🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب : ذكر اختلاف ألفاظ الناقلين لخبر سهل فيه
باب: اس سلسلے میں سہل کی حدیث کے ناقلین کے الفاظ میں اختلاف کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4720
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ الْأَنْصَارِيَّ , وَمُحَيِّصَةَ بْنَ مَسْعُودٍ خَرَجَا إِلَى خَيْبَرَ، فَتَفَرَّقَا فِي حَاجَتِهِمَا، فَقُتِلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلٍ الْأَنْصَارِيُّ، فَجَاءَ مُحَيِّصَةُ , وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ أَخُو الْمَقْتُولِ، وَحُوَيِّصَةُ بْنُ مَسْعُودٍ حَتَّى أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَتَكَلَّمُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْكُبْرَ الْكُبْرَ"، فَتَكَلَّمَ مُحَيِّصَةُ , وَحُوَيِّصَةُ، فَذَكَرُوا شَأْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَهْلٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَحْلِفُونَ خَمْسِينَ يَمِينًا فَتَسْتَحِقُّونَ قَاتِلَكُمْ؟"، قَالُوا: كَيْفَ نَحْلِفُ وَلَمْ نَشْهَدْ وَلَمْ نَحْضُرْ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَتُبَرِّئُكُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ يَمِينًا"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ نَقْبَلُ أَيْمَانَ قَوْمٍ كُفَّارٍ؟ قَالَ: فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ بُشَيْرٌ: قَالَ لِي سَهْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ: لَقَدْ رَكَضَتْنِي فَرِيضَةٌ مِنْ تِلْكَ الْفَرَائِضِ فِي مِرْبَدٍ لَنَا.
سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن سہل انصاری اور محیصہ بن مسعود رضی اللہ عنہما خیبر کی طرف نکلے پھر اپنی ضرورتوں کے لیے الگ الگ ہو گئے اور عبداللہ بن سہل انصاری رضی اللہ عنہ کا قتل ہو گیا۔ چنانچہ محیصہ، مقتول کے بھائی عبدالرحمٰن اور حویصہ بن مسعود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو عبدالرحمٰن بات کرنے لگے۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: بڑوں کا لحاظ کرو، بڑوں کا لحاظ کرو۔ پھر محیصہ اور حویصہ رضی اللہ عنہما نے گفتگو کی اور عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کا معاملہ بیان کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں پچاس قسمیں کھانی ہوں گی، پھر تم اپنے قاتل کے (خون کے) حقدار بنو گے، وہ بولے: ہم قسم کیوں کر کھائیں، نہ ہم موجود تھے اور نہ ہم نے دیکھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پھر یہودی پچاس قسمیں کھا کر تمہارے شک کو دور کریں گے۔ وہ بولے: ہم کافروں کی قسمیں کیسے قبول کریں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی دیت ادا کی۔ بشیر کہتے ہیں: مجھ سے سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: دیت میں دی گئی ان اونٹنیوں میں سے ایک اونٹنی نے ہمارے «مربد» (باڑھ) میں مجھے لات ماری۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4720]
حضرت سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن سہل انصاری اور محیصہ بن مسعود دونوں خیبر گئے۔ وہاں وہ اپنے اپنے کام میں ادھر ادھر ہو گئے تو عبداللہ بن سہل انصاری قتل کر دیے گئے۔ پھر محیصہ، مقتول کا بھائی عبدالرحمن اور حویصہ بن مسعود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ عبدالرحمن بات شروع کرنے لگے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: بڑے کو پہلے بات کرنے دو۔ تو محیصہ اور حویصہ نے بات شروع کی اور عبداللہ بن سہل کے قتل کا واقعہ بیان کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پچاس قسمیں کھا کر اپنے قاتل کا مواخذہ کر سکتے ہو؟ وہ کہنے لگے: ہم کیسے قسمیں کھائیں ہم تو وہاں موجود نہیں تھے اور نہ ہم نے واقعہ دیکھا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر یہودی پچاس قسمیں کھا کر بری ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کافر لوگوں کی قسمیں کیسے قبول کریں! پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دیت خود ادا فرما دی۔ حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہمارے باڑے میں ان اونٹوں میں سے ایک اونٹنی نے مجھے لات بھی ماری تھی۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4720]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4714 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4714
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي لَيْلَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ , وَمُحَيِّصَةَ خَرَجَا إِلَى خَيْبَرَ مِنْ جَهْدٍ أَصَابَهُمَا، فَأُتِيَ مُحَيِّصَةُ , فَأُخْبِرَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ قَدْ قُتِلَ وَطُرِحَ فِي فَقِيرٍ أَوْ عَيْنٍ فَأَتَى يَهُودَ، فَقَالَ: أَنْتُمْ وَاللَّهِ قَتَلْتُمُوهُ، فَقَالُوا: وَاللَّهِ مَا قَتَلْنَاهُ، ثُمَّ أَقْبَلَ حَتَّى قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، ثُمَّ أَقْبَلَ هُوَ وَحُوَيِّصَةُ وَهُوَ أَخُوهُ أَكْبَرُ مِنْهُ , وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ فَذَهَبَ مُحَيِّصَةُ لِيَتَكَلَّمَ وَهُوَ الَّذِي كَانَ بِخَيْبَرَ، فَقَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَبِّرْ كَبِّرْ"، وَتَكَلَّمَ حُوَيِّصَةُ، ثُمَّ تَكَلَّمَ مُحَيِّصَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِمَّا أَنْ يَدُوا صَاحِبَكُمْ , وَإِمَّا أَنْ يُؤْذَنُوا بِحَرْبٍ , فَكَتَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ"، فَكَتَبُوا: إِنَّا وَاللَّهِ مَا قَتَلْنَاهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحُوَيِّصَةَ , وَمُحَيِّصَةَ , وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ:" تَحْلِفُونَ وَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ صَاحِبِكُمْ؟"، قَالُوا: لَا، قَالَ:" فَتَحْلِفُ لَكُمْ يَهُودُ"، قَالُوا: لَيْسُوا مُسْلِمِينَ، فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ بِمِائَةِ نَاقَةٍ حَتَّى أُدْخِلَتْ عَلَيْهِمُ الدَّارَ، قَالَ سَهْلٌ: لَقَدْ رَكَضَتْنِي مِنْهَا نَاقَةٌ حَمْرَاءُ.
سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ رضی اللہ عنہما (رزق کی) تنگی کی وجہ سے خیبر کی طرف نکلے تو محیصہ کے پاس کسی نے آ کر بتایا کہ عبداللہ بن سہل کا قتل ہو گیا ہے، اور انہیں ایک کنویں میں یا چشمے میں ڈال دیا گیا ہے، یہ سن کر وہ (محیصہ) یہودیوں کے پاس گئے اور کہا: اللہ کی قسم! تم ہی نے انہیں قتل کیا ہے۔ وہ بولے: اللہ کی قسم! انہیں ہم نے قتل نہیں کیا۔ پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے اس کا ذکر کیا، پھر وہ، حویصہ (ان کے بڑے بھائی) اور عبدالرحمٰن بن سہل رضی اللہ عنہما ساتھ آئے تو محیصہ رضی اللہ عنہ نے گفتگو کرنا چاہی (وہی خیبر میں ان کے ساتھ تھے) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بڑے کا لحاظ کرو، بڑے کا لحاظ کرو، اور حویصہ رضی اللہ عنہ نے گفتگو کی پھر محیصہ رضی اللہ عنہ نے کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس سلسلے میں) فرمایا: یا تو وہ تمہارے ساتھی کی دیت ادا کریں یا، پھر ان سے جنگ کے لیے کہہ دیا جائے، اور یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لکھ بھیجی، تو انہوں نے لکھا: اللہ کی قسم! ہم نے انہیں قتل نہیں کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حویصہ، محیصہ اور عبدالرحمٰن (رضی اللہ عنہم) سے فرمایا: تمہیں قسم کھانا ہو گی ۲؎ اور پھر تمہیں اپنے آدمی کے خون کا حق ہو گا، وہ بولے: نہیں، آپ نے فرمایا: تو پھر یہودی قسم کھائیں گے، وہ بولے: وہ تو مسلمان نہیں ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس (یعنی بیت المال) سے ان کی دیت ادا کی اور ان کے پاس سو اونٹ بھیجے یہاں تک کہ وہ ان کے گھر میں داخل ہو گئے، سہل رضی اللہ عنہ نے کہا: ان میں سے ایک سرخ اونٹنی نے مجھے لات ماری تھی۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4714]
حضرت سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ رضی اللہ عنہما بھوک اور مشقت کے ستائے ہوئے خیبر کی طرف گئے۔ محیصہ رضی اللہ عنہ کسی کام سے واپس آئے تو انہیں بتایا گیا کہ عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کو قتل کر کے کنویں یا چشمے میں پھینک دیا گیا ہے۔ وہ یہودیوں کے پاس گئے اور کہا: اللہ کی قسم! تم نے اسے قتل کیا ہے۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم نے اسے قتل نہیں کیا۔ پھر وہ مدینہ منورہ واپس آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہو کر پوری بات آپ سے ذکر کی۔ پھر وہ خود، ان کے بڑے بھائی حویصہ اور (مقتول کے بھائی) عبدالرحمن بن سہل رضی اللہ عنہم تینوں آئے۔ محیصہ رضی اللہ عنہ بات کرنے لگے کیونکہ وہ خیبر میں (مقتول کے ساتھ) تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بڑے کو بات کرنے دو۔ تب حویصہ رضی اللہ عنہ نے بات کی۔ پھر محیصہ رضی اللہ عنہ نے بھی بات چیت کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بابت فرمایا: یا تو یہودی تمہارے مقتول کی دیت دیں گے یا انہیں جنگ لڑنا ہوگی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بابت یہودیوں کو خط لکھا۔ انہوں نے (جواباً) لکھا: اللہ کی قسم! ہم نے اسے قتل نہیں کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حویصہ، محیصہ اور عبدالرحمن رضی اللہ عنہم سے فرمایا: کیا تم (پچاس) قسمیں کھا کر اپنے مقتول کے بدلے کے حق دار بنتے ہو؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر یہودی تمہارے سامنے (پچاس) قسمیں کھا لیں؟ انہوں نے کہا: وہ تو مسلمان نہیں (جھوٹی قسمیں کھا جائیں گے)۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مقتول کی دیت اپنی طرف (بیت المال) سے ادا کر دی اور ان کو سو اونٹنیاں بھیج دیں، حتیٰ کہ وہ ان کے گھر میں داخل کی گئیں۔ حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ان میں سے ایک سرخ اونٹنی نے مجھے لات بھی ماری تھی۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4714]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلح 7 (2702)، الجزیة 12 (3173)، الأدب 89 (6143)، الدیات 22 (6898)، الأحکام 38 (7192)، صحیح مسلم/القسامة 1 (الحدود 1) (1669)، سنن ابی داود/الدیات 8 (2520، 2521)، 9 (2523)، سنن الترمذی/الدیات 23 (1442)، سنن ابن ماجہ/الدیات28(2677)، (تحفة الأشراف: 4644)، مسند احمد (4/2، 3)، سنن الدارمی/الدیات 2 (2398)، انظرالأرقام التالیة 4715-4723 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی: قسامہ میں پہلے مقتول کے ورثاء سے کہا جائے گا کہ تم لوگ قسم کھا لو تو تم کو قتل کی دیت دے دی جائے گی، اور جب ورثاء قسم سے انکار کر دیں گے تب مدعا علیہم سے قسم کھانے کو کہا جائے گا اب اگر وہ بھی قسم کھا لیں گے تو دیت بیت المال سے دلائی جائے گی جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملہ میں کیا تھا۔ ۲؎: اسی جملہ کی باب سے مناسبت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4715
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي لَيْلَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ , وَرِجَالٌ كُبَرَاءُ مِنْ قَوْمِهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ , وَمُحَيِّصَةَ خَرَجَا إِلَى خَيْبَرَ مِنْ جَهْدٍ أَصَابَهُمْ، فَأَتَى مُحَيِّصَةُ فَأَخْبَرَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ قَدْ قُتِلَ وَطُرِحَ فِي فَقِيرٍ أَوْ عَيْنٍ فَأَتَى يَهُودَ، وَقَالَ: أَنْتُمْ وَاللَّهِ قَتَلْتُمُوهُ، قَالُوا: وَاللَّهِ مَا قَتَلْنَاهُ فَأَقْبَلَ حَتَّى قَدِمَ عَلَى قَوْمِهِ فَذَكَرَ لَهُمْ، ثُمَّ أَقْبَلَ هُوَ وَأَخُوهُ حُوَيِّصَةُ، وَهُوَ أَكْبَرُ مِنْهُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ فَذَهَبَ مُحَيِّصَةُ لِيَتَكَلَّمَ , وَهُوَ الَّذِي كَانَ بِخَيْبَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمُحَيِّصَةَ:" كَبِّرْ كَبِّرْ" , يُرِيدُ السِّنَّ , فَتَكَلَّمَ حُوَيِّصَةُ، ثُمَّ تَكَلَّمَ مُحَيِّصَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِمَّا أَنْ يَدُوا صَاحِبَكُمْ وَإِمَّا أَنْ يُؤْذَنُوا بِحَرْبٍ فَكَتَبَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ"، فَكَتَبُوا: إِنَّا , وَاللَّهِ مَا قَتَلْنَاهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحُوَيِّصَةَ , وَمُحَيِّصَةَ , وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ:" أَتَحْلِفُونَ وَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ صَاحِبِكُمْ؟"، قَالُوا: لَا، قَالَ:" فَتَحْلِفُ لَكُمْ يَهُودُ"، قَالُوا: لَيْسُوا بِمُسْلِمِينَ , فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ، فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ بِمِائَةِ نَاقَةٍ حَتَّى أُدْخِلَتْ عَلَيْهِمُ الدَّارَ، قَالَ سَهْلٌ: لَقَدْ رَكَضَتْنِي مِنْهَا نَاقَةٌ حَمْرَاءُ.
سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان سے ان کے قبیلہ کے کچھ بڑوں نے بیان کیا کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ رضی اللہ عنہ تنگ حالی کی وجہ سے خیبر کی طرف نکلے، محیصہ رضی اللہ عنہ کے پاس کسی نے آ کر بتایا کہ عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ مارے گئے، انہیں ایک کنویں یا چشمے میں پھینک دیا گیا ہے۔ محیصہ یہودیوں کے پاس آئے اور کہا: اللہ کی قسم! تم لوگوں نے اسے قتل کیا ہے، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم نے انہیں قتل نہیں کیا، پھر وہ اپنے قبیلے کے پاس آئے اور ان سے اس کا تذکرہ کیا۔ پھر وہ، ان کے بھائی حویصہ (حویصہ ان سے بڑے تھے) اور عبدالرحمٰن بن سہل چلے۔ (اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے) تو محیصہ نے بات کرنی چاہی (وہی خیبر میں گئے) تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محیصہ سے فرمایا: بڑے کا لحاظ کرو، بڑے کا لحاظ کرو۔ آپ کی مراد عمر میں بڑے ہونے سے تھی، چنانچہ حویصہ نے گفتگو کی پھر محیصہ نے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یا تو وہ تمہارے آدمی کی دیت دیں یا پھر ان سے جنگ کے لیے کہہ دیا جائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس بارے میں لکھ بھیجا تو ان لوگوں نے لکھا: اللہ کی قسم! ہم نے انہیں قتل نہیں کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حویصہ، محیصہ اور عبدالرحمٰن (رضی اللہ عنہم) سے کہا: کیا تم قسم کھاؤ گے اور اپنے آدمی کے خون کے حقدار بنو گے؟ وہ بولے: نہیں، آپ نے فرمایا: تو پھر یہودی قسم کھائیں گے۔ وہ بولے: وہ تو مسلمان نہیں ہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس سے ان کی دیت ادا کی اور سو اونٹنیاں ان کے پاس بھیجیں یہاں تک کہ وہ ان کے گھروں میں داخل ہو گئیں۔ سہل کہتے ہیں: ان میں سے ایک سرخ اونٹنی نے مجھے لات مار دی۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4715]
حضرت ابو لیلیٰ بن عبداللہ سے روایت ہے کہ مجھے سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ اور میری قوم کے بزرگوں نے بتایا کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ رضی اللہ عنہما فاقوں کے مارے ہوئے خیبر کو گئے۔ محیصہ کام سے واپس آئے تو انہیں بتایا گیا کہ عبداللہ بن سہل کو قتل کر کے کنویں یا چشمے میں پھینک دیا گیا ہے۔ وہ یہودیوں کے پاس گئے اور کہا: اللہ کی قسم! تم نے اسے قتل کیا ہے۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم نے اسے قتل نہیں کیا۔ وہ مدینہ منورہ اپنی قوم کے پاس آئے تو سارا واقعہ ان سے بیان کیا۔ پھر وہ خود، ان کے بڑے بھائی حویصہ اور عبدالرحمن بن سہل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ محیصہ بات کرنے لگے کیونکہ خیبر میں وہی تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بڑے کو پہلے بات کرنے دو۔ آپ کا مقصد تھا جو عمر میں بڑا ہے۔ حویصہ نے پہلے بات کی۔ پھر محیصہ نے بھی بات کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یا تو وہ تمہارے مقتول کی دیت دیں گے ورنہ ان سے اعلان جنگ کر دیا جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بابت ان (یہودیوں) کو خط لکھا۔ انہوں نے جواب میں لکھا: اللہ کی قسم! ہم نے اسے قتل نہیں کیا۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حویصہ، محیصہ اور عبدالرحمن سے فرمایا: تم (پچاس) قسمیں کھا کر اپنے مقتول کے خون کے حق دار بنتے ہو؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر یہودی تمہارے سامنے قسمیں اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا: وہ تو مسلمان نہیں ہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے مقتول کی دیت ادا فرما دی اور ان کے پاس سو اونٹنیاں بھیج دیں حتیٰ کہ وہ ان کے گھر میں داخل کی گئیں۔ حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے کہا: ان میں سے ایک سرخ اونٹنی نے مجھے لات ماری تھی۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4715]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4718
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرٌ وَهُوَ ابْنُ الْمُفَضَّلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ , وَمُحَيِّصَةَ بْنَ مَسْعُودِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُمَا أَتَيَا خَيْبَرَ، وَهُوَ يَوْمَئِذٍ صُلْحٌ فَتَفَرَّقَا لِحَوَائِجِهِمَا، فَأَتَى مُحَيِّصَةُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَهْلٍ وَهُوَ يَتَشَحَّطُ فِي دَمِهِ قَتِيلًا فَدَفَنَهُ، ثُمَّ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَانْطَلَقَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ , وَحُوَيِّصَةُ , وَمُحَيِّصَةُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَتَكَلَّمُ وَهُوَ أَحْدَثُ الْقَوْمِ سِنًّا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَبِّرِ الْكُبْرَ"، فَسَكَتَ فَتَكَلَّمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَحْلِفُونَ بِخَمْسِينَ يَمِينًا مِنْكُمْ فَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ صَاحِبِكُمْ أَوْ قَاتِلِكُمْ؟"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ نَحْلِفُ وَلَمْ نَشْهَدْ وَلَمْ نَرَ؟ قَالَ:" تُبَرِّئُكُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ يَمِينًا"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ نَأْخُذُ أَيْمَانَ قَوْمٍ كُفَّارٍ؟ فَعَقَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ.
سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن سہل، محیصہ بن مسعود بن زید خیبر رضی اللہ عنہما گئے، ان دنوں صلح چل رہی تھی، وہ اپنی ضرورتوں کے لیے الگ الگ ہو گئے، پھر محیصہ رضی اللہ عنہ عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کے پاس آئے (دیکھا کہ) وہ مقتول ہو کر اپنے خون میں لوٹ رہے تھے، تو انہیں دفن کیا اور مدینے آئے، پھر عبدالرحمٰن بن سہل، حویصہ اور محیصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، تو عبدالرحمٰن نے بات کی وہ عمر میں سب سے چھوٹے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بڑے کا لحاظ کرو، چنانچہ وہ خاموش ہو گئے، پھر ان دونوں نے بات کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اپنے پچاس آدمیوں کو قسم کھلاؤ گے تاکہ اپنے آدمی (کے خون بہا) یا اپنے قاتل (خون) کے حقدار بنو؟ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم کیوں کر قسم کھائیں گے حالانکہ نہ ہم وہاں موجود تھے اور نہ ہی ہم نے دیکھا۔ آپ نے فرمایا: یہودی پچاس قسمیں کھا کر تمہارا شک دور کریں گے، وہ بولے: اللہ کے رسول! ہم کافروں کی قسم کا اعتبار کیوں کر کریں گے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس سے ان کی دیت ادا کی۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4718]
حضرت سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ بن مسعود رضی اللہ عنہما خیبر گئے، ان دنوں (یہودِ خیبر سے) صلح تھی، وہ اپنے اپنے کام میں ادھر ادھر ہو گئے، پھر محیصہ، عبداللہ بن سہل کی طرف آئے تو وہ اپنے خون میں لتھڑے ہوئے مقتول پڑے تھے، انہوں نے انہیں دفن کیا، پھر وہ مدینہ منورہ آئے اور عبدالرحمن بن سہل، حویصہ اور محیصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے، عبدالرحمن جو عمر میں ان سب سے چھوٹے تھے، بات کرنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بڑے کو بات کرنے دو۔ وہ خاموش ہو گئے اور دوسرے دو بھائیوں نے بات چیت کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم پچاس قسمیں اٹھا کر اپنے مقتول کے خون کے حق دار بنتے ہو؟ وہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! ہم کیسے قسمیں کھائیں جبکہ ہم تو موقع پر موجود ہی نہ تھے اور نہ ہم نے کسی کو دیکھا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر یہودی پچاس قسمیں کھا کر تم سے بری ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کافر لوگوں سے کیسے قسمیں اٹھوائیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتول کی دیت اپنی طرف سے ادا فرما دی۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4718]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4714 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4719
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، قَالَ: انْطَلَقَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلٍ , وَمُحَيِّصَةُ بْنُ مَسْعُودِ بْنِ زَيْدٍ إِلَى خَيْبَرَ وَهِيَ يَوْمَئِذٍ صُلْحٌ، فَتَفَرَّقَا فِي حَوَائِجِهِمَا، فَأَتَى مُحَيِّصَةُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَهْلٍ وَهُوَ يَتَشَحَّطُ فِي دَمِهِ قَتِيلًا، فَدَفَنَهُ، ثُمَّ قَدِمَ الْمَدِينَةَ، فَانْطَلَقَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ , وَحُوَيِّصَةُ , وَمُحَيِّصَةُ ابْنَا مَسْعُودٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَتَكَلَّمُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَبِّرِ الْكُبْرَ" , وَهُوَ أَحْدَثُ الْقَوْمِ، فَسَكَتَ فَتَكَلَّمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَحْلِفُونَ بِخَمْسِينَ يَمِينًا مِنْكُمْ وَتَسْتَحِقُّونَ قَاتِلَكُمْ أَوْ صَاحِبَكُمْ؟"، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ نَحْلِفُ وَلَمْ نَشْهَدْ وَلَمْ نَرَ؟ فَقَالَ:" أَتُبَرِّئُكُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ"، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ نَأْخُذُ أَيْمَانَ قَوْمٍ كُفَّارٍ؟ فَعَقَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ.
سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ بن مسعود بن زید رضی اللہ عنہما خیبر کی طرف چلے، اس وقت صلح چل رہی تھی، محیصہ اپنے کام کے لیے جدا ہو گئے، پھر وہ عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو دیکھا کہ ان کا قتل ہو گیا ہے اور وہ مقتول ہو کر اپنے خون میں لوٹ پوٹ رہے تھے، انہیں دفن کیا اور مدینے آئے، عبدالرحمٰن بن سہل اور مسعود کے بیٹے حویصہ اور محیصہ (رضی اللہ عنہم) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے، عبدالرحمٰن بن سہل رضی اللہ عنہ بات کرنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: بڑوں کا لحاظ کرو، وہ لوگوں میں سب سے چھوٹے تھے، تو وہ چپ ہو گئے، پھر انہوں (حویصہ اور محیصہ) نے بات کی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اپنے پچاس آدمیوں کو قسم کھلاؤ گے تاکہ تم اپنے قاتل (کے خون)، یا اپنے آدمی کے خون (بہا) کے حقدار بنو، ان لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم قسم کیوں کر کھائیں گے، نہ تو ہم وہاں موجود تھے اور نہ ہم نے انہیں دیکھا، آپ نے فرمایا: تو کیا پچاس یہودیوں کی قسموں سے تمہارا شک دور ہو جائے گا؟ وہ بولے: اللہ کے رسول! ہم کافروں کی قسم کا اعتبار کیوں کر کریں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس سے ان کی دیت ادا کی۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4719]
حضرت سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہما اور محیصہ بن مسعود رضی اللہ عنہما خیبر گئے۔ اور ان دنوں (یہود خیبر سے) صلح تھی۔ وہ اپنے اپنے کام میں الگ ہو گئے۔ پھر محیصہ رضی اللہ عنہ، عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہما کی طرف آئے تو انھیں خون میں لت پت پایا۔ خیر! انھوں نے انھیں دفن کیا۔ پھر وہ مدینہ منورہ پہنچے اور حضرت عبدالرحمن بن سہل رضی اللہ عنہما اور اپنے بھائی حویصہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ (مقتول کے بھائی) عبدالرحمن رضی اللہ عنہ جو سب سے چھوٹے تھے، بات کرنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: بڑے کو بات کرنے دو۔ وہ چپ ہو گئے۔ دوسرے دو حضرات نے بات چیت کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم پچاس قسمیں کھا کر اپنے ساتھی یا قاتل کے حق دار بنتے ہو؟ وہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! ہم کیسے قسمیں کھائیں جب کہ ہم موقع پر موجود نہیں تھے اور نہ ہم نے کسی (قاتل) کو دیکھا ہے؟ آپ نے فرمایا: پھر یہودی پچاس قسمیں کھا کر بری ہو جائیں گے۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کافر لوگوں کی قسمیں کیسے قبول کریں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دیت اپنی طرف سے ادا فرما دی۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4719]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4714 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4721
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، قَالَ: وُجِدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلٍ قَتِيلًا، فَجَاءَ أَخُوهُ وَعَمَّاهُ حُوَيِّصَةُ , وَمُحَيِّصَةُ وَهُمَا عَمَّا عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَهْلٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَتَكَلَّمُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْكُبْرَ الْكُبْرَ"، قَالَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا وَجَدْنَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ قَتِيلًا فِي قَلِيبٍ مِنْ بَعْضِ قُلُبِ خَيْبَرَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَتَّهِمُونَ؟"، قَالُوا: نَتَّهِمُ الْيَهُودَ، قَالَ:" أَفَتُقْسِمُونَ خَمْسِينَ يَمِينًا أَنَّ الْيَهُودَ قَتَلَتْهُ؟"، قَالُوا: وَكَيْفَ نُقْسِمُ عَلَى مَا لَمْ نَرَ؟ قَالَ:" فَتُبَرِّئُكُمْ الْيَهُودُ بِخَمْسِينَ أَنَّهُمْ لَمْ يَقْتُلُوهُ" , قَالُوا: وَكَيْفَ نَرْضَى بِأَيْمَانِهِمْ وَهُمْ مُشْرِكُونَ؟ فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ. أَرْسَلَهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ.
سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ مقتول پائے گئے، تو ان کے بھائی اور ان کے چچا حویصہ اور محیصہ رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ بات کرنے لگے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بڑوں کا لحاظ کرو، بڑوں کا لحاظ کرو، ان دونوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم نے خیبر کے ایک کنویں میں عبداللہ بن سہل کو مقتول پایا ہے، آپ نے فرمایا: تمہارا شک کس پر ہے؟ انہوں نے کہا: ہمارا شک یہودیوں پر ہے، آپ نے فرمایا: کیا تم پچاس قسمیں کھاؤ گے کہ یہودیوں نے ہی انہیں قتل کیا ہے؟، انہوں نے کہا: جسے ہم نے دیکھا نہیں، اس پر قسم کیسے کھائیں؟ آپ نے فرمایا: تو پھر یہودیوں کی پچاس قسمیں کہ انہوں نے عبداللہ بن سہل کو قتل نہیں کیا ہے، تمہارے شک کو دور کریں گی؟ وہ بولے: ہم ان کی قسموں پر کیسے رضامند ہوں جبکہ وہ مشرک ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس سے ان کی دیت ادا کی۔ مالک بن انس نے اسے مرسلاً روایت کیا ہے (یعنی سہل بن ابی حثمہ کا ذکر نہیں کیا ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4721]
حضرت سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حضرت عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ مقتول پائے گئے۔ ان کا بھائی اور اس کے دو چچے حویصہ اور محیصہ رضی اللہ عنہما، اور وہ دونوں عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کے بھی چچے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش ہوئے۔ (ان کا بھائی) عبدالرحمن بات کرنے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بڑے کو بات کرنے دو۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے عبداللہ بن سہل کو خیبر کے ایک کنویں میں مقتول پایا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کن پر الزام لگاتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہم یہودیوں پر الزام لگاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پچاس قسمیں کھاتے ہو کہ یہودیوں نے اسے قتل کیا ہے؟ وہ کہنے لگے: ہم ایسی چیز کی قسم کیسے کھا سکتے ہیں جو ہم نے نہیں دیکھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر یہودی پچاس قسمیں کھا کر کہ ہم نے اسے قتل نہیں کیا، بری ہو جائیں گے۔ وہ کہنے لگے: ہم ان مشرکوں کی قسمیں کیسے تسلیم کر لیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت اپنی طرف سے ادا فرما دی۔ امام مالک بن انس رحمہ اللہ نے یہ روایت مرسل بیان کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4721]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4714 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4723
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّائِيُّ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ زَعَمَ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ، يُقَالُ لَهُ: سَهْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ أَخْبَرَهُ , أَنَّ نَفَرًا مِنْ قَوْمِهِ انْطَلَقُوا إِلَى خَيْبَرَ فَتَفَرَّقُوا فِيهَا، فَوَجَدُوا أَحَدَهُمْ قَتِيلًا، فَقَالُوا لِلَّذِينَ وَجَدُوهُ عِنْدَهُمْ: قَتَلْتُمْ صَاحِبَنَا، قَالُوا: مَا قَتَلْنَاهُ وَلَا عَلِمْنَا قَاتِلًا، فَانْطَلَقُوا إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، انْطَلَقْنَا إِلَى خَيْبَرَ فَوَجَدْنَا أَحَدَنَا قَتِيلًا، رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْكُبْرَ الْكُبْرَ"، فَقَالَ لَهُمْ:" تَأْتُونَ بِالْبَيِّنَةِ عَلَى مَنْ قَتَلَ؟"، قَالُوا: مَا لَنَا بَيِّنَةٌ، قَالَ:" فَيَحْلِفُونَ لَكُمْ"، قَالُوا: لَا نَرْضَى بِأَيْمَانِ الْيَهُودِ، وَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبْطُلَ دَمُهُ فَوَدَاهُ مِائَةً مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ، خَالَفَهُمْ عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ.
بشیر بن یسار سے روایت ہے کہ سہل بن ابی حثمہ نامی ایک انصاری شخص نے ان سے بیان کیا کہ ان کے قبیلہ کے کچھ لوگ خیبر کی طرف چلے، پھر وہ الگ الگ ہو گئے، تو انہیں اپنا ایک آدمی مرا ہوا ملا، انہوں نے ان لوگوں سے جن کے پاس مقتول کو پایا، کہا: ہمارے آدمی کو تم نے قتل کیا ہے، انہوں نے کہا: نہ تو ہم نے قتل کیا ہے اور نہ ہمیں قاتل کا پتا ہے، تو وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور عرض کیا: اللہ کے نبی! ہم خیبر گئے تھے، وہاں ہم نے اپنا ایک آدمی مقتول پایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بڑوں کا لحاظ کرو، بڑوں کا لحاظ کرو ۱؎، پھر آپ نے ان سے فرمایا: تمہیں قاتل کے خلاف گواہ پیش کرنا ہو گا، وہ بولے: ہمارے پاس گواہ تو نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو وہ قسم کھائیں گے، وہ بولے: ہمیں یہودیوں کی قسمیں منظور نہیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گراں گزرا کہ ان کا خون بیکار جائے، تو آپ نے انہیں صدقے کے سو اونٹ کی دیت ادا کی۔ (ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں:) عمرو بن شعیب نے ان (یعنی اوپر مذکور رواۃ) کی مخالفت کی ہے ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4723]
حضرت سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ میری قوم کے کچھ آدمی خیبر گئے، وہاں وہ الگ الگ ہو گئے، انہوں نے اپنے میں سے ایک شخص کو مقتول پایا تو ان لوگوں سے، جن کے پاس اس کی لاش پائی گئی تھی، کہا: تم نے ہمارے آدمی کو قتل کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہم نے اسے قتل نہیں کیا اور نہ ہم اس کے قاتل کو جانتے ہیں۔ پھر وہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: اے اللہ کے نبی! ہم خیبر گئے تھے، وہاں ہم نے اپنے ایک آدمی کو مقتول پایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بڑے کو بات کرنے دو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم اپنے مقتول کے قاتل کے بارے میں گواہ پیش کرو۔ وہ کہنے لگے: ہمارے پاس تو کوئی گواہ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر وہ تمہارے سامنے قسمیں کھائیں گے (اور بری ہو جائیں گے)۔ وہ کہنے لگے: ہم تو یہودیوں کی قسم کا اعتبار نہیں کرتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پسند نہ فرمایا کہ اس کا خون بلا معاوضہ رہے، لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقے کے اونٹوں میں سے سو اونٹ دیت کے طور پر دے دیے۔ عمرو بن شعیب نے ان (حدیث بیان کرنے والے باقی تمام رواۃ) کی مخالفت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4723]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4714 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہاں پر یہ ذکر نہیں ہے کہ عمر میں چھوٹے آدمی (عبدالرحمٰن مقتول کے بھائی) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات شروع کی تو آپ نے ادب سکھایا کہ بڑوں کو بات کرنی چاہیئے اور چھوٹوں کو خاموش رہنا چاہیئے۔ ملاحظہ ہو: سابقہ احادیث۔ ۲؎: عمرو بن شعیب نے اپنی روایت میں عبداللہ بن سہل کے بجائے ابن محیصہ الاصغر کو مقتول کہا ہے، اور یہ کہا ہے کہ مدعیان سے شہادت طلب کرنے کے بعد اسے نہ پیش کر پانے کی صورت میں ان سے قسم کھانے کو کہا گیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں