سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. باب ما جاء في الذهب للنساء
باب: عورتوں کے سونا پہننے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4236
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَسِيدِ بْنِ أَبِي أَسِيدٍ الْبَرَّادِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُحَلِّقَ حَبِيبَهُ حَلْقَةً مِنْ نَارٍ، فَلْيُحَلِّقْهُ حَلْقَةً مِنْ ذَهَبٍ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُطَوِّقَ حَبِيبَهُ طَوْقًا مِنْ نَارٍ، فَلْيُطَوِّقْهُ طَوْقًا مِنْ ذَهَبٍ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُسَوِّرَ حَبِيبَهُ سِوَارًا مِنْ نَارٍ فَلْيُسَوِّرْهُ سِوَارًا مِنْ ذَهَبٍ وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِالْفِضَّةِ فَالْعَبُوا بِهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اپنے محبوب کو آگ کا بالا پہنانا چاہے تو وہ اسے سونے کی بالی پہنا دے، اور جو اپنے محبوب کو آگ کا طوق ۱؎ پہنانا چاہے تو اسے سونے کا طوق پہنا دے اور جو اپنے محبوب کو آگ کا کنگن پہنانا چاہے وہ اسے سونے کا کنگن پہنا دے، البتہ سونے کے بجائے چاندی تمہارے لیے جائز ہے، لہٰذا تم اسی کو ناک یا کان میں استعمال کرو اور اس سے کھیلو۔ [سنن ابي داود/كتاب الخاتم /حدیث: 4236]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنے محبوب (بیٹے، بیٹی یا بیوی وغیرہ) کو آگ کا حلقہ پہنانا پسند کرتا ہو تو وہ اسے سونے کا حلقہ پہنا دے اور جسے پسند ہو کہ وہ اپنے محبوب کے گلے میں آگ کا طوق ڈالے تو وہ اسے سونے کی ہنسلی پہنا دے اور جسے پسند ہو کہ وہ اپنے محبوب کو آگ کا کنگن پہنائے تو وہ اسے سونے کا کنگن پہنا دے۔ لیکن تم لوگ چاندی اختیار کرو اور اس سے دل بہلاؤ۔“ [سنن ابي داود/كتاب الخاتم /حدیث: 4236]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 14637)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/334، 378) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: طوق گلے میں پہننے کا زیور، اسے گلوبند اور ہنسلی بھی کہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (4401)
مشكوة المصابيح (4401)
حدیث نمبر: 1563
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، وَحُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، الْمَعْنَى أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَهُمْ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهَا ابْنَةٌ لَهَا وَفِي يَدِ ابْنَتِهَا مَسَكَتَانِ غَلِيظَتَانِ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ لَهَا:" أَتُعْطِينَ زَكَاةَ هَذَا؟" قَالَتْ: لَا، قَالَ:" أَيَسُرُّكِ أَنْ يُسَوِّرَكِ اللَّهُ بِهِمَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ سِوَارَيْنِ مِنْ نَارٍ؟" قَالَ: فَخَلَعَتْهُمَا، فَأَلْقَتْهُمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَتْ: هُمَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلِرَسُولِهِ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس کے ساتھ اس کی ایک بچی تھی، اس بچی کے ہاتھ میں سونے کے دو موٹے موٹے کنگن تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: ”کیا تم ان کی زکاۃ دیتی ہو؟“ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں یہ اچھا لگے گا کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ تمہیں آگ کے دو کنگن ان کے بدلے میں پہنائے“۔ عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اس عورت نے دونوں کنگن اتار کر انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ڈال دئیے اور بولی: یہ اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الخاتم /حدیث: 1563]
جناب عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ (شعیب) اپنے دادا (عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ ایک خاتون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئیں، ان کے ساتھ ان کی بیٹی بھی تھی اور بیٹی کے ہاتھ میں سونے کے دو موٹے موٹے کنگن تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے پوچھا: ”کیا تم اس کی زکوٰۃ دیتی ہو؟“ اس نے کہا: ”نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں یہ بات اچھی لگتی ہے کہ قیامت کے روز اللہ تمہیں ان کے بدلے آگ کے دو کنگن پہنائے؟“ چنانچہ اس عورت نے ان کو اتارا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ڈال دیا اور کہنے لگی: ”یہ اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الخاتم /حدیث: 1563]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الزکاة 19 (2481، 2482)، (تحفة الأشراف: 8682)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/178، 204، 208) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1809)
أخرجه النسائي (2481 وسنده حسن)
مشكوة المصابيح (1809)
أخرجه النسائي (2481 وسنده حسن)