سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
110. باب ما يقول إذا أصبح
باب: صبح کے وقت کیا پڑھے؟
حدیث نمبر: 5067
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، مُرْنِي بِكَلِمَاتٍ أَقُولُهُنَّ إِذَا أَصْبَحْتُ وَإِذَا أَمْسَيْتُ , قال: قُلْ: اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي، وَشَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ، قَالَ: قُلْهَا: إِذَا أَصْبَحْتَ، وَإِذَا أَمْسَيْتَ، وَإِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَكَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کچھ ایسے کلمات بتائیے جنہیں میں جب صبح کروں اور جب شام کروں تو کہہ لیا کروں، آپ نے فرمایا: کہو «اللهم فاطر السموات والأرض عالم الغيب والشهادة رب كل شىء ومليكه أشهد أن لا إله إلا أنت أعوذ بك من شر نفسي وشر الشيطان وشركه» ”اے اللہ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، پوشیدہ اور موجود ہر چیز کے جاننے والے، ہر چیز کے پالنہار اور مالک! میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، میں تیری ذات کے ذریعہ اپنے نفس کے شر سے، شیطان کے شر سے، اور اس کے شرک سے پناہ مانگتا ہوں“ آپ نے فرمایا: ”جب صبح کرو اور جب شام کرو اور جب سونے چلو تب اس دعا کو پڑھ لیا کرو“۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5067]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی کلمات ارشاد فرمائیں جو میں صبح اور شام کے وقت پڑھا کروں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ پڑھا کرو: «اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي، وَشَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ» ”اے اللہ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے! پوشیدہ اور ظاہر کے جاننے والے! ہر شے کے پالنے والے اور اس کے مالک! میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ میں اپنے نفس کی شرارت، شیطان کے شر اور اس کے شرک سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔“ یہ دعا صبح، شام اور سوتے وقت پڑھا کرو۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5067]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الدعوات 14 (3392)، (تحفة الأشراف: 14274)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/9، 10، 297)، سنن الدارمی/الاستئذان 54 (2731) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (2390)
أخرجه الترمذي (3392 وسنده صحيح)
مشكوة المصابيح (2390)
أخرجه الترمذي (3392 وسنده صحيح)
حدیث نمبر: 5068
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ: اللَّهُمَّ بِكَ أَصْبَحْنَا وَبِكَ أَمْسَيْنَا، وَبِكَ نَحْيَا وَبِكَ نَمُوتُ، وَإِلَيْكَ النُّشُورُ، وَإِذَا أَمْسَى قَالَ: اللَّهُمَّ بِكَ أَمْسَيْنَا، وَبِكَ نَحْيَا وَبِكَ نَمُوتُ، وَإِلَيْكَ النُّشُورُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کرتے تو فرماتے: «اللهم بك أصبحنا وبك أمسينا وبك نحيا وبك نموت وإليك النشور» ”اے اللہ ہم نے صبح کی تیرے نام پر اور شام کی تیرے نام پر، جیتے ہیں تیرے نام پر، مرتے ہیں تیرے نام پر، اور مر کر تیرے ہی پاس ہمیں پلٹ کر جانا ہے“ اور جب شام کرتے تو فرماتے: «اللهم بك أمسينا وبك نحيا وبك نموت وإليك النشور» ”اے اللہ! ہم نے تیرے ہی نام پر شام کی، اور تیرے ہی نام پر ہم جیتے ہیں، تیرے ہی نام پر مرتے ہیں اور تیری ہی طرف ہمیں پلٹ کر جانا ہے“۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5068]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح ہوتی تو یہ دعا پڑھتے تھے: «اللَّهُمَّ بِكَ أَصْبَحْنَا، وَبِكَ أَمْسَيْنَا، وَبِكَ نَحْيَا، وَبِكَ نَمُوتُ، وَإِلَيْكَ النُّشُورُ» ”اے اللہ! ہم نے تیرے (فضل کے) ساتھ صبح کی اور تیرے (فضل کے) ساتھ شام کرتے ہیں۔ تیرے ہی فضل سے زندہ اور تیرے ہی نام پر مرتے ہیں اور تیری ہی طرف اٹھ کر جانا ہے۔“ اور شام کے وقت یہ کلمات یوں کہتے: «اللَّهُمَّ بِكَ أَمْسَيْنَا، وَبِكَ نَحْيَا، وَبِكَ نَمُوتُ، وَإِلَيْكَ النُّشُورُ» ”اے اللہ! ہم نے تیرے ہی (فضل کے) ساتھ شام کی اور تیرے ہی فضل سے زندہ اور تیرے ہی نام پر مرتے ہیں اور تیری ہی طرف اٹھنا ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5068]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12756)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الدعوات 13 (3391)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 14 (3868)، مسند احمد (2/354، 522) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (2389)
