🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
123. باب مَا يُسْتَفْتَحُ بِهِ الصَّلاَةُ مِنَ الدُّعَاءِ
باب: نماز کے شروع میں کون سی دعا پڑھی جائے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 766
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، أَخْبَرَنِي أَزْهَرُ بْنُ سَعِيدٍ الْحَرَازِيُّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ، قَالَ: سُئِلْتُ عَائِشَةَ: بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يَفْتَتِحُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِيَامَ اللَّيْلِ؟ فَقَالَتْ: لَقَدْ سَأَلْتَنِي عَنْ شَيْءٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ قَبْلَكَ،" كَانَ إِذَا قَامَ كَبَّرَ عَشْرًا وَحَمِدَ اللَّهَ عَشْرًا وَسَبَّحَ عَشْرًا وَهَلَّلَ عَشْرًا وَاسْتَغْفَرَ عَشْرًا، وَقَالَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي وَعَافِنِي، وَيَتَعَوَّذُ مِنْ ضِيقِ الْمَقَامِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ خَالِدُ بْنُ مَعْدَانَ، عَنْ رَبِيعَةَ الْجُرَشِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، نَحْوَهُ.
عاصم بن حمید کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیام اللیل (تہجد) کو کس دعا سے شروع کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: تم نے مجھ سے ایک ایسی چیز کے متعلق پوچھا ہے کہ تم سے پہلے کسی نے بھی اس کے متعلق مجھ سے نہیں پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو دس بار «الله اكبر»، دس بار «الحمد الله»، دس بار «سبحان الله»، دس بار «لا إله إلا الله»، اور دس بار «استغفر الله» کہتے اور یہ دعا کرتے: «اللهم اغفر لي واهدني وارزقني وعافني» اللہ! میری مغفرت فرما، مجھے ہدایت دے، مجھے رزق عطا کر، اور مجھے عافیت سے رکھ، پھر قیامت کے دن (سوال کے لیے) کھڑے ہونے کی پریشانی سے پناہ مانگتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے خالد بن معدان نے ربیعہ جرشی سے ربیعہ نے ام المؤمنین عائشہ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 766]
جناب عاصم بن حمید کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا قیام اللیل (تہجد) کس چیز سے شروع فرمایا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: تم نے مجھ سے وہ بات پوچھی ہے جو تم سے پہلے کسی نے نہیں پوچھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب (نماز کے لیے) کھڑے ہوتے تو کہتے «اللهُ أَكْبَرُ» دس بار، «الْحَمْدُ لِلَّهِ» دس بار، پھر «سُبْحَانَ اللَّهِ» دس بار، «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» دس بار، «أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ» دس بار اور (یہ دعا) پڑھتے «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، وَاهْدِنِي، وَارْزُقْنِي، وَعَافِنِي» اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھے ہدایت دے، مجھے رزق عنایت فرما اور مجھے آرام و راحت سے بہرہ ور فرما۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے روز (میدان حشر میں) کھڑے ہونے کی تنگی سے پناہ مانگتے تھے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے فرمایا: اس حدیث کو خالد بن معدان نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بواسطہ ربیعہ جرشی، مذکورہ بالا حدیث کی مانند روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 766]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/قیام اللیل 9 (1618)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 180 (1356)، (تحفة الأشراف: 16082، 16166)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/143)، ویأتي عند المؤلف برقم: (5085) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه النسائي (1618 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5085
حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ جُعْثُمٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْأَزْهَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَرَازِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَرِيقٌ الْهَوْزَنِيُّ، قَالَ:" دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَسَأَلْتُهَا بِمَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتَتِحُ إِذَا هَبَّ مِنَ اللَّيْلِ؟ , فَقَالَتْ: لَقَدْ سَأَلْتَنِي عَنْ شَيْءٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُ أَحَدٌ قَبْلَكَ , كَانَ إِذَا هَبَّ مِنَ اللَّيْلِ كَبَّرَ عَشْرًا وَحَمَّدَ عَشْرًا، وَقَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ عَشْرًا، وَقَالَ: سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ عَشْرًا، وَاسْتَغْفَرَ عَشْرًا، وَهَلَّلَ عَشْرًا، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ ضِيقِ الدُّنْيَا، وَضِيقِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ عَشْرًا، ثُمَّ يَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ".
شریق ہوزنی کہتے ہیں: میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، اور ان سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں نیند سے جاگتے تو پہلے کیا کرتے؟ تو انہوں نے کہا: تم نے مجھ سے ایسی بات پوچھی، جو تم سے پہلے کسی نے نہیں پوچھی ہے، آپ جب رات میں نیند سے جاگتے تو دس بار، «الله اكبر» کہتے، دس بار «الحمد الله» کہتے، دس بار «سبحان الله وبحمده» کہتے، دس بار «سبحان الملك القدوس» کہتے، اور دس بار «استغفر الله» کہتے، اور دس بار «لا إله إلا الله» کہتے، پھر دس بار «اللهم إني أعوذ بك من ضيق الدنيا وضيق يوم القيامة» اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں دنیا کی تنگی سے اور قیامت کے دن کی تنگی سے کہتے، پھر نماز شروع کرتے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 5085]
جناب شریق ہوزنی کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گیا اور ان سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو اٹھتے تو کس چیز سے ابتداء کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: تحقیق تو نے مجھ سے ایسا سوال کیا ہے جس کے متعلق تجھ سے پہلے مجھ سے کسی نے نہیں پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو اٹھتے تھے تو دس بار «اللهُ أَكْبَرُ» اللہ سب سے بڑا ہے، دس بار «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، دس بار «سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ» اللہ اپنی حمد کے ساتھ پاک ہے، دس بار «سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ» پاک ہے وہ بادشاہ جو نہایت مقدس ہے، دس بار «أَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ» میں اللہ سے بخشش مانگتا ہوں اور دس بار «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں کہتے تھے۔ پھر دس بار کہتے: «اللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ ضِيقِ الدُّنْيَا، وَضِيقِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ» اے اللہ! میں دنیا اور روزِ قیامت کی تنگی سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ پھر نماز شروع فرماتے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 5085]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، انظر ما تقدم عند المؤلف برقم: 766، (تحفة الأشراف: 16153)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الاقامة 180 (1356)، سنن النسائی/قیام اللیل 9 (1616)، عمل الیوم واللیلة 254 (5550)، مسند احمد (6/143) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏ (متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں بقیہ اور عمر بن جعثم ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (1216)
وله شاھد عند النسائي (1618 وسنده حسن) وانظر الحديث السابق (766)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں