سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
42. باب الوضوء بالنبيذ
باب: نبیذ سے وضو کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 87
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا أَبُو خَلْدَةَ، قَالَ:" سَأَلْتُ أَبَا الْعَالِيَةِ عَنْ رَجُلٍ أَصَابَتْهُ جَنَابَةٌ وَلَيْسَ عِنْدَهُ مَاءٌ وَعِنْدَهُ نَبِيذٌ، أَيَغْتَسِلُ بِهِ؟ قَالَ: لَا".
ابوخلدہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوالعالیہ سے اس شخص کے متعلق پوچھا جسے جنابت لاحق ہوئی ہو اور اس کے پاس پانی نہ ہو، بلکہ نبیذ ہو تو کیا وہ اس سے غسل کر سکتا ہے؟ آپ نے کہا: نہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 87]
ابو خلدہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے جناب ابوالعالیہ (تابعی) رحمہ اللہ سے پوچھا کہ ایک شخص جسے جنابت لاحق ہوئی ہو، اس کے پاس پانی نہ ہو مگر نبیذ (کھجور یا کشمش کا پانی) موجود ہو تو کیا وہ اس سے غسل کر لے؟ انہوں نے فرمایا: ”نہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 87]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 18640) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 86
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ،" أَنَّهُ كَرِهَ الْوُضُوءَ بِاللَّبَنِ وَالنَّبِيذِ، وَقَالَ: إِنَّ التَّيَمُّمَ أَعْجَبُ إِلَيَّ مِنْهُ".
عطاء سے روایت ہے کہ وہ دودھ اور نبیذ سے وضو کرنے کو مکروہ سمجھتے تھے اور کہتے تھے: اس سے تو مجھے تیمم ہی زیادہ پسند ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 86]
جناب عطاء بن ابی رباح رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ انہوں نے دودھ اور نبیذ سے وضو کو مکروہ کہا ہے اور فرمایا: ”مجھے ان سے وضو کرنے کی بجائے تیمم کرنا زیادہ پسند ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 86]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 19062) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
رواية ابن جريج عن عطاء محمولة علي السماع
رواية ابن جريج عن عطاء محمولة علي السماع