سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
72. باب : الأمر بالاستنثار
باب: ناک جھاڑنے کا حکم۔
حدیث نمبر: 89
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ قَيْسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا تَوَضَّأْتَ فَاسْتَنْثِرْ، وَإِذَا اسْتَجْمَرْتَ فَأَوْتِرْ".
سلمہ بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب وضو کرو تو ناک جھاڑو، اور جب ڈھیلے سے استنجاء کرو تو طاق ڈھیلا استعمال کرو“۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 89]
حضرت سلمہ بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو وضو کرے تو ناک جھاڑ اور جب تو (قضائے حاجت کے بعد) ڈھیلے استعمال کرے تو طاق استعمال کر۔“ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 89]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطہارة 21 (27)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 44 (406)، (تحفة الأشراف: 4556)، مسند احمد 4/313، 339، 340 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 43
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا اسْتَجْمَرْتَ فَأَوْتِرْ".
سلمہ بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب استنجاء کرو تو طاق (ڈھیلا) استعمال کرو“ ۱؎۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 43]
حضرت سلمہ بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو ڈھیلے استعمال کرے تو طاق استعمال کر۔“ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 43]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطہارة 21 (27)، سنن ابن ماجہ/فیہ 44 (406)، (تحفة الأشراف: 4556)، مسند احمد 4/ 313، 339، 340، «کلہم بزیادة إذا توضأت فانثر، ویأتي عند المؤلف برقم: 89، بزیادة اذا توضات فاستنثر» (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مؤلف کا استدلال «فأوتر» کے لفظ سے ہے جو مطلق لفظ ہے اور ایک پتھر کے کافی ہونے کو بھی وتر کہیں گے لیکن اس کے جواب میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ مطلق مقید پر محمول کیا جاتا ہے، یعنی ”طاق“ سے مراد تین یا تین سے زیادہ پانچ وغیرہ مراد ہے، کیونکہ اصول یہ ہے ”ایک حدیث دوسرے حدیث کی وضاحت کرتی ہے“ اور تین کی قید حدیث رقم: ۴۱ میں آ چکی ہے، اس لیے ”طاق“ سے ”تین“ والا طاق مراد ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 88
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ تَوَضَّأَ فَلْيَسْتَنْثِرْ، وَمَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو وضو کرے تو اسے چاہیئے کہ ناک جھاڑے، اور جو استنجاء میں پتھر استعمال کرے تو اسے چاہیئے کہ طاق استعمال کرے“۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 88]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص وضو کرے، اسے چاہیے کہ وہ ناک جھاڑے۔ اور جو شخص (استنجے کے لیے) ڈھیلے استعمال کرے، اسے چاہیے کہ وہ طاق استعمال کرے۔“ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 88]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 25 (161)، صحیح مسلم/الطہارة 8 (237)، سنن ابن ماجہ/فیہ 44 (409)، (تحفة الأشراف: 13547)، موطا امام مالک/فیہ1 (3)، مسند احمد 2/236، 277، 308، 401، 518، سنن الدارمی/الطہارة 32 (730) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه