سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. باب : دواء ذات الجنب
باب: ذات الجنب کی دوا کا بیان۔
حدیث نمبر: 3468
حَدَّثَنَا أَبُو طَاهِرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ , أَنْبَأَنَا يُونُسُ , وَابْنُ سَمْعَانَ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ , عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ , قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَيْكُمْ بِالْعُودِ الْهِنْدِيِّ يَعْنِي: بِهِ الْكُسْتَ , فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ مِنْهَا ذَاتُ الْجَنْبِ" , قَالَ ابْنُ سَمْعَانَ فِي الْحَدِيثِ:" فَإِنَّ فِيهِ شِفَاءً مِنْ سَبْعَةِ أَدْوَاءٍ مِنْهَا ذَاتُ الْجَنْبِ".
ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے لیے «عود ہندی» کا استعمال لازمی ہے «کست» کا اس لیے کہ اس میں سات بیماریوں سے شفاء ہے، ان میں ایک «ذات الجنب» بھی ہے“۔ ابن سمعان کے الفاظ اس حدیث میں یہ ہیں: «فإن فيه شفاء من سبعة أدواء منها ذات الجنب» ”اس میں سات امراض کا علاج ہے، ان میں سے ایک مرض «ذات الجنب» ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3468]
حضرت ام قیس (آمنہ) بنت محصن رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «الْعُودَ الْهِنْدِيَّ» (عودِ ہندی) (علاج کے لیے) اختیار کرو، اس میں سات شفائیں ہیں (سات امراض کی شفا ہے)، ان میں سے ایک (بیماری) «ذَاتُ الْجَنْبِ» (ذات الجنب) ہے۔“ ابن سمعان نے اپنی روایت میں بیان کیا ہے کہ ”عودِ ہندی میں سات بیماریوں کی شفا ہے، ان میں سے ایک (بیماری) ذات الجنب ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3468]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الطب 21 (5713)، صحیح مسلم/السلام 28 (2214)، سنن ابی داود/الطب 13 (3877)، (تحفة الأشراف: 18343)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/355، 356) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 3462
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَة , وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ , قَالَتْ: دَخَلْتُ بِابْنٍ لِي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَعْلَقْتُ عَلَيْهِ مِنَ الْعُذْرَةِ , فَقَالَ:" عَلَامَ تَدْغَرْنَ أَوْلَادَكُنَّ بِهَذَا الْعِلَاقِ؟ عَلَيْكُمْ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ , فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ يُسْعَطُ بِهِ مِنَ الْعُذْرَةِ , وَيُلَدُّ بِهِ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ".
ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اپنے بچے کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اور اس سے پہلے میں نے «عذرہ» ۱؎ (ورم حلق) کی شکایت سے اس کا حلق دبایا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”آخر کیوں تم لوگ اپنے بچوں کے حلق دباتی ہو؟ تم یہ عود ہندی اپنے لیے لازم کر لو، اس لیے کہ اس میں سات بیماریوں کا علاج ہے، اگر «عذرہ» ۱؎ (ورم حلق) کی شکایت ہو تو اس کو ناک ٹپکایا جائے، اور اگر «ذات الجنب» ۲؎ (نمونیہ) کی شکایت ہو تو اسے منہ سے پلایا جائے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3462]
حضرت ام قیس (آمنہ) بنت محصن رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں اپنے ایک بچے کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ اس کو گلے پڑ گئے تھے اور میں نے انہیں انگلی سے دبایا تھا (جو اس بیماری کا رائج علاج تھا۔) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس بیماری کا علاج بچوں کا گلا انگلی سے دبا کر کیوں کرتی ہو؟ «الْعُودُ الْهِنْدِيُّ» ”عود ہندی“ استعمال کیا کرو۔ اس میں سات شفائیں ہیں۔ گلے پڑ جانے کی صورت میں ناک میں ٹپکایا جائے، «ذَاتُ الْجَنْبِ» ”ذات الجنب“ کی صورت میں پلایا جائے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3462]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الطب 10 (5692)، 21 (5713)، 23 (5715)، 26 (5718)، صحیح مسلم/السلام 28 (2214)، سنن ابی داود/الطب 13 (3877)، (تحفة الأشراف: 18343)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/355، 356) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «عذرہ» : ایک ورم ہے حلق میں بچوں کو اکثر ہو جاتا ہے، عورتیں دبا کر انگلی سے اس کا علاج کرتی ہیں۔
۲؎: «ذات الجنب» : ایک بیماری ہے جسے نمونیہ کہا جاتا ہے۔
۲؎: «ذات الجنب» : ایک بیماری ہے جسے نمونیہ کہا جاتا ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه