سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
203. باب : فرض الوقوف بعرفة
باب: عرفہ میں ٹھہرنے کی فرضیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3019
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْمَرَ، قَالَ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهُ نَاسٌ، فَسَأَلُوهُ عَنِ الْحَجِّ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْحَجُّ عَرَفَةُ، فَمَنْ أَدْرَكَ لَيْلَةَ عَرَفَةَ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ مِنْ لَيْلَةِ جَمْعٍ فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ".
عبدالرحمٰن بن یعمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا کہ اتنے میں کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور انہوں نے حج کے متعلق آپ سے پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حج عرفات میں ٹھہرنا ہے جس شخص نے عرفہ کی رات مزدلفہ کی رات طلوع فجر سے پہلے پا لی تو اس کا حج پورا ہو گیا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3019]
حضرت عبدالرحمن بن یعمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر تھا کہ آپ کے پاس کچھ لوگ آئے اور آپ سے حج کے بارے میں سوالات کیے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حج وقوفِ عرفہ کا نام ہے۔ جو شخص مزدلفہ میں گزاری جانے والی رات کی صبح طلوع ہونے سے پہلے عرفات (سے ہو کر مزدلفہ) آ جائے اس کا حج پورا ہو گیا۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3019]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحج 69 (1949)، سنن الترمذی/57 (889، 980)، سنن ابن ماجہ/الحج 57 (3015)، (تحفة الأشراف: 9735)، مسند احمد (4/309، 310، 335)، سنن الدارمی/المناسک 57 (1929)، ویأتي عند المؤلف برقم: 3047 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اس نے عرفہ کا وقوف پا لیا جو حج کا ایک رکن ہے، اور حج کے فوت ہونے سے مامون ہو گیا، یہ مطلب نہیں کہ اس کا حج پورا ہو گیا، اب اسے کچھ اور نہیں کرنا ہے، ابھی تو طواف افاضہ جو حج کا ایک رکن ہے باقی ہے بغیر اس کے حج کیسے پورا ہو سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 3047
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ عَطَاءٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَعْمَرَ الدِّيلِيَّ، قَالَ: شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ وَأَتَاهُ نَاسٌ مِنْ نَجْدٍ، فَأَمَرُوا رَجُلًا فَسَأَلَهُ عَنِ الْحَجِّ؟، فَقَالَ:" الْحَجُّ عَرَفَةُ، مَنْ جَاءَ لَيْلَةَ جَمْعٍ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ، فَقَدْ أَدْرَكَ حَجَّهُ أَيَّامُ مِنًى ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ، مَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ , ثُمَّ أَرْدَفَ رَجُلًا، فَجَعَلَ يُنَادِي بِهَا فِي النَّاسِ.
عبدالرحمٰن بن یعمر دیلی کہتے ہیں کہ میں عرفہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا۔ آپ کے پاس نجد سے کچھ لوگ آئے تو انہوں نے ایک شخص کو حکم دیا، تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے حج کے بارے میں پوچھا، آپ نے فرمایا: ”حج عرفہ (میں وقوف) ہے، جو شخص مزدلفہ کی رات میں صبح کی نماز سے پہلے عرفہ آ جائے، تو اس نے اپنا حج پا لیا۔ منیٰ کے دن تین دن ہیں، تو جو دو ہی دن قیام کر کے چلا جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے، اور جو تاخیر کرے اور تیرہویں کو بھی رکے تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں ہے“۔ پھر آپ نے ایک شخص کو اپنے پیچھے سواری پر بٹھا لیا، جو لوگوں میں اسے پکار پکار کر کہنے لگا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3047]
حضرت عبدالرحمن بن یعمر دیلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عرفہ میں موجود تھا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نجد والوں میں سے کچھ لوگ آئے۔ انہوں نے ایک آدمی سے کہا تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حج کے بارے میں سوال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حج وقوفِ عرفہ کا نام ہے۔ جو شخص (عرفہ سے ہو کر) صبح کی نماز سے پہلے مزدلفہ میں آ گیا، اس نے حج پا لیا۔ منیٰ کے دن تین ہیں: جو شخص دو دن ٹھہر کر جلدی آ جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو شخص تیسرے دن بھی ٹھہرا رہا، اس پر بھی کوئی گناہ نہیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے ایک آدمی بٹھایا جو لوگوں میں یہ اعلان کرتا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3047]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3019 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن