🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
42. باب : الوفاء بالبيعة
باب: بیعت پوری کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2870
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ، وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ: رَجُلٌ عَلَى فَضْلِ مَاءٍ بِالْفَلَاةِ يَمْنَعُهُ مِنَ ابْنِ السَّبِيلِ، وَرَجُلٌ بَايَعَ رَجُلًا بِسِلْعَةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ فَحَلَفَ بِاللَّهِ لَأَخَذَهَا بِكَذَا وَكَذَا فَصَدَّقَهُ وَهُوَ عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ، وَرَجُلٌ بَايَعَ إِمَامًا لَا يُبَايِعُهُ إِلَّا لِدُنْيَا فَإِنْ أَعْطَاهُ مِنْهَا وَفَى لَهُ، وَإِنْ لَمْ يُعْطِهِ مِنْهَا لَمْ يَفِ لَهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تین آدمیوں سے نہ بات کرے گا، نہ ان کی طرف دیکھے گا، نہ ہی انہیں پاک کرے گا، اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے: ایک وہ آدمی جس کے پاس چٹیل میدان میں فالتو پانی ہو اور مسافر کو پانی لینے سے منع کرے، دوسرا وہ شخص جس نے عصر کے بعد کسی کے ہاتھ سامان بیچا اور اللہ کی قسم کھا کر کہا کہ اس نے یہ چیز اتنے اتنے میں لی ہے، پھر خریدار نے اس کی بات کا یقین کر لیا، حالانکہ اس نے غلط بیانی سے کام لیا تھا، تیسرا وہ آدمی جس نے کسی امام کے ہاتھ پر بیعت کی، اور مقصد محض دنیاوی فائدہ تھا، چنانچہ اگر اس نے اسے کچھ دیا تو بیعت کو پورا کیا، اور اگر نہیں دیا تو پورا نہیں کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2870]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین آدمی ہیں جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کلام نہیں کرے گا، نہ ان کی طرف (نظر رحمت سے) دیکھے گا، نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ (ایک) وہ آدمی جو بیابان میں اپنی ضرورت سے زائد پانی پر قابض ہے، مسافر کو نہیں لینے دیتا۔ (دوسرا) وہ آدمی جس نے عصر کے بعد کسی آدمی کو کوئی چیز بیچی (بھاؤ طے کرتے وقت) اللہ کی قسم کھا کر کہ اس نے یہ چیز اتنے کی لی تھی، گاہک نے اسے سچا سمجھ لیا، حالانکہ وہ سچا نہ تھا۔ (تیسرا) وہ آدمی جس نے کسی امام (خلیفہ یا اس کے نائب) کی بیعت صرف دنیا کے (حصول کے) لیے کی۔ اگر اس (امام) نے کچھ مال دے دیا تو وفادار رہا اور اگر کچھ نہ دیا تو اس نے بھی وفا نہ کی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2870]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الشہادات 22 (2672)، الأحکام 48 (7212)، صحیح مسلم/الإیمان 46 (108)، البیوع 62 (1566)، سنن الترمذی/السیر 35 (1595)، سنن النسائی/البیوع 6 (4467)، (تحفة الأشراف: 12522)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/253، 480)، (یہ حدیث مکرر ہے دیکھئے: 2207) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2207
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ، وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ، رَجُلٌ عَلَى فَضْلِ مَاءٍ بِالْفَلَاةِ يَمْنَعُهُ ابْنَ السَّبِيلِ، وَرَجُلٌ بَايَعَ، رَجُلًا سِلْعَةً بَعْدَ الْعَصْرِ فَحَلَفَ بِاللَّهِ لَأَخَذَهَا بِكَذَا وَكَذَا، فَصَدَّقَهُ وَهُوَ عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ، وَرَجُلٌ بَايَعَ إِمَامًا لَا يُبَايِعُهُ إِلَّا لِدُنْيَا، فَإِنْ أَعْطَاهُ مِنْهَا وَفَى لَهُ، وَإِنْ لَمْ يُعْطِهِ مِنْهَا لَمْ يَفِ لَهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تین آدمیوں سے اس قدر ناراض ہو گا کہ نہ تو ان سے بات کرے گا، نہ ان کی طرف دیکھے گا، نہ ہی انہیں پاک کرے گا، اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہو گا: ایک وہ شخص جس کے پاس چٹیل میدان میں ضرورت سے زیادہ پانی ہو اور وہ اسے مسافر کو نہ دے، دوسرے وہ شخص جو اپنا مال نماز عصر کے بعد بیچے اور اللہ کی قسم کھائے کہ اسے اس نے اتنے اتنے میں خریدا ہے، اور خریدار اسے سچا جانے حالانکہ وہ اس کے برعکس تھا، تیسرے وہ شخص جس نے کسی امام سے بیعت کی، اور اس نے صرف دنیا کے لیے بیعت کی، اگر اس نے اس کو کچھ دیا تو بیعت پوری کی، اور اگر نہیں دیا تو نہیں پوری کی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2207]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین آدمی ایسے ہیں جن سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کلام نہیں فرمائے گا، نہ ان کی طرف دیکھے گا، نہ انہیں پاک کرے گا، اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ ایک وہ آدمی جس کے پاس صحرا میں (چشمے وغیرہ کا) پانی اس کی ضرورت سے زائد ہے اور وہ مسافر کو اس کے استعمال سے منع کرتا ہے۔ (دوسرا) وہ آدمی جس نے عصر کے بعد کسی کے ساتھ سودا بیچا اور اللہ کی قسم کھا کر کہا کہ اس نے اتنی قیمت میں اسے خریدا ہے، خریدار نے اسے سچ سمجھ لیا، حالانکہ حقیقت اس کے خلاف تھی۔ اور (تیسرا) وہ آدمی جو کسی امام (اسلامی حکمران) کی بیعت کرتا ہے اور وہ صرف حصول دنیا کے لیے اس کی بیعت کرتا ہے، اگر امام اسے دنیا (کا مال) دے دے تو وفا کرتا ہے اور اگر امام اسے دنیا کا مال نہ دے تو وہ بیعت پر قائم نہیں رہتا (امام کی اطاعت نہیں کرتا)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2207]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإیمان 46 (108)، (تحفة الأشراف: 12522)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المساقاة 10 (2369)، الشہادات 22 (2672)، الأحکام 48 (7212)، التوحید 24 (7446)، سنن الترمذی/السیر 35 (1595)، سنن النسائی/البیوع 5 (4463)، مسند احمد (2/253، 480) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: بلکہ امام کے مخالف ہو بیٹھا، اور اس کے خلاف بغاوت کی، جھوٹی قسم کھانا ہر وقت گناہ ہے، لیکن اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عصر کے بعد اور بھی سخت گناہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں