سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
182. باب : كم طواف القارن والمتمتع بين الصفا والمروة
باب: قارن اور متمتع صفا و مروہ کی سعی کتنی بار کرے؟
حدیث نمبر: 2989
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُ:" لَمْ يَطُفْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ إِلَّا طَوَافًا وَاحِدًا".
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب نے صفا و مروہ کا طواف (یعنی ان دونوں کی سعی) صرف ایک بار کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2989]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں نے صفا و مروہ کا صرف ایک دفعہ طواف کیا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2989]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 17 (1213)، سنن ابی داود/الحج 54 (1895)، (تحفة الأشراف: 2802)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج 102 (947)، سنن ابن ماجہ/المناسک 39 (2973) مسند احمد (3/317) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 2747
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَرَادَ الْحَجَّ عَامَ نَزَلَ الْحَجَّاجُ بِابْنِ الزُّبَيْرِ , فَقِيلَ لَهُ: إِنَّهُ كَائِنٌ بَيْنَهُمْ قِتَالٌ وَأَنَا أَخَافُ أَنْ يَصُدُّوكَ، قَالَ: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21، إِذًا أَصْنَعُ كَمَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ عُمْرَةً ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِظَاهِرِ الْبَيْدَاءِ، قَالَ: مَا شَأْنُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ إِلَّا وَاحِدٌ؟ أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجًّا مَعَ عُمْرَتِي، وَأَهْدَى هَدْيًا اشْتَرَاهُ بِقُدَيْدٍ ثُمَّ انْطَلَقَ يُهِلُّ بِهِمَا جَمِيعًا حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلَمْ يَزِدْ عَلَى ذَلِكَ، وَلَمْ يَنْحَرْ، وَلَمْ يَحْلِقْ، وَلَمْ يُقَصِّرْ وَلَمْ يَحِلَّ مِنْ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ فَنَحَرَ، وَحَلَقَ، فَرَأَى أَنْ قَدْ قَضَى طَوَافَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ بِطَوَافِهِ الْأَوَّلِ وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: كَذَلِكَ فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
نافع سے روایت ہے کہ جس سال حجاج بن یوسف نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما پر چڑھائی کی، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے حج کا ارادہ کیا تو ان سے کہا گیا کہ ان کے درمیان جنگ ہونے والی ہے، مجھے ڈر ہے کہ وہ لوگ آپ کو (حج سے) روک دیں گے تو انہوں نے کہا: (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) تمہارے لیے اللہ کے رسول کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔ اگر ایسی صورت حال پیش آئی تو میں ویسے ہی کروں گا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا ۱؎ میں تمہیں گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے عمرہ واجب کر لیا ہے پھر چلے، جب بیداء کے پاس پہنچے تو کہا: حج و عمرہ دونوں تو ایک ہی ہیں، میں تم لوگوں کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے عمرہ کے ساتھ حج بھی اپنے اوپر واجب کر لیا ہے، اور ہدی بھی ساتھ لے لی جسے قدید میں خریدا تھا پھر کچھ راستے دونوں (حج و عمرہ) کا تلبیہ پکارتے ہوئے چلے یہاں تک کہ مکہ آ گئے، تو بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کی سعی کی اس سے زیادہ کچھ نہ کیا، نہ قربانی کی، نہ سر منڈایا، نہ بال کتروائے، اور نہ ان چیزوں سے حلال ہوئے جو اس کی وجہ سے ان پر حرام ہوئی تھیں یہاں تک کہ جب ذی الحجہ کی دسویں تاریخ آئی تو انہوں نے نحر کیا (قربانی کیا) سر منڈوایا اور یہ خیال کیا کہ پہلے ہی طواف سے حج و عمرہ دونوں کا طواف ہو گیا ہے۔ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2747]
حضرت نافع رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ جس سال حجاج نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ پر حملہ کیا تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سال حج کا ارادہ فرمایا۔ ان سے کہا گیا کہ ان (حجاج اور ابن زبیر) کے درمیان لڑائی ہو گی اور خطرہ ہے کہ لوگ آپ کو بیت اللہ سے روک دیں۔ انہوں نے فرمایا: (قرآن میں ہے:) ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ [سورة الأحزاب: 21] ”یقینا تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز عمل میں بہترین نمونہ ہے۔“ ایسی صورت میں میں اس طرح کروں گا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (صلح حدیبیہ کے زمانے میں) کیا تھا۔ میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے عمرے کا احرام باندھ کر اسے اپنے آپ پر واجب کر لیا ہے، پھر وہ نکلے حتیٰ کہ جب وہ بیداء (مقام) پر پہنچے تو کہنے لگے: حج اور عمرے کا معاملہ (اگر میں بیت اللہ تک نہ پہنچ سکا) تو ایک ہی ہے، لہٰذا میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے عمرے کے ساتھ حج بھی واجب کر لیا ہے (یعنی احرام میں حج کو بھی داخل کر لیا ہے)۔ پھر انہوں نے قربانی کا جانور بھی ساتھ لے لیا جو انہوں نے قدید سے خریدا تھا، پھر وہ دونوں (حج و عمرہ) کی «لَبَّيْكَ» ”لبیک“ کہتے ہوئے چلے حتیٰ کہ مکہ مکرمہ پہنچ گئے۔ بیت اللہ کا طواف کیا، صفا و مروہ کی سعی کی اور اس سے زائد کچھ نہ کیا۔ (اس وقت) نہ قربانی کی، نہ سر منڈوایا، نہ بال کٹوائے اور نہ کسی حرام چیز سے حلال ہوئے حتیٰ کہ قربانیوں کا دن آ گیا، پھر انہوں نے قربانی ذبح کی اور سر منڈوایا اور انہوں نے یہ خیال کیا کہ انہوں نے پہلے طواف کے ساتھ اپنے حج و عمرے کا طواف مکمل کر لیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ہی کیا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2747]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 77 (1640)، صحیح مسلم/الحج26 (1230)، (تحفة الأشراف: 8279) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: صلح حدیبیہ کے موقع پر جب کافروں نے آپ کو مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا تھا تو آپ نے وہیں قربانی کر ڈالی تھی، بال منڈوا لیا تھا اور احرام کھول دیا تھا پھر دوسرے سال آپ نے عمرہ کی قضاء کی تھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 2862
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَاهُ , أَنَّهُمَا كَلَّمَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ لَمَّا نَزَلَ الْجَيْشُ بِابْنِ الزُّبَيْرِ، قَبْلَ أَنْ يُقْتَلَ، فَقَالَا: لَا يَضُرُّكَ أَنْ لَا تَحُجَّ الْعَامَ، إِنَّا نَخَافُ أَنْ يُحَالَ بَيْنك وَبَيْنَ الْبَيْتِ، قَالَ:" خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَالَ كُفَّارُ قُرَيْشٍ دُونَ الْبَيْتِ، فَنَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدْيَهُ، وَحَلَقَ رَأْسَهُ، وَأُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ عُمْرَةً إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْطَلِقُ، فَإِنْ خُلِّيَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْبَيْتِ، طُفْتُ، وَإِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْبَيْتِ فَعَلْتُ مَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ، ثُمَّ سَارَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ: فَإِنَّمَا شَأْنُهُمَا وَاحِدٌ، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجَّةً مَعَ عُمْرَتِي، فَلَمْ يَحْلِلْ مِنْهُمَا حَتَّى أَحَلَّ يَوْمَ النَّحْرِ وَأَهْدَى".
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عبداللہ اور سالم بن عبداللہ بن عمر دونوں نے انہیں خبر دی کہ ان دونوں نے جب حجاج بن یوسف کے لشکر نے ابن زبیر رضی اللہ عنہما پر چڑھائی کی تو ان کے قتل کئے جانے سے پہلے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بات کی ان دونوں نے کہا: امسال آپ حج کے لیے نہ جائیں تو کوئی نقصان نہیں، ہمیں اندیشہ ہے کہ ہمارے اور بیت اللہ کے درمیان کوئی رکاوٹ نہ کھڑی کر دی جائے، تو انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، تو کفار قریش بیت اللہ تک پہنچنے میں حائل ہو گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (وہیں) اپنی ہدی کا نحر کر لیا اور سر منڈا لیا (اور حلال ہو گئے) سنو! میں تمہیں گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے عمرہ (اپنے اوپر) واجب کر لیا ہے۔ ان شاءاللہ میں جاؤں گا اگر مجھے بیت اللہ تک پہنچنے سے نہ روکا گیا تو میں طواف کروں گا، اور اگر میرے اور بیت اللہ کے درمیان کوئی رکاوٹ پیش آ گئی تو میں وہی کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا اور میں آپ کے ساتھ تھا۔ پھر وہ تھوڑی دیر چلتے رہے۔ پھر کہنے لگے بلاشبہ حج و عمرہ دونوں کا معاملہ ایک جیسا ہے، میں تمہیں گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے عمرہ کے ساتھ حج بھی اپنے اوپر واجب کر لیا ہے۔ چنانچہ انہوں نے حج و عمرہ دونوں میں سے کسی سے بھی احرام نہیں کھولا۔ یہاں تک کہ یوم النحر (دسویں ذی الحجہ) کو احرام کھولا، اور ہدی کی قربانی کی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2862]
حضرت عبداللہ بن عبداللہ اور حضرت سالم بن عبداللہ نے (اپنے والد) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے گفتگو کی، یہ اس وقت کی بات ہے جب (حجاج کا) لشکر حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ کا محاصرہ کر چکا تھا۔ ابھی انہیں شہید نہیں کیا گیا تھا۔ وہ دونوں کہنے لگے کہ آپ اس سال حج کو نہ جائیں تو آپ کو کوئی نقصان نہیں۔ ہمیں خطرہ ہے کہ ہمیں بیت اللہ تک پہنچنے میں رکاوٹ پڑ جائے گی۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (عمرہ کرنے کے لیے) گئے تھے۔ کفار قریش نے بیت اللہ تک نہ جانے دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قربانی ذبح کی اور سر منڈوا دیا۔ میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے عمرے کا احرام باندھ لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے چاہا تو میں جاؤں گا۔ اگر میرے اور بیت اللہ کے درمیان راستہ کھلا رہا تو میں طواف (یعنی عمرہ) کر لوں گا اور اگر رکاوٹ پڑ گئی تو میں وہی کچھ کروں گا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا تھا۔ پھر کچھ دیر چلنے کے بعد کہنے لگے عمرہ اور حج دونوں کا معاملہ ایک ہی ہے، لہٰذا میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے عمرے کے ساتھ حج کا احرام بھی باندھ لیا ہے۔ تو آپ ان سے حلال نہیں ہوئے حتیٰ کہ قربانیوں والے دن قربانی ذبح کی اور پھر حلال ہوئے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2862]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المحصر 1 (1807)، 1808)، المغازي 35 (4185)، (تحفة الأشراف: 7032) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 2935
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ،" قَرَنَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ، فَطَافَ طَوَافًا وَاحِدًا , وَقَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے حج و عمرہ کو ایک ساتھ ملایا، اور (ان دونوں کے لیے) ایک ہی طواف کیا، اور کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2935]
حضرت نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے حج اور عمرے کا اکٹھا احرام باندھا اور ایک طواف کیا، پھر فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے کرتے دیکھا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2935]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 7602)، مسند احمد (2/11، 12)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/المناسک 39 (2973) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 2936
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، وَأَيُّوبُ بْنُ مُوسَى، وَإِسْمَاعِيل بْنُ أُمَيَّةَ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: خَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ،" فَلَمَّا أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ أَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ، فَسَارَ قَلِيلًا، فَخَشِيَ أَنْ يُصَدَّ عَنْ الْبَيْتِ، فَقَالَ: إِنْ صُدِدْتُ صَنَعْتُ كَمَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" وَاللَّهِ مَا سَبِيلُ الْحَجِّ إِلَّا سَبِيلُ الْعُمْرَةِ، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ مَعَ عُمْرَتِي حَجًّا، فَسَارَ حَتَّى أَتَى قُدَيْدًا فَاشْتَرَى مِنْهَا هَدْيًا، ثُمَّ قَدِمَ مَكَّةَ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَقَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ وہ نکلے تو جب وہ ذوالحلیفہ آئے تو انہوں نے عمرے کا احرام باندھا، پھر تھوڑی دیر چلے، پھر وہ ڈرے کہ بیت اللہ تک پہنچنے سے پہلے ہی انہیں روک نہ دیا جائے تو انہوں نے کہا: اگر مجھے روک دیا گیا تو میں ویسے ہی کروں گا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا۔ انہوں نے کہا: قسم اللہ کی! حج کی راہ بھی وہی ہے جو عمرہ کی ہے، میں تم لوگوں کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے عمرہ کے ساتھ حج بھی اپنے اوپر واجب کر لیا ہے، پھر وہ چلے یہاں تک کہ وہ قدید آئے، اور وہاں سے ہدی (قربانی کا جانور) خریدا، پھر مکہ آئے۔ اور بیت اللہ کے سات پھیرے کیے اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کی اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2936]
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما (مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ کے لیے) نکلے، جب ذوالحلیفہ میں پہنچے تو عمرے کا احرام باندھا، تھوڑی دور چلے تو انہیں خطرہ ہوا کہ کہیں بیت اللہ سے روک نہ دیے جائیں، پھر فرمانے لگے: اگر مجھے روک دیا گیا تو میں ویسے ہی کروں گا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایسے موقع پر) کیا تھا، پھر فرمانے لگے: «وَاللّٰهِ!» ”اللہ کی قسم!“ اس مسئلے میں حج اور عمرہ برابر ہی ہیں، میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے عمرے کے ساتھ حج کا احرام بھی باندھ لیا ہے، پھر چلتے رہے حتیٰ کہ جب مقام قدید میں پہنچے تو وہاں سے قربانی کا جانور خریدا، پھر مکہ پہنچے تو بیت اللہ کے سات چکر لگائے اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کی اور فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے کرتے دیکھا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2936]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2747 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح