سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. باب في الجلوس في الطرقات
باب: راستوں میں بیٹھنے کے حقوق و آداب کا بیان۔
حدیث نمبر: 4819
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ امْرَأَةً كَانَ فِي عَقْلِهَا شَيْءٌ، بِمَعْنَاهُ.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت تھی جس کی عقل میں کچھ فتور تھا پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4819]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ”اس عورت کی عقل میں کوئی کمی تھی۔“ اور مذکورہ بالا کے ہم معنی بیان کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4819]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/ الفضائل 23 (2326)، (تحفة الأشراف: 326)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/285) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2326)
حدیث نمبر: 4818
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بِنِ الطَّبَّاعِ، وَكَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، قَالَ ابْنُ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً، فَقَالَ لَهَا: يَا أُمَّ فُلَانٍ، اجْلِسِي فِي أَيِّ نَوَاحِي السِّكَكِ شِئْتِ، حَتَّى أَجْلِسَ إِلَيْكِ، قَالَ: فَجَلَسَتْ، فَجَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهَا حَتَّى قَضَتْ حَاجَتَهَا"، لَمْ يَذْكُرُ ابْنُ عِيسَى: حَتَّى قَضَتْ حَاجَتَهَا. وقَالَ كَثِيرٌ:عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اور بولی: اللہ کے رسول! مجھے آپ سے ایک ضرورت ہے، آپ نے اس سے فرمایا: ”اے فلاں کی ماں! جہاں چاہو گلی کے کسی کونے میں بیٹھ جاؤ، یہاں تک کہ میں تمہارے پاس آ کر ملوں“ چنانچہ وہ بیٹھ گئی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے آ کر ملے، یہاں تک کہ اس نے آپ سے اپنی ضرورت کی بات کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4818]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: ”اے اللہ کے رسول! مجھے آپ سے ایک کام ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”اے فلاں! کسی گلی کے کونے پر بیٹھ جاؤ میں تیرے ساتھ بیٹھ سکتا ہوں (تیری بات سن سکتا ہوں)۔“ چنانچہ وہ بیٹھ گئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس کے ساتھ بیٹھ گئے حتیٰ کہ اس نے اپنا مقصد پا لیا۔ ابن عیسیٰ نے «حَتَّى قَضَتْ حَاجَتَهَا» کا لفظ ذکر نہیں کیا۔ اور کثیر (کثیر بن عبید) نے اپنی سند میں (عنعنہ سے روایت کرتے ہوئے) «عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ» کہا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4818]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 771)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/214) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حميد عنعن لكنه كان يدلس عن ثابت البناني عن أنس رضي الله عنه وثابت البناني ثقة
حميد عنعن لكنه كان يدلس عن ثابت البناني عن أنس رضي الله عنه وثابت البناني ثقة