سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. باب : ما ينال من الحائض وتأويل قول الله عز وجل { ويسألونك عن المحيض قل هو أذى فاعتزلوا النساء في المحيض } الآية
باب: حائضہ سے استفادہ کا بیان اور اللہ عزوجل کے فرمان: «ويسألونك عن المحيض» کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 369
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قال: كَانَتْ الْيَهُودُ إِذَا حَاضَتِ الْمَرْأَةُ مِنْهُمْ لَمْ يُؤَاكِلُوهُنَّ وَلَا يُشَارِبُوهُنَّ وَلَا يُجَامِعُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ، فَسَأَلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى سورة البقرة آية 222 الْآيَةَ،" فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُؤَاكِلُوهُنَّ وَيُشَارِبُوهُنَّ وَيُجَامِعُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ، وَأَنْ يَصْنَعُوا بِهِنَّ كُلَّ شَيْءٍ مَا خَلَا الْجِمَاعَ"، فَقَالَتْ الْيَهُودُ: مَا يَدَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا مِنْ أَمْرِنَا إِلَّا خَالَفَنَا، فَقَامَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ، وَعَبَّادُ بْنُ بِشْرٍ فَأَخْبَرَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَا: أَنُجَامِعُهُنَّ فِي الْمَحِيضِ؟ فَتَمَعَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمَعُّرًا شَدِيدًا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ قَدْ غَضِبَ، فَقَامَا فَاسْتَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدِيَّةَ لَبَنٍ فَبَعَثَ فِي آثَارِهِمَا فَرَدَّهُمَا فَسَقَاهُمَا، فَعُرِفَ أَنَّهُ لَمْ يَغْضَبْ عَلَيْهِمَا.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہود کی عورتیں جب حائضہ ہو جاتیں تھی تو وہ ان کے ساتھ نہ کھاتے پیتے اور نہ انہیں اپنے ساتھ گھروں میں رکھتے تھے، تو لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے (اس کے متعلق) پوچھا، تو اللہ عزوجل نے آیت کریمہ: «ويسألونك عن المحيض قل هو أذى» ”آپ سے لوگ حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں تو آپ کہہ دیجئیے وہ گندگی ہے“ (البقرہ: ۲۲۲) نازل فرمائی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ ان کے ساتھ کھائیں پئیں اور انہیں اپنے گھروں میں رکھیں، اور جماع کے علاوہ ان کے ساتھ سب کچھ کریں، اس پر یہود کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی معاملہ ایسا نہیں چھوڑتے جس میں ہماری مخالفت نہ کرتے ہوں، اس پر اسید بن حضیر اور عباد بن بشر رضی اللہ عنہم دونوں اٹھے، اور جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی، اور کہنے لگے: کیا ہم حیض کے دنوں میں ان سے جماع نہ کریں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ سخت متغیر ہو گیا یہاں تک کہ ہم نے سمجھا کہ آپ ناراض ہو گئے ہیں، (اسی دوران) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ کا تحفہ آیا، تو آپ نے ان کے پیچھے (آدمی) بھیجا وہ انہیں بلا کر لایا، آپ نے ان کو دودھ پلایا، تو اس سے جانا گیا کہ آپ ان دونوں سے ناراض نہیں ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 369]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ یہودیوں میں جب کسی عورت کو حیض آتا تو وہ اس کے ساتھ کھاتے پیتے نہ ان کے ساتھ گھروں میں رہتے۔ لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتار دی: ﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ ۖ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ﴾ [سورة البقرة: 222] ”اور لوگ آپ سے حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دیجیے: وہ پلید چیز ہے، لہٰذا حیض کی حالت میں عورتوں (کے ساتھ جماع) سے دور رہو۔“ تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ ان کے ساتھ کھائیں، پئیں اور گھروں میں انہیں ساتھ رکھیں اور ”جماع کے سوا سب کچھ کریں۔“ یہودی کہنے لگے: ”یہ رسول تو ہر چیز میں ہماری مخالفت کرتا ہے۔“ حضرت اسید بن حضیر اور حضرت عباد بن بشر رضی اللہ عنہما کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی اور کہنے لگے: ”کیا ہم حیض کی حالت میں جماع بھی کر لیا کریں؟“ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک سخت متغیر ہو گیا، حتیٰ کہ ہم نے سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پر ناراض ہوگئے ہیں، لہٰذا وہ اٹھ کھڑے ہوئے۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ کا تحفہ آگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے آدمی بھیجا، وہ ان کو واپس لایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دودھ پلایا جس سے پتہ چل گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پر ناراض نہیں ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 369]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 289 وھو مختصر (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 289
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِثٍ، عَنْ أَنَسٍ، قال: كَانَتْ الْيَهُودُ إِذَا حَاضَتِ الْمَرْأَةُ مِنْهُمْ لَمْ يُؤَاكِلُوهُنَّ وَلَمْ يُشَارِبُوهُنَّ وَلَمْ يُجَامِعُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ، فَسَأَلُوا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى سورة البقرة آية 222 الْآيَةَ" فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُؤَاكِلُوهُنَّ وَيُشَارِبُوهُنَّ وَيُجَامِعُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ، وَأَنْ يَصْنَعُوا بِهِنَّ كُلَّ شَيْءٍ مَا خَلَا الْجِمَاعَ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہود کی عورتیں جب حائضہ ہوتیں تو وہ ان کے ساتھ نہ کھاتے پیتے اور نہ انہیں گھروں میں اپنے ساتھ رکھتے، تو لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کیا، تو اللہ عزوجل نے آیت کریمہ: «ويسألونك عن المحيض قل هو أذى» (البقرہ: ۲۲۲) ”لوگ آپ سے حیض کے متعلق دریافت کرتے ہیں، آپ فرما دیجئیے: وہ گندگی ہے“ نازل فرمائی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ ان کے ساتھ کھائیں، پئیں اور انہیں اپنے ساتھ گھروں میں رکھیں، اور جماع کے علاوہ ان کے ساتھ سب کچھ کریں۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 289]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہودی قوم میں جب کسی عورت کو حیض شروع ہوتا تو وہ اس کے ساتھ مل جل کر کھاتے نہ پیتے تھے اور نہ گھر میں اس کے ساتھ رہتے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتار دی: ﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ ۖ قُلْ هُوَ أَذًى﴾ [سورة البقرة: 222] ”یہ آپ سے حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں، آپ فرما دیجیے: وہ گندی چیز ہے……“ تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں حکم دیا کہ وہ ان کے ساتھ مل جل کر کھائیں پئیں اور گھروں میں ان کے ساتھ رہیں اور ان کے ساتھ ہر قسم کی محبت پیار کریں، سوائے جماع کے (کہ وہ حرام ہے)۔ یہودی کہنے لگے: ”یہ رسول ہماری ہر چیز میں مخالفت کرتا ہے“، تو حضرت اسید بن حضیر اور حضرت عباد بن بشر رضی اللہ عنہما کھڑے ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہودیوں کی اس بات کی خبر دی، پھر کہنے لگے: ”کیا ہم حیض کی حالت میں ان کے ساتھ جماع بھی نہ کرلیا کریں؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ سختی سے بدل گیا حتیٰ کہ ہم نے سمجھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پر ناراض ہوگئے ہیں، چنانچہ وہ دونوں اٹھ کر چلے گئے کہ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ کا تحفہ آگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے آدمی بھیجا اور انھیں واپس بلوایا اور انھیں دودھ پلایا تو وہ سمجھ گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم پر ناراض نہیں ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 289]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحیض 3 (302)، سنن ابی داود/الطہارة 103 (258)، النکاح 47 (2165)، سنن الترمذی/تفسیر البقرة (2977)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 125 (644)، (تحفة الأشراف: 308)، مسند احمد 3/132، 246، سنن الدارمی/الطھارة 107 (1093)، ویأتي عند المؤلف في الحیض 8، باتم مما ھنا (برقم: 369) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم