🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. باب : الرخصة في المزارعة بالثلث والربع
باب: تہائی یا چوتھائی پیداوار پر بٹائی کی رخصت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2464
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَأَنْ يَمْنَحَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ الْأَرْضَ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ خَرَاجًا مَعْلُومًا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو صرف یہ فرمایا تھا: کوئی اپنے بھائی کو اپنی زمین یوں ہی مفت کھیتی کے لیے دیدے، تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ اس سے کوئی معین محصول لے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2464]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا تھا: اگر کوئی اپنے بھائی کو زمین بلا معاوضہ دے دے تو یہ کام اس کے لیے مقرر کردہ ٹھیکہ لینے سے بہتر ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2464]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظرحدیث (رقم: 2456) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2456
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ لَمَّا سَمِعَ إِكْثَارَ النَّاسِ فِي كِرَاءِ الْأَرْضِ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا مَنَحَهَا أَحَدُكُمْ أَخَاهُ وَلَمْ يَنْهَ عَنْ كِرَائِهَا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب انہوں نے سنا کہ لوگ زمین کو کرائیے پر دینے کے سلسلے میں کثرت سے گفتگو کر رہے ہیں، تو «سبحان اللہ» کہہ کر تعجب کا اظہار کیا، اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یوں فرمایا تھا: تم میں سے کسی نے اپنے بھائی کو زمین مفت کیوں نہیں دے دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کرائے پر دینے سے منع نہیں کیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2456]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے جب لوگوں کو بٹائی پر زمین دینے کے بارے میں بہت باتیں کرتے سنا (کہ یہ منع ہے) تو فرمایا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ» اللہ پاک ہے! اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ فرمایا تھا: آدمی اپنے بھائی کو زمین کیوں نہیں دے دیتا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کرائے پر دینے سے منع نہیں فرمایا تھا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2456]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحرث والمزارعة 10 (2330)، الھبة 35 (2634)، صحیح مسلم/البیوع 21 (1550)، سنن ابی داود/البیوع 31 (3389)، سنن الترمذی/الأحکام 42 (1385)، سنن النسائی/المزراعة 2 (3904)، (تحفة الأشراف: 5735)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/234، 281، 349)، (2342) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رافع رضی اللہ عنہ کو حدیث کا مطلب سمجھنے میں دھوکہ ہوا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2457
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَأَنْ يَمْنَحَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ أَرْضَهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا كَذَا وَكَذَا" لِشَيْءٍ مَعْلُومٍ. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: هُوَ الْحَقْلُ وَهُوَ بِلِسَانِ الْأَنْصَارِ الْمُحَاقَلَةُ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی اپنی زمین اپنے بھائی کو مفت دے تو یہ اس کے لیے اس بات سے بہتر ہے کہ وہ اس سے اتنی اور اتنی یعنی کوئی متعین رقم لے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ یہی «حقل» ہے، اور انصار کی زبان میں اس کو محاقلہ کہتے ہیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2457]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کا اپنے بھائی کو (کاشت کے لیے بلا معاوضہ) اپنی زمین دے دینا اس بات سے بہتر ہے کہ اس پر اتنی اتنی چیز، یعنی مقرر مقدار وصول کرے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اس معاملے کو «حَقْل» کہتے ہیں، اور انصار کی بولی میں یہی «مُحَاقَلَة» کہلاتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2457]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/البیوع 21 1550)، (تحفة الأشراف: 5718)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/313) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2462
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِطَاوُسٍ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَوْ تَرَكْتَ هَذِهِ الْمُخَابَرَةَ فَإِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ، فَقَالَ: أَيْ عَمْرُو إِنِّي أُعِينُهُمْ وَأُعْطِيهِمْ وَإِنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ أَخَذَ النَّاسَ عَلَيْهَا عِنْدَنَا، وَإِنَّ أَعْلَمَهُمْ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَنِي، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَنْهَ عَنْهَا وَلَكِنْ قَالَ:" لَأَنْ يَمْنَحَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا أَجْرًا مَعْلُومًا".
عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ میں نے طاؤس سے کہا: اے ابوعبدالرحمٰن! کاش آپ اس بٹائی کو چھوڑ دیتے، اس لیے کہ لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے، تو وہ بولے: عمرو! میں ان کی مدد کرتا ہوں، اور ان کو (زمین بٹائی پر) دیتا ہوں، اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے ہماری موجودگی میں لوگوں سے ایسا معاملہ کیا ہے، اور ان کے سب سے بڑے عالم یعنی ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے بتایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع نہیں کیا، بلکہ یوں فرمایا: اگر تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو یوں ہی بغیر کرایہ کے دیدے، تو وہ اس سے بہتر ہے کہ زمین کا ایک معین کرایہ لے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2462]
حضرت عمرو بن دینار رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے حضرت طاوس (بن کیسان) رحمہ اللہ سے کہا: اے ابو عبدالرحمٰن! کاش آپ «الْمُخَابَرَةُ» (بٹائی پر زمین دینا) چھوڑ دیں کیونکہ لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا۔ انہوں نے فرمایا: اے عمرو! میں ان کی مدد کرتا ہوں اور انہیں دیتا ہوں اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے ہمارے ہاں اس پر عمل کرایا ہے اور ان کے بڑے عالم، یعنی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع نہیں فرمایا لیکن یہ فرمایا تھا: کوئی اپنے بھائی کو (بلا معاوضہ زمین) دے دے تو یہ اس پر مقرر معاوضہ لینے سے بہتر ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الرهون/حدیث: 2462]
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں