🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. باب في المسألة في القبر وعذاب القبر
باب: قبر میں سوال کئے جانے اور قبر کے عذاب کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4747
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، أخبرنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ:" أَغْفَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِغْفَاءَةً، فَرَفَعَ رَأْسَهُ مُتَبَسِّمًا، فَإِمَّا قَالَ لَهُمْ، وَإِمَّا قَالُوا لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِمَ ضَحِكْتَ؟ فَقَالَ: إِنَّهُ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ آنِفًا سُورَةٌ، فَقَرَأَ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ حَتَّى خَتَمَهَا، فَلَمَّا قَرَأَهَا، قَالَ: هَلْ تَدْرُونَ مَا الْكَوْثَرُ؟ , قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَإِنَّهُ نَهْرٌ وَعَدَنِيهِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فِي الْجَنَّةِ، وَعَلَيْهِ خَيْرٌ كَثِيرٌ، عَلَيْهِ حَوْضٌ تَرِدُ عَلَيْهِ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ، آنِيَتُهُ عَدَدُ الْكَوَاكِبِ".
مختار بن فلفل کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: (ایک بار) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہلکی اونگھ طاری ہوئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکراتے ہوئے سر اٹھایا، تو یا تو آپ نے لوگوں سے کہا، یا لوگوں نے آپ سے کہا: اللہ کے رسول! آپ کو ہنسی کیوں آئی؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابھی میرے اوپر ایک سورت نازل ہوئی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا: «بسم الله الرحمن الرحيم إنا أعطيناك الكوثر» یہاں تک کہ سورت ختم کر لی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے پڑھ چکے تو آپ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کوثر کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جنت کی ایک نہر ہے جس کا وعدہ مجھ سے میرے رب نے کیا ہے اور اس پر بڑا خیر ہے، اس پر ایک حوض ہے جس پر قیامت کے دن میری امت (پینے) آئے گی، اس کے برتن ستاروں کی تعداد میں ہوں گے۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4747]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اونگھ آ گئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکراتے ہوئے اپنا سر اٹھایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے کہا، یا صحابہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول! آپ کیوں مسکرائے ہیں؟ فرمایا: مجھ پر ابھی ابھی ایک سورت نازل ہوئی ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا: ﴿بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۝ اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰكَ الْكَوْثَرَ﴾ [سورة الكوثر: 1] آخر تک۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پڑھ لیا تو فرمایا: کیا جانتے ہو کوثر کیا ہے؟ صحابہ نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک نہر ہے جو میرے رب عز وجل نے مجھے جنت میں دینے کا وعدہ فرمایا ہے اور اس پر خیر کثیر ہو گی، اس پر ایک حوض ہو گا جس پر قیامت کے روز میری امت کے لوگ آئیں گے، اس کے پینے کے برتن (پیالے) ستاروں کی تعداد میں ہوں گے۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4747]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم (784)، (تحفة الأشراف: 1575) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (400)
مشكوة المصابيح (5929)
وانظر الحديث السابق (784)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 784
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُنْزِلَتْ عَلَيَّ آنِفًا سُورَةٌ، فَقَرَأَ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ سورة الكوثر آية 1 حَتَّى خَتَمَهَا، قَالَ: هَلْ تَدْرُونَ مَا الْكَوْثَرُ؟ قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَإِنَّهُ نَهْرٌ وَعَدَنِيهِ رَبِّي فِي الْجَنَّةِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابھی ابھی مجھ پر ایک سورۃ نازل ہوئی ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا: «بسم الله الرحمن الرحيم * إنا أعطيناك الكوثر» یہاں تک کہ آپ نے پوری سورۃ ختم فرما دی، پھر پوچھا: تم جانتے ہو کہ کوثر کیا ہے؟، لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کو زیادہ جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوثر ایک نہر کا نام ہے، جسے میرے رب نے مجھے جنت میں دینے کا وعدہ کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 784]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر ابھی ابھی ایک سورت نازل ہوئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ﴿بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ * إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ * فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ * إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ﴾ [سورة الكوثر: 1-3] پوری سورت پڑھ کر سنائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: جانتے ہو کوثر کیا ہے؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک نہر ہے جس کا میرے رب عزوجل نے مجھ سے جنت میں وعدہ فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 784]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الصلاة 14 (400)، الفضائل 9 (2304)، سنن النسائی/الافتتاح 21 (905)، (تحفة الأشراف: 1575)، مسند احمد (3/102، 281)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/تفسیر الکوثر (3359)، ویأتي عند المؤلف في السنة برقم: (4747) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (400)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4748
حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ، أخبرنا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، قَالَ: أخبرنا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" لَمَّا عُرِجَ بِنَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنَّةِ، أَوْ كَمَا قَالَ: عُرِضَ لَهُ نَهْرٌ حَافَتَاهُ الْيَاقُوتُ الْمُجَيَّبُ، أَوْ قَالَ: الْمُجَوَّفُ، فَضَرَبَ الْمَلَكُ الَّذِي مَعَهُ يَدَهُ، فَاسْتَخْرَجَ مِسْكًا، فَقَالَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمَلَكِ الَّذِي مَعَهُ: مَا هَذَا؟ , قَالَ: الْكَوْثَرُ الَّذِي أَعْطَاكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج میں جنت میں لے جایا گیا تو آپ کے سامنے ایک نہر لائی گئی، جس کے دونوں کنارے «مجیّب» یا کہا «مجوّف» (خول دار) یاقوت کے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جو فرشتہ تھا اس نے اپنا ہاتھ مارا اور اندر سے مشک نکالی، تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ والے فرشتے سے پوچھا یہ کیا ہے؟ اس نے کہا: یہی کوثر ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4748]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کے موقع پر جنت میں لے جایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک نہر دکھلائی گئی جس کے کنارے ایسے یاقوت کے تھے کہ جو خول دار تھے۔ تو وہ فرشتہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، اس نے (اس کی تہہ میں) ہاتھ مارا اور کستوری نکالی۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فرشتے سے پوچھا: یہ کیا ہے؟ اس نے کہا: یہ وہ کوثر ہے جو اللہ عزوجل نے آپ کو دی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4748]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 1234)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الرقاق 53 (6581)، التوحید 37 (7516) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (4964)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں