سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. باب : الرخصة فيه مرة
باب: کنکریوں پر ایک بار ہاتھ پھیرنے کی رخصت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1193
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , قَالَ: حَدَّثَنِي مُعَيْقِيبٌ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" إِنْ كُنْتَ لَا بُدَّ فَاعِلًا فَمَرَّةً".
معیقب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”اگر تمہیں (کنکریوں پر) ہاتھ پھیرنا ضروری ہی ہو تو ایک بار پھیر سکتے ہو“۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1193]
حضرت معیقیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تجھے ضرور کنکریوں کو ہموار کرنا پڑے تو ایک دفعہ کرلے (بار بار نہ کر)۔“ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1193]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العمل فی ال صلاة 8 (1207)، صحیح مسلم/المساجد 12 (546)، سنن ابی داود/الصلاة 175 (946)، سنن الترمذی/الصلاة 163 (380)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 62 (1026)، مسند احمد 3/426 و 5/425، 426، سنن الدارمی/الصلاة 110 (1427)، (تحفة الأشراف: 11485) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1192
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , وَالْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ , وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلَا يَمْسَحِ الْحَصَى , فَإِنَّ الرَّحْمَةَ تُوَاجِهُهُ".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز کے لیے کھڑا ہو تو وہ کنکری پر ہاتھ نہ پھیرے، کیونکہ رحمت اس کا سامنا کر رہی ہوتی ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1192]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں ہو تو کنکریاں نہ چھوئے کیونکہ رحمتِ الٰہی اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1192]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 175 (945)، سنن الترمذی/الصلاة 163 (379)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 62 (1027)، (تحفة الأشراف: 11997)، مسند احمد 5/149، 150، 163، 179، سنن الدارمی/الصلاة 110 (1428) (ضعیف) (اس کے راوی ’’أبو الأحوص‘‘ لین الحدیث ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: حسن