مشكوة المصابيح (2389)
حدیث نمبر: 5083
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي , قَالَ ابْنُ عَوْفٍ وَرَأَيْتُهُ فِي أَصْلِ إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنِي ضَمْضَمٌ،عَنْ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ، قَالَ: قَالُوا:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَدِّثْنَا بِكَلِمَةٍ نَقُولُهَا إِذَا أَصْبَحْنَا وَأَمْسَيْنَا وَاضْطَجَعْنَا فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَقُولُوا: اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، أَنْتَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ، وَالْمَلَائِكَةُ يَشْهَدُونَ أَنَّكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، فَإِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ أَنْفُسِنَا، وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ وَشِرْكِهِ، وَأَنْ نَقْتَرِفَ سُوءًا عَلَى أَنْفُسِنَا أَوْ نَجُرَّهُ إِلَى مُسْلِمٍ".
ابو مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمیں کوئی ایسی (جامع) بات بتائیے، جسے ہم صبح و شام اور لیٹتے وقت کہا کریں، تو آپ نے انہیں حکم دیا کہ وہ یہ کہا کریں: «اللهم فاطر السموات والأرض عالم الغيب والشهادة أنت رب كل شىء والملائكة يشهدون أنك لا إله إلا أنت فإنا نعوذ بك من شر أنفسنا ومن شر الشيطان الرجيم وشركه وأن نقترف سوءا على أنفسنا أو نجره إلى مسلم» ”اے اللہ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، غائب اور حاضر کے جاننے والے، تو ہر چیز کا رب ہے، فرشتے گواہی دیتے ہیں کہ تیرے سوا اور کوئی معبود برحق نہیں ہے، ہم تیری پناہ مانگتے ہیں، اپنے نفسوں کے شر سے، اور دھتکارے ہوئے شیطان کے شر، اور اس کے شرک سے، اور گناہ کی بات خود کرنے سے، یا کسی مسلمان سے گناہ کی بات کرانے سے“۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5083]
سیدنا ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہمیں کوئی کلمہ ارشاد فرمائیں جو ہم صبح، شام اور سوتے وقت پڑھا کریں۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہا کرو: «اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، أَنْتَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ، وَالْمَلَائِكَةُ يَشْهَدُونَ أَنَّكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، فَإِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ أَنْفُسِنَا، وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ وَشِرْكِهِ، وَأَنْ نَقْتَرِفَ سُوءًا عَلَى أَنْفُسِنَا أَوْ نَجُرَّهُ إِلَى مُسْلِمٍ» ”اے اللہ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، غیب اور حاضر کے جاننے والے! تو ہی ہر چیز کا مالک ہے۔ اور فرشتے گواہ ہیں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ ہم اپنے نفسوں کی شرارتوں سے اور شیطان مردود کے شر اور شرک سے تیری پناہ چاہتے ہیں اور اس بات سے بھی کہ ہم اپنی جانوں پر کسی برائی کا ارتکاب کریں یا کسی مسلمان کے لیے کوئی برائی کریں۔“” [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5083]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12156) (ضعیف) (اس کے راوی '' محمد بن اسماعیل'' ضعیف ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
شريح عن أبي مالك مرسل
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 175
إسناده ضعيف
شريح عن أبي مالك مرسل
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 175