سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. باب في ترك القود بالقسامة
باب: قسامہ میں قصاص نہ لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4526
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ رِجَالٍ مِنْ الْأَنْصَارِ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْيَهُودِ وَبَدَأَ بِهِمْ: يَحْلِفُ مِنْكُمْ خَمْسُونَ رَجُلًا، فَأَبَوْا، فَقَالَ لِلْأَنْصَارِ: اسْتَحِقُّوا، قَالُوا: نَحْلِفُ عَلَى الْغَيْبِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَجَعَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِيَةً عَلَى يَهُودَ لِأَنَّهُ وُجِدَ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ".
انصار کے کچھ لوگوں سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے یہود سے کہا: ”تم میں سے پچاس لوگ قسم کھائیں“ تو انہوں نے انکار کیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے کہا: ”تم اپنا حق ثابت کرو“ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم ایسی بات پر قسم کھائیں جسے ہم نے دیکھا نہیں ہے؟ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی دیت یہود سے دلوائی اس لیے کہ وہ انہیں کے درمیان پایا گیا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4526]
جناب ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور سلیمان بن یسار، انصار کے کئی لوگوں سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں سے کہا اور ان ہی سے ابتدا کی: ”تم میں سے پچاس آدمی قسمیں کھائیں۔“ مگر انہوں نے انکار کر دیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصاریوں سے کہا: ”اپنا حق (قسمیں کھا کر) ثابت کرو۔“ تو انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہم ان دیکھی بات پر کیسے قسمیں کھائیں؟“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دیت یہودیوں پر ڈال دی کیونکہ وہ مقتول ان ہی کے ہاں پایا گیا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4526]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15588، 15691) (شاذ)»
قال الشيخ الألباني: شاذ
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الزهري عنعن
وأصله عند مسلم في صحيحه (1670/7)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 159
إسناده ضعيف
الزهري عنعن
وأصله عند مسلم في صحيحه (1670/7)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 159
حدیث نمبر: 4525
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بُجَيْدٍ، قَالَ: إِنَّ سَهْلًا وَاللَّهِ أَوْهَمَ الْحَدِيثَ،" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى يَهُودَ أَنَّهُ قَدْ وُجِدَ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ قَتِيلٌ فَدُوهُ، فَكَتَبُوا يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ خَمْسِينَ يَمِينًا مَا قَتَلْنَاهُ وَلَا عَلِمْنَا قَاتِلًا، قَالَ: فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ مِائَةِ نَاقَةٍ".
عبدالرحمٰن بن بجید کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم، سہل کو اس حدیث میں وہم ہو گیا ہے، واقعہ یوں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کو لکھا کہ تمہارے بیچ ایک مقتول ملا ہے تو تم اس کی دیت ادا کرو، تو انہوں نے جواب میں لکھا: ہم اللہ کی پچاس قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ ہم نے اسے قتل نہیں کیا، اور نہ ہمیں اس کے قاتل کا پتا ہے، وہ کہتے ہیں: اس پر اس کی دیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس سے سو اونٹ (خود) ادا کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4525]
سیدنا عبدالرحمٰن بن بجید رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ کی قسم! بیشک سہل کو اس حدیث (کے بیان کرنے) میں وہم ہوا ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کو یہ لکھا تھا کہ ”بلاشبہ تم میں مقتول پایا گیا ہے، لہٰذا اس کی دیت ادا کرو۔“ تو انہوں نے لکھا اور (اپنی تحریر میں) اللہ کے نام کی پچاس قسمیں کھائیں کہ ”ہم نے اس کو قتل نہیں کیا اور نہ ہمیں قاتل کا کوئی علم ہے۔“ انہوں نے کہا: پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دیت ایک سو اونٹنیاں اپنی طرف سے ادا فرما دی۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4525]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم: (4520)، (تحفة الأشراف: 9686) (منکر)»
قال الشيخ الألباني: منكر
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن إسحاق عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 159
إسناده ضعيف
ابن إسحاق عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 159