🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب إذا وكل المسلم حربيا فى دار الحرب، أو فى دار الإسلام، جاز:
باب: اگر کوئی مسلمان دار الحرب یا دار الاسلام میں کسی حربی کافر کو اپنا وکیل بنائے تو جائز ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2301
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" كَاتَبْتُ أُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ كِتَابًا بِأَنْ يَحْفَظَنِي فِي صَاغِيَتِي بِمَكَّةَ، وَأَحْفَظَهُ فِي صَاغِيَتِهِ بِالْمَدِينَةِ، فَلَمَّا ذَكَرْتُ الرَّحْمَنَ، قَالَ: لَا أَعْرِفُ الرَّحْمَنَ، كَاتِبْنِي بِاسْمِكَ الَّذِي كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَكَاتَبْتُهُ عَبْدَ عَمْرٍو، فَلَمَّا كَانَ فِي يَوْمِ بَدْرٍ خَرَجْتُ إِلَى جَبَلٍ لِأُحْرِزَهُ حِينَ نَامَ النَّاسُ، فَأَبْصَرَهُ بِلَالٌ، فَخَرَجَ حَتَّى وَقَفَ عَلَى مَجْلِسٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ أُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ: لَا نَجَوْتُ إِنْ نَجَا أُمَيَّةُ، فَخَرَجَ مَعَهُ فَرِيقٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فِي آثَارِنَا، فَلَمَّا خَشِيتُ أَنْ يَلْحَقُونَا، خَلَّفْتُ لَهُمُ ابْنَهُ لِأَشْغَلَهُمْ، فَقَتَلُوهُ، ثُمَّ أَبَوْا حَتَّى يَتْبَعُونَا، وَكَانَ رَجُلًا ثَقِيلًا، فَلَمَّا أَدْرَكُونَا، قُلْتُ لَهُ: ابْرُكْ، فَبَرَكَ، فَأَلْقَيْتُ عَلَيْهِ نَفْسِي لِأَمْنَعَهُ فَتَخَلَّلُوهُ بِالسُّيُوفِ مِنْ تَحْتِي، حَتَّى قَتَلُوهُ وَأَصَابَ أَحَدُهُمْ رِجْلِي بِسَيْفِهِ، وَكَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ يُرِينَا ذَلِكَ الْأَثَرَ فِي ظَهْرِ قَدَمِهِ"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: سَمِعَ يُوسُفُ صَالِحًا، وَإِبْرَاهِيمُ أَبَاهُ.
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یوسف بن ماجشون نے بیان کیا، ان سے صالح بن ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عوف نے، ان سے ان کے باپ نے، اور ان سے صالح کے دادا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے امیہ بن خلف سے یہ معاہدہ اپنے اور اس کے درمیان لکھوایا کہ وہ میرے بال بچوں یا میری جائیداد کی جو مکہ میں ہے، حفاظت کرے اور میں اس کی جائیداد کی جو مدینہ میں ہے حفاظت کروں۔ جب میں نے اپنا نام لکھتے وقت رحمان کا ذکر کیا تو اس نے کہا کہ میں رحمن کو کیا جانوں۔ تم اپنا وہی نام لکھواؤ جو زمانہ جاہلیت میں تھا۔ چنانچہ میں نے عبد عمرو لکھوایا۔ بدر کی لڑائی کے موقع پر میں ایک پہاڑ کی طرف گیا تاکہ لوگوں سے آنکھ بچا کر اس کی حفاظت کر سکوں، لیکن بلال رضی اللہ عنہ نے دیکھ لیا اور فوراً ہی انصار کی ایک مجلس میں آئے۔ انہوں نے مجلس والوں سے کہا کہ یہ دیکھو امیہ بن خلف (کافر دشمن اسلام) ادھر موجود ہے۔ اگر امیہ کافر بچ نکلا تو میری ناکامی ہو گی۔ چنانچہ ان کے ساتھ انصار کی ایک جماعت ہمارے پیچھے ہو لی۔ جب مجھے خوف ہوا کہ اب یہ لوگ ہمیں آ لیں گے تو میں نے اس کے لڑکے کو آگے کر دیا تاکہ اس کے ساتھ (آنے والی جماعت) مشغول رہے، لیکن لوگوں نے اسے قتل کر دیا اور پھر بھی وہ ہماری ہی طرف بڑھنے لگے۔ امیہ بہت بھاری جسم کا تھا۔ آخر جب جماعت انصار نے ہمیں آ لیا ا تو میں نے اس سے کہا کہ زمین پر لیٹ جا۔ جب وہ زمین پر لیٹ گیا تو میں نے اپنا جسم اس کے اوپر ڈال دیا۔ تاکہ لوگوں کو روک سکوں، لیکن لوگوں نے میرے جسم کے نیچے سے اس کے جسم پر تلوار کی ضربات لگائیں اور اسے قتل کر کے ہی چھوڑا۔ ایک صحابی نے اپنی تلوار سے میرے پاؤں کو بھی زخمی کر دیا تھا۔ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ اس کا نشان اپنے قدم کے اوپر ہمیں دکھایا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الوكالة/حدیث: 2301]
حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے امیہ بن خلف سے ایک تحریری معاہدہ کیا کہ وہ مکہ میں میرے حقوق کی حفاظت کرے اور میں مدینہ میں اس کے حقوق کی نگہداشت کروں گا۔ تحریر کرتے وقت جب «الرَّحْمٰن» کا ذکر آیا تو وہ کہنے لگا کہ میں «الرَّحْمٰن» کو نہیں جانتا، تم اپنا نام وہی لکھو جو زمانہ جاہلیت میں تمہارا رہا ہے، چنانچہ میں نے عبد عمرو لکھوا دیا۔ جب بدر کی لڑائی کا دن تھا تو اس وقت جب تمام لوگ سو گئے تو میں ایک پہاڑ کی طرف نکلا تاکہ امیہ کو حفاظت میں لے لوں، (اس دوران) حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اسے دیکھ لیا، وہ نکلے اور انصار کی ایک مجلس میں پہنچے اور کہا: یہ امیہ بن خلف موجود ہے، اگر امیہ نجات پا گیا تو میری خیر نہیں۔ ان کے ساتھ انصار کا ایک گروہ ہمارے تعاقب میں نکل کھڑا ہوا۔ جب مجھے خطرہ محسوس ہوا کہ وہ ہمیں پا لیں گے تو میں نے اس کا بیٹا ان کے لیے چھوڑ دیا تاکہ وہ ذرا اس کے ساتھ الجھے رہیں، چنانچہ لوگوں نے اسے قتل کر دیا، پھر وہ نہ رکے اور ہمارے پیچھے چلے آئے، امیہ بھاری بھرکم آدمی تھا۔ جب وہ ہم تک پہنچ گئے تو میں نے امیہ سے کہا: بیٹھ جاؤ، وہ بیٹھ گیا تو میں نے خود کو اس پر ڈال دیا تاکہ اسے حملے سے بچاؤں لیکن لوگوں نے نیچے سے اس کو تلواروں سے ڈھانپ لیا حتیٰ کہ اسے قتل کر دیا۔ ان میں سے ایک کی تلوار میرے پاؤں کو لگ گئی۔ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اپنے پاؤں کے اوپر زخم کا نشان ہمیں دکھاتے بھی تھے۔ ابو عبد اللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ یوسف نے صالح سے اور ابراہیم نے اپنے باپ سے سنا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الوكالة/حدیث: 2301]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3971
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْجَدِّهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ:" كَاتَبْتُ أُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ , فَلَمَّا كَانَ يَوْمَ بَدْرٍ فَذَكَرَ قَتْلَهُ وَقَتْلَ ابْنِهِ، فَقَالَ بِلَالٌ: لَا نَجَوْتُ إِنْ نَجَا أُمَيَّةُ".
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یوسف بن ماجشون نے بیان کیا، ان سے صالح بن ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عوف نے، ان سے ان کے والد ابراہیم نے ان کے دادا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے بیان کیا کہ امیہ بن خلف سے (ہجرت کے بعد) میرا عہد نامہ ہو گیا تھا۔ پھر بدر کی لڑائی کے موقع پر انہوں نے اس کے اور اس کے بیٹے (علی) کے قتل کا ذکر کیا۔ بلال نے (جب اسے دیکھ لیا تو) کہا کہ اگر آج امیہ بچ نکلا تو میں آخرت میں عذاب سے بچ نہیں سکوں گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الوكالة/حدیث: 3971]
حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے امیہ بن خلف سے ایک معاہدہ کیا تھا، اس کے بعد جب بدر کی جنگ ہوئی، پھر انہوں نے امیہ بن خلف اور اس کے بیٹے کے قتل ہونے کا واقعہ ذکر کیا۔ اس دن حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر آج امیہ (قتل ہونے سے) بچ گیا تو میں (آخرت کے عذاب سے) نجات نہیں پا سکوں گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الوكالة/حدیث: 3971]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں