سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
89. باب : بيع فضل الماء
باب: فاضل پانی بیچنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4666
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ , عَنْ عَمْرٍو , عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ , عَنْ إِيَاسٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنْ بَيْعِ فَضْلِ الْمَاءِ".
ایاس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاضل پانی کے بیچنے سے منع فرمایا ہے، وہط کے نگراں نے وہط کا فاضل پانی بیچا تو عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے اسے ناپسند کیا۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4666]
حضرت ایاس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”زائد پانی بیچنے“ سے منع فرمایا ہے۔ (حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی زمین) وہط کے ناظم نے وہط کا زائد پانی بیچا تو حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے اسے ناپسند فرمایا۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4666]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 4665
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ , وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَاللَّفْظُ لَهُ , قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْمِنْهَالِ , يَقُولُ: سَمِعْتُ إِيَاسَ بْنَ عُمَرَ , وَقَالَ مَرَّةً: ابْنَ عَبْدٍ , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَنْهَى عَنْ بَيْعِ الْمَاءِ" , قَالَ قُتَيْبَةُ: لَمْ أَفْقَهْ عَنْهُ بَعْضَ حُرُوفِ أَبِي الْمِنْهَالِ كَمَا أَرَدْتُ.
ایاس بن عمر (یا ابن عبد) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پانی بیچنے سے منع فرماتے ہوئے سنا۔ قتیبہ کہتے ہیں: مجھے ان (سفیان) سے ایک مرتبہ ابومنہال کے بعض کلمات سمجھ میں نہیں آئے جیسا میں نے چاہا۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4665]
حضرت ایاس بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ”پانی کی فروخت سے منع فرماتے“ سنا۔ استاذ قتیبہ نے کہا کہ میں اس (استاذ سفیان بن عیینہ) سے ابو منہال کے بعض حروف اس طرح نہیں سمجھ سکا جس طرح میں چاہتا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4665]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/البیوع 63 (3478)، سنن الترمذی/البیوع 44 (1271)، سنن ابن ماجہ/الرہون 18 (الأحکام 79) (2476)، (تحفة الأشراف: 1747)، مسند احمد (3/138) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 4667
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ , عَنْ حَجَّاجٍ , قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ , أَنَّ أَبَا الْمِنْهَالِ أَخْبَرَهُ , أَنَّ إِيَاسَ بْنَ عَبْدٍ صَاحِبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: لَا تَبِيعُوا فَضْلَ الْمَاءِ , فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنْ بَيْعِ فَضْلِ الْمَاءِ".
ابومنہال نے خبر دی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ایاس بن عبد رضی اللہ عنہ نے کہا: فاضل پانی مت بیچو، اس لیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فاضل پانی بیچنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4667]
صحابیِ رسول حضرت ایاس بن عبد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”زائد پانی نہ بیچو“ کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فالتو پانی بیچنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4667]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4665 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن