🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
37. باب : جامع ما جاء في القرآن
باب: قرآن سے متعلق جامع باب۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 934
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قال: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قالت: سَأَلَ الْحَارِثُ بْنُ هِشَامٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْيُ. قَالَ:" فِي مِثْلِ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ فَيَفْصِمُ عَنِّي وَقَدْ وَعَيْتُ زِيَادَةً وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ وَأَحْيَانًا يَأْتِينِي فِي مِثْلِ صُورَةِ الْفَتَى فَيَنْبِذُهُ إِلَيَّ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: آپ پر وحی کیسے آتی ہے؟ تو آپ نے جواب دیا: گھنٹی کی آواز کی طرح، پھر وہ بند ہو جاتی ہے اور میں اسے یاد کر لیتا ہوں، اور یہ قسم میرے اوپر سب سے زیادہ سخت ہوتی ہے، اور کبھی وحی کا فرشتہ میرے پاس نوجوان آدمی کی شکل میں آتا ہے، اور وہ مجھ سے کہہ جاتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 934]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: آپ کے پاس وحی کیسے آتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گھنٹی کی آواز کی طرح۔ جب وہ موقوف ہوتی ہے تو میں فرشتے کا پیغام یاد کر چکا ہوتا ہوں۔ تحقیق یہ وحی مجھ پر بہت گراں گزرتی ہے۔ اور کبھی (وحی لانے والا فرشتہ) ایک نوجوان کی صورت میں میرے پاس آتا ہے جو مجھ پر وحی ڈالتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 934]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الفضائل 23 (2333)، (تحفة الأشراف: 16924)، موطا امام مالک/القرآن 4 (7)، مسند احمد 6/158، 163، 257 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 935
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قال: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْيُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَحْيَانًا يَأْتِينِي فِي مِثْلِ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ فَيَفْصِمُ عَنِّي وَقَدْ وَعَيْتُ مَا قَالَ وَأَحْيَانًا يَتَمَثَّلُ لِي الْمَلَكُ رَجُلًا فَيُكَلِّمُنِي فَأَعِي مَا يَقُولُ" قَالَتْ عَائِشَةُ وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ فِي الْيَوْمِ الشَّدِيدِ الْبَرْدِ فَيَفْصِمُ عَنْهُ وَإِنَّ جَبِينَهُ لَيَتَفَصَّدُ عَرَقًا.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: آپ پر وحی کیسے آتی ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کبھی میرے پاس گھنٹی کی آواز کی شکل میں آتی ہے، اور یہ قسم میرے اوپر سب سے زیادہ سخت ہوتی ہے، پھر وہ بند ہو جاتی ہے اور جو وہ کہتا ہے میں اسے یاد کر لیتا ہوں، اور کبھی میرے پاس فرشتہ آدمی کی شکل میں آتا ہے ۱؎ اور مجھ سے باتیں کرتا ہے، اور جو کچھ وہ کہتا ہے میں اسے یاد کر لیتا ہوں، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کڑکڑاتے جاڑے میں آپ پر وحی اترتے دیکھا، پھر وہ بند ہوتی اور حال یہ ہوتا کہ آپ کی پیشانی سے پسینہ بہہ رہا ہوتا۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 935]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ حضرت حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: آپ کے پاس وحی کیسے آتی ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کبھی تو وحی آنے کی کیفیت گھنٹی کی آواز کی طرح ہوتی ہے اور یہ وحی میرے لیے بہت سخت ہوتی ہے۔ جب وہ موقوف ہوتی ہے تو میں فرشتے کی وحی اچھی طرح یاد کر چکا ہوتا ہوں۔ اور کبھی فرشتہ انسانی شکل میں میرے پاس آکر مجھ سے ہم کلام ہوتا ہے اور جو کچھ وہ کہتا ہے، میں یاد کر لیتا ہوں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر سخت سردی والے دن میں وحی اترتے وقت آپ کو دیکھا۔ جب وحی آپ سے موقوف ہوتی تو آپ کی پیشانی سے پسینہ پھوٹ پڑتا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 935]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/بدء الوحي 2 (2)، سنن الترمذی/المناقب 7 (3634)، (تحفة الأشراف: 17152)، موطا امام مالک/القرآن 4 (7)، مسند احمد 6/256 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «یتمثل لي الملک رجلاً» میں رَجَلاً منصوب بنزع الخافض» ہے، تقدیر یوں ہو گی یتمثل لي الملک صورۃ رجل» ، «صورۃ» جو «مضاف» تھا حذف کر دیا گیا ہے، اور «رجل» جو «مضاف الیہ» کو «مضاف» کا اعراب دے دیا گیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں