سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
30. باب مناقب جعفر بن أبي طالب رضى الله عنه
باب: جعفر بن ابی طالب رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
حدیث نمبر: 3764
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: " مَا احْتَذَى النِّعَالَ وَلَا انْتَعَلَ، وَلَا رَكِبَ الْمَطَايَا , وَلَا رَكِبَ الْكُورَ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُ مِنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَالْكُورُ: الرَّحْلُ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نہ کسی نے جوتا پہنایا اور نہ پہنا اور نہ سوار ہوا سواریوں پر اور نہ چڑھا اونٹ کی کاٹھی پر جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جعفر بن ابی طالب سے افضل و بہتر ہو۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے،
۲- «کور» کے معنیٰ کجاوہ کے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3764]
۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے،
۲- «کور» کے معنیٰ کجاوہ کے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3764]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف: 14246) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد موقوفا
حدیث نمبر: 3624
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ , قَالَا: أَنْبَأَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُعَاذٍ الضَّبِّيُّ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ بِمَكَّةَ حَجَرًا كَانَ يُسَلِّمُ عَلَيَّ لَيَالِيَ بُعِثْتُ إِنِّي لَأَعْرِفُهُ الْآنَ ". قَالَ: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ.
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مکہ میں ایک پتھر ہے جو مجھے ان راتوں میں جن میں میں مبعوث کیا گیا تھا سلام کیا کرتا تھا، اسے میں اب بھی پہچانتا ہوں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن غریب ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3624]
یہ حدیث حسن غریب ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3624]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الفضائل 1 (2277) (تحفة الأشراف: 2165)، و مسند احمد (5/59، 95)، وسنن الدارمی/المقدمة 4 (20) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ ایک معجزہ تھا جو آپ کے نبی ہونے کی دلیل ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 3625
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، قَالَ: " كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَتَدَاوَلُ فِي قَصْعَةٍ مِنْ غَدْوَةٍ حَتَّى اللَّيْلِ يَقُومُ عَشَرَةٌ , وَيَقْعُدُ عَشَرَةٌ، قُلْنَا: فَمَا كَانَتْ تُمَدُّ، قَالَ: مِنْ أَيِّ شَيْءٍ تَعْجَبُ مَا كَانَتْ تُمَدُّ إِلَّا مِنْ هَاهُنَا وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى السَّمَاءِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ وَأَبُو الْعَلَاءِ اسْمُهُ: يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ.
سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک بڑے برتن میں صبح سے شام تک کھاتے رہے، دس آدمی اٹھتے تھے اور دس بیٹھتے تھے، ہم نے (سمرہ سے) کہا: تو اس پیالہ نما بڑے برتن میں کچھ بڑھایا نہیں جاتا تھا؟ انہوں نے کہا: تمہیں تعجب کس بات پر ہے؟ اس میں بڑھایا نہیں جاتا تھا مگر وہاں سے، اور انہوں نے اپنے ہاتھ سے آسمان کی جانب اشارہ کیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3625]
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3625]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف: 4639) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اللہ کی طرف سے معجزانہ طور پر کھانا بڑھایا جاتا رہا، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے کی دلیل ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، المشكاة (5958)