سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. باب من اشترى مصراة فكرهها
باب: کوئی شخص ایسا جانور خریدے جس کے تھن میں کئی دن کا دودھ اکٹھا کیا گیا ہو اور بعد میں اس دھوکہ کا علم ہونے پر اس کو یہ بیع ناپسند ہو تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 3445
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَخْلَدٍ التَّمِيمِيُّ، حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي زِيَادٌ، أَنَّ ثَابِتًا مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ،أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنِ اشْتَرَى غَنَمًا مُصَرَّاةً احْتَلَبَهَا فَإِنْ رَضِيَهَا أَمْسَكَهَا، وَإِنْ سَخِطَهَا فَفِي حَلْبَتِهَا صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے تھن میں دودھ جمع کی ہوئی بکری خریدی اسے دوہا، تو اگر اسے پسند ہو تو روک لے اور اگر ناپسند ہو تو دوہنے کے عوض ایک صاع کھجور دے کر اسے واپس پھیر دے۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3445]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کوئی ایسی بکری خرید لی جس کا دودھ روکا گیا تھا، پھر اسے دوہا تو اگر پسند ہو تو رکھ لے ورنہ (واپس کر دے اور) اس کے دودھ کے بدلے ایک صاع کھجور (مالک کو دینا) ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3445]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 65 (2151)، (تحفة الأشراف: 12227)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/البیوع 7 (1524) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2151)
حدیث نمبر: 3444
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، وَهِشَامٌ، وَحَبِيبٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنِ اشْتَرَى شَاةً مُصَرَّاةً فَهُوَ بِالْخِيَارِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ إِنْ شَاءَ رَدَّهَا وَصَاعًا مِنْ طَعَامٍ لَا سَمْرَاءَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے تصریہ کی ہوئی بکری خریدی تو اسے تین دن تک اختیار ہے چاہے تو اسے لوٹا دے، اور ساتھ میں ایک صاع غلہ (جو غلہ بھی میسر ہو) دیدے، گیہوں دینا ضروری نہیں“۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3444]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کوئی ایسی بکری خرید لی جس کا دودھ روکا گیا تھا، تو اسے تین دن تک اختیار ہے اگر وہ چاہے تو واپس کر دے اور ایک صاع طعام بھی ساتھ لوٹائے، لیکن «سَمْرَاءَ» (عمدہ گندم) نہ ہو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3444]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 14431، 14566)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع 64 (2149)، 65 (2151)، صحیح مسلم/البیوع 7 (1525)، سنن الترمذی/البیوع 29 (1252)، سنن النسائی/البیوع 14 (4494)، سنن ابن ماجہ/التجارات 42 (2239)، موطا امام مالک/البیوع 45 (96)، مسند احمد (2/248، 394، 460، 465)، سنن الدارمی/البیوع 19 (2595) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1524)