🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
123. باب مَا يُسْتَفْتَحُ بِهِ الصَّلاَةُ مِنَ الدُّعَاءِ
باب: نماز کے شروع میں کون سی دعا پڑھی جائے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 763
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ، عَنْ قَتَادَةَ، وَثَابِتٍ، وَحُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ،" أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى الصَّلَاةِ وَقَدْ حَفَزَهُ النَّفَسُ، فَقَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ، قَالَ: أَيُّكُمُ الْمُتَكَلِّمُ بِالْكَلِمَاتِ فَإِنَّهُ لَمْ يَقُلْ بَأْسًا، فَقَالَ الرَّجُلُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، جِئْتُ وَقَدْ حَفَزَنِيَ النَّفَسُ فَقُلْتُهَا، فَقَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُ اثْنَيْ عَشَرَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا أَيُّهُمْ يَرْفَعُهَا"، وَزَادَ حُمَيْدٌ فِيهِ: وَإِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ فَلْيَمْشِ نَحْوَ مَا كَانَ يَمْشِي فَلْيُصَلِّ مَا أَدْرَكَهُ وَلْيَقْضِ مَا سَبَقَهُ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نماز کے لیے آیا، اس کی سانس پھول رہی تھی، تو اس نے یہ دعا پڑھی: «الله أكبر الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه» اللہ سب سے بڑا ہے، تمام تعریفیں اسی کو سزاوار ہیں، اور ہم خوب خوب اس کی پاکیزہ و بابرکت تعریفیں بیان کرتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کر لی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کس نے یہ کلمات کہے ہیں؟ اس نے کوئی قابل حرج بات نہیں کہی، تب اس شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے (کہا ہے)، جب میں جماعت میں حاضر ہوا تو میرے سانس پھول گئے تھے، اس حالت میں میں نے یہ کلمات کہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے دیکھا کہ بارہ فرشتے سبھی جلدی کر رہے تھے کہ ان کلمات کو کون پہلے اٹھا لے جائے۔ حمید نے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے: جب تم میں سے کوئی آئے تو (اطمینان و سکون سے) اس طرح چل کر آئے جیسے وہ عام چال چلتا ہے پھر جتنی رکعتیں ملیں انہیں پڑھ لے اور جو چھوٹ جائیں انہیں پورا کر لے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 763]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نماز کے لیے آیا اور اس کی سانس چڑھی ہوئی تھی، اس نے کہا: «اللّٰهُ أَكْبَرُ، الْحَمْدُ لِلّٰهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ» اللہ سب سے بڑا ہے، حمد و ثنا اللہ ہی کے لیے ہے، بہت سی حمد، طیب پاکیزہ اور بابرکت۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کر لی تو پوچھا: تم میں سے کس نے یہ کلمات کہے تھے؟ اور اس نے کوئی بری بات نہیں کہی۔ تو ایک شخص بولا: میں ہوں، اے اللہ کے رسول! میں آیا تو میری سانس پھولی ہوئی تھی تو میں نے یہ الفاظ کہہ دیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ میں نے بارہ فرشتوں کو دیکھا کہ وہ ان کلمات کی طرف جلدی جلدی بڑھ رہے ہیں کہ کون ان کو لے کر اللہ کے حضور پہنچتا ہے۔ حمید نے اس روایت میں اس قدر مزید کہا کہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا): اور جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے آئے تو اسی طرح چلتا آئے جیسے کہ چلا کرتا ہے۔ جو پا لے وہ پڑھ لے اور جو گزر جائے اس کی قضا کر لے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 763]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المساجد 27 (600)، سنن النسائی/الافتتاح 19 (902)، (تحفة الأشراف: 313، 1157)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/167، 168، 188، 252) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح م دون الزيادة
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (600)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 770
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ الزُّرَقِيِّ، قَالَ:" كُنَّا يَوْمًا نُصَلِّي وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، قَالَ رَجُلٌ وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنِ الْمُتَكَلِّمُ بِهَا آنِفًا؟ فَقَالَ الرَّجُلُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَقَدْ رَأَيْتُ بِضْعَةً وَثَلَاثِينَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا أَيُّهُمْ يَكْتُبُهَا أَوَّلُ".
رفاعہ بن رافع زرقی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے، جب آپ نے رکوع سے سر اٹھا کر «سمع الله لمن حمده» کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ایک آدمی نے «اللهم ربنا ولك الحمد حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه» کہا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ابھی ابھی یہ کلمات کس شخص نے کہے ہیں؟، اس آدمی نے کہا: میں نے، اللہ کے رسول! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تیس سے زائد فرشتوں کو دیکھا جو ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ کون پہلے ان کلمات کو لکھے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 770]
رفاعہ بن رافع زرقی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع سے سر اٹھایا اور «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ایک آدمی نے کہا: «اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ» اے اللہ! اے ہمارے رب! اور تیری ہی تعریف ہے، بہت ساری حمد، پاکیزہ اور بابرکت۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو پوچھا: ابھی ابھی کس نے یہ کلمات کہے ہیں؟ اس آدمی نے کہا: میں نے، اے اللہ کے رسول! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تحقیق میں نے تیس سے کچھ اوپر فرشتوں کو دیکھا ہے جو ان کلمات کی طرف سبقت کر رہے تھے کہ کون ان کو پہلے لکھتا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 770]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الأذان 126 (799)، سنن النسائی/الافتتاح 36 (932)، التطبیق 22 (1063)، (تحفة الأشراف: 3605)، موطا امام مالک/القرآن 7 (25)، مسند احمد (4/340)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 184 (404) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (799)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں