سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب : خروج العواتق وذوات الخدور في العيدين
باب: عیدین میں جوان لڑکیوں اور پردہ والی عورتوں کے عیدگاہ جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1559
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ: كَانَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ لَا تَذْكُرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , إِلَّا قَالَتْ: بِأَبِي , فَقُلْتُ: أَسَمِعْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ كَذَا وَكَذَا؟ فَقَالَتْ: نَعَمْ , بِأَبِي، قال:" لِيَخْرُجِ الْعَوَاتِقُ وَذَوَاتُ الْخُدُورِ وَالْحُيَّضُ وَيَشْهَدْنَ الْعِيدَ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ , وَلْيَعْتَزِلِ الْحُيَّضُ الْمُصَلَّى".
حفصہ بنت سرین کہتی ہیں کہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتیں تو کہتی تھیں: ”میرے باپ آپ پر فدا ہوں“ تو میں نے ان سے پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا ایسا ذکر کرتے سنا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، میرے باپ آپ پر فدا ہوں، آپ نے فرمایا: ”چاہیئے کہ دوشیزائیں، پردہ والیاں، اور جو حیض سے ہوں (عید گاہ کو) نکلیں اور سب عید میں اور مسلمانوں کی دعا میں شریک رہیں، البتہ جو حائضہ ہوں وہ صلاۃ گاہ سے الگ رہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1559]
حضرت حفصہ رحمہا اللہ (بنت سیرین) سے روایت ہے کہ حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتی تھیں تو «بِأَبِي» [بابا] ”میرا باپ آپ پر فدا ہو جائے“ ضرور کہتی تھیں۔ (ایک دفعہ) میں نے ان سے کہا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ایسے (یعنی عیدین میں عورتوں کے باہر جانے کے بارے میں) فرماتے سنا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، «بِأَبِي» [بابا] آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بالغ اور پردہ نشین، حتیٰ کہ حیض والی عورتیں بھی باہر عید کے لیے جائیں اور نمازِ عید اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں، البتہ حیض والی عورتیں نماز والی جگہ سے الگ بیٹھی رہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1559]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 390 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 390
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، قال: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حَفْصَةَ، قالت: كَانَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ لَا تَذْكُرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا قَالَتْ: بِأَبِي، فَقُلْتُ: أَسَمِعْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: كَذَا وَكَذَا؟ قَالَتْ: نَعَمْ، بِأَبِي، قَالَ:" لِتَخْرُجْ الْعَوَاتِقُ وَذَوَاتُ الْخُدُورِ وَالْحُيَّضُ، فَيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ، وَتَعْتَزِلِ الْحُيَّضُ الْمُصَلَّى".
حفصہ (حفصہ بنت سیرین) کہتی ہیں کہ ام عطیہ جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتیں تو کہتیں: میرے والد آپ پر قربان ہوں، تو میں نے پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا ایسا فرماتے سنا ہے، انہوں نے کہا: ہاں، میرے والد آپ پر قربان ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”بالغ لڑکیاں، پردے والیاں، اور حائضہ عورتیں نکلیں، اور خطبہ اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں، البتہ حائضہ عورتیں نماز پڑھنے کی جگہ سے الگ رہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 390]
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتیں تو ضرور کہتیں: ”میرا باپ آپ پر فدا ہو۔“ میں نے ان سے کہا: ”کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ایسے فرماتے سنا ہے؟“ وہ کہنے لگیں: ”ہاں، میرا باپ آپ پر فدا ہو۔“ آپ نے فرمایا: ”بالغ، پردہ نشین اور حیض والی عورتیں عید کے لیے نکلیں۔ وہ اس نیکی اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں، البتہ حیض والی عورتیں نماز کی جگہ سے الگ رہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 390]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحیض 23 (324)، والصلاة 2 (351)، والعیدین 15 (971)، 20 (980)، 21 (981)، والحج 81 (1652)، (تحفة الأشراف 18118)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/العیدین 1 (890)، سنن ابی داود/الصلاة 247 (1136)، سنن الترمذی/فیہ 271 (539)، سنن ابن ماجہ/إقامة 165 (1308)، مسند احمد 5/84، 85، ویأتي عند المؤلف في العیدین 2 (برقم 1559) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1560
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قال: لَقِيتُ أُمَّ عَطِيَّةَ , فَقُلْتُ لَهَا: هَلْ سَمِعْتِ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ وَكَانَتْ إِذَا ذَكَرَتْهُ , قَالَتْ: بِأَبِي، قال:" أَخْرِجُوا الْعَوَاتِقَ وَذَوَاتِ الْخُدُورِ فَيَشْهَدْنَ الْعِيدَ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ , وَلْيَعْتَزِلِ الْحُيَّضُ مُصَلَّى النَّاسِ".
محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ میں نے ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات کی اور میں نے ان سے پوچھا: کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے (ایسا ایسا کہتے ہوئے) سنا ہے؟ اور وہ جب بھی آپ کا ذکر کرتیں تو کہتیں: میرے باپ آپ پر فدا ہوں، (انہوں نے کہا: ہاں) آپ نے فرمایا: ”بالغ لڑکیوں کو اور پردہ والیوں کو بھی (عید کی نماز کے لیے) نکالو تاکہ وہ عید میں اور مسلمانوں کی دعا میں شریک رہیں، اور حائضہ عورتیں مصلیٰ (عید گاہ) سے الگ تھلگ رہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1560]
حضرت محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے ملا اور ان سے پوچھا: کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے (نماز عید میں عورتوں کی شرکت کے بارے میں) کچھ سنا ہے؟ اور وہ جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتی تھیں تو وہ کہتی تھیں: «بِأَبِي» ”میرا باپ آپ پر فدا ہو جائے“۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بالغ اور پردہ نشین عورتوں کو بھی (عید میں) ساتھ لے کر جاؤ تاکہ وہ بھی اس نیکی اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں، البتہ حیض والی عورتیں لوگوں کی نماز والی جگہ (عید گاہ) سے الگ رہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1560]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العیدین 15 (974)، صحیح مسلم/العیدین 1 (890)، سنن ابی داود/الصلاة 247 (1137)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 165 (1308)، (تحفة الأشراف: 18095) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه