🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. باب الأجير فى الغزو:
باب: جہاد میں کسی کو مزدور کر کے لے جانا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2265
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ، فَكَانَ مِنْ أَوْثَقِ أَعْمَالِي فِي نَفْسِي، فَكَانَ لِي أَجِيرٌ، فَقَاتَلَ إِنْسَانًا فَعَضَّ أَحَدُهُمَا، إِصْبَعَ صَاحِبِهِ فَانْتَزَعَ إِصْبَعَهُ فَأَنْدَرَ ثَنِيَّتَهُ فَسَقَطَتْ، فَانْطَلَقَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهْدَرَ ثَنِيَّتَهُ، وَقَالَ: أَفَيَدَعُ إِصْبَعَهُ فِي فِيكَ تَقْضَمُهَا، قَالَ: أَحْسِبُهُ قَالَ: كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ".
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے عطا بن ابی رباح نے خبر دی، انہیں صفوان بن یعلیٰ نے، ان کو یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے کہا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جیش عسرۃ (غزوۃ تبوک) میں گیا تھا یہ میرے نزدیک میرا سب سے زیادہ قابل اعتماد نیک عمل تھا۔ میرے ساتھ ایک مزدور بھی تھا وہ ایک شخص سے جھگڑا اور ان میں سے ایک نے دوسرے مقابل والے کی انگلی چبا ڈالی۔ دوسرے نے جو اپنا ہاتھ زور سے کھینچا تو اس کے آگے کے دانت بھی ساتھ ہی کھینچے چلے آئے اور گر گئے۔ اس پر وہ شخص اپنا مقدمہ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر پہنچا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے دانت (ٹوٹنے کا) کوئی قصاص نہیں دلوایا۔ بلکہ فرمایا کہ کیا وہ انگلی تمہارے منہ میں چبانے کے لیے چھوڑ دیتا۔ راوی نے کہا کہ میں خیال کرتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں بھی فرمایا۔ جس طرح اونٹ چبا لیا کرتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الإجارة/حدیث: 2265]
حضرت یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جیشِ عسرہ (غزوہ تبوک) میں شرکت کی۔ میرے نزدیک سب سے زیادہ جن اعمال پر مجھے اعتماد ہے ان میں سے ایک یہ ہے۔ (کہتے ہیں کہ) میرے ساتھ میرا ایک مزدور بھی تھا۔ وہ ایک شخص سے لڑ پڑا تو ان میں سے ایک نے دوسرے کی انگلی کاٹ کھائی۔ اس نے اپنی انگلی کھینچی تو سامنے والے کا ثنیہ دانت بھی گرا دیا۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مقدمہ لے کر گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لغو قرار دیا اور فرمایا: کیا وہ اپنی انگلی تیرے منہ میں چھوڑ دیتا کہ تو اسے چبا جاتا؟ حضرت یعلیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے گمان کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جیسے اونٹ چبا جاتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الإجارة/حدیث: 2265]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1847
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ عَلَيْهِ جُبَّةٌ، فِيهِ أَثَرُ صُفْرَةٍ، أَوْ نَحْوُهُ، كَانَ عُمَرُ، يَقُولُ لِي: تُحِبُّ إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ أَنْ تَرَاهُ؟ فَنَزَلَ عَلَيْهِ، ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ، فَقَالَ: اصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ مَا تَصْنَعُ فِي حَجِّكَ.
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا ہم سے عطاء نے بیان کیا، کہا مجھ سے صفوان بن یعلیٰ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص جو جبہ پہنے ہوئے تھا حاضر ہوا اور اس پر زردی یا اسی طرح کی کسی خوشبو کا نشان تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ مجھ سے کہا کرتے تھے کیا تم چاہتے ہو کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونے لگے تو تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ سکو؟ اس وقت آپ پر وحی نازل ہوئی پھر وہ حالت جاتی رہی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس طرح اپنے حج میں کرتے ہو اسی طرح عمرہ میں بھی کرو۔ [صحيح البخاري/كتاب الإجارة/حدیث: 1847]
حضرت یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا تو آپ کے پاس ایک آدمی آیا جس نے جبہ پہن رکھا تھا اور اس پر خوشبو وغیرہ کے نشانات تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے فرمایا: کیا تو اس بات کو پسند کرتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حالت میں دیکھے جب آپ پر وحی نازل ہو رہی ہو؟ اس دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی۔ جب آپ سے نزولِ وحی کی کیفیت ختم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمرے میں وہی کچھ کرو جو حج میں کرتے ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب الإجارة/حدیث: 1847]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں