🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
48. باب : ذكر الأخبار التي اعتل بها من أباح شراب المسكر
باب: نشہ لانے والی شراب کو مباح اور جائز قرار دینے کی احادیث کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5707
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حِصْنٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ , عَنْ خَالِدِ بْنِ حُسَيْنٍ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ فِي بَعْضِ الْأَيَّامِ الَّتِي كَانَ يَصُومُهَا , فَتَحَيَّنْتُ فِطْرَهُ بِنَبِيذٍ صَنَعْتُهُ فِي دُبَّاءٍ , فَلَمَّا كَانَ الْمَسَاءُ جِئْتُهُ أَحْمِلُهَا إِلَيْهِ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنِّي قَدْ عَلِمْتُ أَنَّكَ تَصُومُ فِي هَذَا الْيَوْمِ , فَتَحَيَّنْتُ فِطْرَكَ بِهَذَا النَّبِيذِ , فَقَالَ:" أَدْنِهِ مِنِّي يَا أَبَا هُرَيْرَةَ" , فَرَفَعْتُهُ إِلَيْهِ , فَإِذَا هُوَ يَنِشُّ , فَقَالَ:" خُذْ هَذِهِ فَاضْرِبْ بِهَا الْحَائِطَ , فَإِنَّ هَذَا شَرَابُ مَنْ لَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ". وَمِمَّا احْتَجُّوا بِهِ فِعْلُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
خالد بن حسین کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: مجھے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھے ہوئے ہیں ان دنوں میں جن میں رکھا کرتے تھے۔ تو میں نے ایک بار آپ کے روزہ افطار کرنے کے لیے کدو کی تونبی میں نبیذ بنائی، جب شام ہوئی تو میں اسے لے کر آپ کے پاس آیا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ اس دن روزہ رکھتے ہیں تو میں آپ کے افطار کے لیے نبیذ لایا ہوں۔ آپ نے فرمایا: میرے قریب لاؤ، چنانچہ اسے میں نے آپ کی طرف بڑھائی تو وہ جوش مار رہی تھی۔ آپ نے فرمایا: اسے لے جاؤ اور دیوار سے مار دو اس لیے کہ یہ ان لوگوں کا مشروب ہے جو اللہ پر ایمان رکھتے ہیں نہ یوم آخرت پر۔ «ومما احتجوا به فعل عمر بن الخطاب رضى اللہ عنه» ان کی ایک اور دلیل عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا عمل بھی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5707]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے علم تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دنوں روزے رکھا کرتے ہیں، اس لیے میں نے کدو کے برتن میں نبیذ بنا کر آپ کی افطاری کے لیے الگ رکھ چھوڑی۔ جب شام ہوئی تو میں اسے اٹھائے آپ کے پاس حاضر ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے علم تھا کہ آج آپ روزے سے ہیں تو میں نے یہ نبیذ آپ کی افطاری کے لیے رکھی ہوئی تھی۔ آپ نے فرمایا: اے ابوہریرہ! یہ میرے پاس لاؤ۔ میں نے وہ آپ کو پیش کی تو وہ ابل رہی تھی۔ آپ نے فرمایا: اسے پکڑو اور دیوار پر دے مار۔ یہ تو ان لوگوں کا مشروب ہے جو اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔ ان لوگوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے (آئندہ مذکور) فعل سے بھی استدلال کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5707]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5613 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5613
أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنَ خَالِدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَاقِدٍ، أَخْبَرَنِي خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ، فَتَحَيَّنْتُ فِطْرَهُ بِنَبِيذٍ صَنَعْتُهُ لَهُ فِي دُبَّاءٍ، فَجِئْتُهُ بِهِ، فَقَالَ:" أَدْنِهِ"، فَأَدْنَيْتُهُ مِنْهُ، فَإِذَا هُوَ يَنِشُّ، فَقَالَ:" اضْرِبْ بِهَذَا الْحَائِطَ، فَإِنَّ هَذَا شَرَابُ مَنْ لَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ"، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَفِي هَذَا دَلِيلٌ عَلَى تَحْرِيمِ السَّكَرِ قَلِيلِهِ وَكَثِيرِهِ وَلَيْسَ كَمَا، يَقُولُ: الْمُخَادِعُونَ لِأَنْفُسِهِمْ بِتَحْرِيمِهِمْ آخِرِ الشَّرْبَةِ، وَتَحْلِيلِهِمْ مَا تَقَدَّمَهَا الَّذِي يُشْرَبُ فِي الْفَرَقِ قَبْلَهَا، وَلَا خِلَافَ بَيْنَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ السُّكْرَ بِكُلِّيَّتِهِ لَا يَحْدُثُ عَلَى الشَّرْبَةِ الْآخِرَةِ دُونَ الْأُولَى وَالثَّانِيَةِ بَعْدَهَا، وَبِاللَّهِ التَّوْفِيقُ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے معلوم تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھ رہے ہیں، تو ایک دن میں نے نبیذ لے کر آپ کے افطار کرنے کے وقت کا انتظار کیا جسے میں نے آپ کے لیے کدو کی تونبی میں تیار کی تھی، میں اسے لے کر آپ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا: میرے پاس لاؤ، میں نے اسے آپ کے پاس بڑھا دی، وہ جوش مار رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اس دیوار سے مار دو، اس لیے کہ یہ ان لوگوں کا مشروب ہے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: اس میں دلیل ہے کہ نشہ لانے والی چیز حرام ہے، خواہ وہ زیادہ ہو یا کم، اور معاملہ ایسا نہیں ہے جیسا کہ حیلہ کرنے والے اپنے لیے کہتے ہیں کہ ایسے مشروب کا آخری گھونٹ حرام ہوتا ہے اور وہ گھونٹ حلال ہوتے ہیں جو پہلے پیے جا چکے ہیں اور اس سے پہلے رگوں میں سرایت کر چکے ہیں، اس بات میں علماء کے درمیان اختلاف نہیں پایا جاتا کہ پورا نشہ ابتدائی گھونٹوں کے علاوہ صرف آخری گھونٹ سے پیدا نہیں ہوتا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5613]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے علم تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا ہوا ہے، تو میں نے آپ کی افطاری کے لیے کدو کے برتن میں نبیذ تیار کر کے ایک طرف رکھ چھوڑی۔ پھر افطاری کے وقت میں وہ نبیذ لے کر آپ کے پاس حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (میرے) قریب کرو۔ میں نے وہ آپ کے قریب کی تو وہ جوش مار رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اس دیوار پر دے مارو۔ اس قسم کی نبیذ تو وہ لوگ پیتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کو نہیں مانتے۔ ابوعبدالرحمٰن (امام نسائی رحمہ اللہ) نے فرمایا: اس حدیث میں دلیل ہے کہ نشہ آور چیز قلیل بھی حرام ہے کثیر بھی، نہ کہ جیسے اپنے آپ کو دھوکا دینے والے لوگ کہتے ہیں کہ آخری گھونٹ جس سے نشہ آیا، حرام ہے، پہلے گھونٹ حلال ہیں، خواہ وہ ایک فرق پی لے، حالانکہ اہل علم اس باب پر متفق ہیں کہ نشہ صرف آخری گھونٹ سے ہی پیدا نہیں ہوتا بلکہ پہلے گھونٹ بھی نشے والے ہی ہیں، اللہ تعالیٰ ہی توفیق دینے والا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5613]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الٔيشربة 12 (3716)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 15 (3409)، (تحفة الأشراف: 12297)، ویأتي عند المؤلف: 5707) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی یہ کہنا کہ نشہ کا اثر صرف اخیر گھونٹ سے ہوتا ہے یہ صحیح نہیں ہے، کیونکہ اس اثر میں تو اس سے پہلے کے گھونٹ کا بھی دخل ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں