سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. باب : من جر ثوبه من الخيلاء
باب: فخر و غرور سے ٹخنے سے نیچے کپڑا لٹکانے والے پر وارد وعید کا بیان۔
حدیث نمبر: 3570
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ عَطِيَّةَ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ مِنَ الْخُيَلَاءِ , لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" , قَالَ: فَلَقِيتُ بْنَ عُمَرَ بِالْبَلَاطِ , فَذَكَرْتُ لَهُ حَدِيثَ أَبِي سَعِيدٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: وَأَشَارَ إِلَى أُذُنَيْهِ , سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے غرور و تکبر سے اپنا تہبند گھسیٹا، اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی طرف قیامت کے روز نہیں دیکھے گا“۔ عطیہ کہتے ہیں کہ مقام بلاط میں میری ملاقات ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ہوئی تو میں نے ان سے ابوسعید رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث بیان کی جو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے کانوں کی طرف اشارہ کر کے کہا: اسے میرے کانوں نے بھی سنا ہے، اور میرے دل نے اسے محفوظ رکھا ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3570]
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے تکبر کی وجہ سے اپنا تہبند گھسیٹا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف (رحمت کی) نظر نہیں کرے گا۔“ عطیہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: ”بلاط کے مقام پر میں ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے ابو سعید رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کا ذکر کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (یہ حدیث) بیان فرماتے ہیں۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے کانوں کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: ”(یہ صحیح ہے۔) میرے کانوں نے اسے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے) سنا اور میرے دل نے یاد رکھا۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3570]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4210، 7339، ومصباح الزجاجة: 1248)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/اللباس 30 (4093)، موطا امام مالک/اللباس 5 (12)، مسند احمد (3/5، 31، 44، 52، 97) (صحیح)» (سند میں عطیہ عوفی ضعیف راوی ہیں، لیکن باب کی احادیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 3573
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي سَعِيدٍ هَلْ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا فِي الْإِزَارِ؟ قَالَ: نَعَمْ , سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" إِزْرَةُ الْمُؤْمِنِ إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ , لَا جُنَاحَ عَلَيْهِ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَعْبَيْنِ , وَمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ فِي النَّارِ" , يَقُولُ ثَلَاثًا:" لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ بَطَرًا".
عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تہبند کے بارے میں کچھ سنا ہے؟ فرمایا: ہاں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”مومن کا تہبند اس کی آدھی پنڈلی تک ہوتا ہے، اور اگر وہ اس کے اور ٹخنوں کے درمیان کسی بھی جگہ تک رکھے تو بھی کوئی حرج نہیں، لیکن جو ٹخنوں سے نیچے ہو وہ حصہ جہنم میں ہو گا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس کی طرف نہیں دیکھے گا جو اپنا تہبند تکبر کی وجہ سے گھسیٹے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3573]
حضرت عبدالرحمن بن یعقوب جہنی حرقی رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے کہا: ”آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تہبند کے بارے میں کوئی فرمان سنا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”مومن کا تہبند (شلوار، پینٹ اور پائجامہ وغیرہ) اس کی پنڈلیوں کے نصف تک (بلند) ہوتا ہے، اس جگہ اور ٹخنوں کے درمیان رکھنے میں اس پر گناہ نہیں، اور جو ٹخنوں سے نیچے ہو وہ جہنم میں ہے۔““ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین بار فرمائی: ”جو شخص تکبر کے ساتھ تہبند (زمین پر) گھسیٹے گا اللہ تعالیٰ اس کی طرف (رحمت کی نظر سے) نہیں دیکھے گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3573]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/اللباس 30 (4093)، (تحفة الأشراف: 4136)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/اللباس 5 (12)، مسند احمد (3/5، 31، 44، 52، 97) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح