے پتے ملا پانی لے اور وضو کرے، پھر اپنا سر دھوئے اور خوب ملے حتیٰ کہ پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے، پھر باقی جسم پر پانی بہائے، پھر روئی کی پوٹلی لے اور اس سے طہارت حاصل کرے۔“ کہنے لگی: ”اے اللہ کے رسول! اس سے کیسے طہارت حاصل کروں؟“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں سمجھ گئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کہنا چاہتے ہیں، تو میں نے اسے بتایا کہ ”اسے خون کے مقام پر رکھو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 314]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الحیض 13 (332)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 124 (642)، (تحفة الأشراف: 17847)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحیض13 (314)، سنن النسائی/الطھارة 159 (252)، مسند احمد (6/147، سنن الدارمی/الطھارة 83 (800) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح، صحيح مسلم (332)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 316
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ يَعْنِي ابْنَ مُهَاجِرٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أَسْمَاءَ سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمَعْنَاهُ، قَالَ: فِرْصَةً مُمَسَّكَةً، قَالَتْ: كَيْفَ أَتَطَهَّرُ بِهَا؟ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، تَطَهَّرِي بِهَا وَاسْتَتِرِي بِثَوْبٍ، وَزَادَ: وَسَأَلَتْهُ عَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ، فَقَالَ: تَأْخُذِينَ مَاءَكِ فَتَطَّهَّرِينَ أَحْسَنَ الطُّهُورِ وَأَبْلَغَهُ، ثُمَّ تَصُبِّينَ عَلَى رَأْسِكِ الْمَاءَ ثُمَّ تَدْلُكِينَهُ حَتَّى يَبْلُغَ شُؤُونَ رَأْسِكِ، ثُمَّ تُفِيضِينَ عَلَيْكِ الْمَاءَ، قَالَ: وَقَالَتْ عَائِشَةُ: نِعْمَ النِّسَاءُ نِسَاءُ الْأَنْصَارِ، لَمْ يَكُنْ يَمْنَعُهُنَّ الْحَيَاءُ أَنْ يَسْأَلْنَ عَنِ الدِّينِ وَأَنْ يَتَفَقَّهْنَ فِيهِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اسماء رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، پھر آگے اسی مفہوم کی حدیث ہے، اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مشک لگا ہوا روئی کا پھاہا (لے کر اس سے پاکی حاصل کرو)“، اسماء نے کہا: اس سے میں کیسے پاکی حاصل کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سبحان اللہ! اس سے پاکی حاصل کرو“، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑے سے (اپنا چہرہ) چھپا لیا۔ اس حدیث میں اتنا اضافہ ہے کہ اسماء رضی اللہ عنہا نے غسل جنابت کے بارے میں بھی دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم پانی لے لو، پھر اس سے خوب اچھی طرح سے پاکی حاصل کرو، پھر اپنے سر پر پانی ڈالو، پھر اسے اتنا ملو کہ پانی بالوں کی جڑوں میں پہنچ جائے، پھر اپنے اوپر پانی بہاؤ“۔ راوی کہتے ہیں: عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: انصار کی عورتیں کتنی اچھی ہیں انہیں دین کا مسئلہ دریافت کرنے اور اس کو سمجھنے میں حیاء مانع نہیں ہوتی۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 316]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا اور مذکورہ بالا کے ہم معنی روایت کیا۔ اس میں ہے کہ ”کستوری کا پھاہا لے۔“ وہ کہنے لگیں: ”اس سے کس طرح طہارت حاصل کروں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ! اس سے پاکیزگی حاصل کر۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑے سے اپنا منہ چھپا لیا۔ اور اس میں اضافہ ہے کہ اس نے غسلِ جنابت کے متعلق پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا پانی لو اور اس سے خوب اچھی طرح مکمل وضو کرو، پھر اپنے سر پر پانی ڈالو، پھر اسے ملو، حتیٰ کہ بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے، پھر باقی جسم پر پانی بہاؤ۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”انصار کی عورتیں بہت خوب ہیں، انہیں دین کے مسائل دریافت کرنے اور سمجھنے میں حیاء مانع نہیں ہوتی۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 316]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 17847) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديثين السابقين وأخرجه البيھقي (1/180) وسنده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں