🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. باب إذا أومأ المريض برأسه إشارة بينة جازت:
باب: اگر مریض اپنے سر سے کوئی صاف اشارہ کرے تو اس پر حکم دیا جائے گا؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2746
حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ أَبِي عَبَّادٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ يَهُودِيًّا رَضَّ رَأْسَ جَارِيَةٍ بَيْنَ حَجَرَيْنِ، فَقِيلَ لَهَا: مَنْ فَعَلَ بِكِ أَفُلَانٌ، أَوْ فُلَانٌ حَتَّى سُمِّيَ الْيَهُودِيُّ، فَأَوْمَأَتْ بِرَأْسِهَا، فَجِيءَ بِهِ، فَلَمْ يَزَلْ حَتَّى اعْتَرَفَ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَرُضَّ رَأْسُهُ بِالْحِجَارَةِ".
ہم سے حسان بن ابی عباد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا قتادہ سے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ ایک یہودی نے ایک (انصاری) لڑکی کا سر دو پتھروں کے درمیان میں رکھ کر کچل دیا تھا۔ لڑکی سے پوچھا گیا کہ تمہارا سر اس طرح کس نے کیا ہے؟ کیا فلاں شخص نے کیا؟ فلاں نے کیا؟ آخر یہودی کا بھی نام لیا گیا (جس نے اس کا سر کچل دیا تھا) تو لڑکی نے سر کے اشارے سے ہاں میں جواب دیا۔ پھر وہ یہودی بلایا گیا اور آخر اس نے بھی اقرار کر لیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اس کا بھی پتھر سے سر کچل دیا گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الوصايا/حدیث: 2746]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے کسی لڑکی کا سر دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دیا۔ لڑکی سے پوچھا گیا کہ تیرے ساتھ یہ سلوک کس نے کیا ہے؟ کیا فلاں شخص نے یا فلاں شخص نے کیا ہے؟ حتیٰ کہ جب اس یہودی کا نام لیا گیا تو اس نے اپنے سر سے اشارہ کیا (ہاں)، چنانچہ اس یہودی کو پکڑ کر لایا گیا۔ اس سے مسلسل باز پرس ہوتی رہی حتیٰ کہ اس نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر اس کا سر بھی پتھر سے کچل دیا گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الوصايا/حدیث: 2746]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2413
حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" أَنَّ يَهُودِيًّا رَضَّ رَأْسَ جَارِيَةٍ بَيْنَ حَجَرَيْنِ، قِيلَ: مَنْ فَعَلَ هَذَا بِكِ؟ أَفُلَانٌ، أَفُلَانٌ، حَتَّى سُمِّيَ الْيَهُودِيُّ، فَأَوْمَأَتْ بِرَأْسِهَا، فَأُخِذَ الْيَهُودِيُّ فَاعْتَرَفَ، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُضَّ رَأْسُهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ".
ہم سے موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کا سر دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دیا تھا۔ (اس میں کچھ جان باقی تھی) اس سے پوچھا گیا کہ تیرے ساتھ یہ کس نے کیا ہے؟ کیا فلاں نے، فلاں نے؟ جب اس یہودی کا نام آیا تو اس نے اپنے سر سے اشارہ کیا (کہ ہاں) یہودی پکڑا گیا اور اس نے بھی جرم کا اقرار کر لیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور اس کا سر بھی دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دیا گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الوصايا/حدیث: 2413]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کا سر دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دیا۔ جب اس لڑکی سے پوچھا گیا کہ تیرے ساتھ یہ برتاؤ کس نے کیا ہے؟ کیا فلاں نے؟ کیا فلاں نے؟ یہاں تک کہ جب اس یہودی کا نام لیا گیا تو لڑکی نے اپنے سر سے اشارہ کیا۔ پھر وہ یہودی گرفتار کر لیا گیا اور اس نے (اپنے جرم کا) اعتراف بھی کر لیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اس کا سر بھی پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دیا گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الوصايا/حدیث: 2413]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6877
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ جَدِّهِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: خَرَجَتْ جَارِيَةٌ عَلَيْهَا أَوْضَاحٌ بِالْمَدِينَةِ، قَالَ: فَرَمَاهَا يَهُودِيٌّ بِحَجَرٍ، قَالَ: فَجِيءَ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبِهَا رَمَقٌ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فُلَانٌ قَتَلَكِ؟ فَرَفَعَتْ رَأْسَهَا، فَأَعَادَ عَلَيْهَا، قَالَ: فُلَانٌ قَتَلَكِ؟ فَرَفَعَتْ رَأْسَهَا، فَقَالَ لَهَا فِي الثَّالِثَةِ: فُلَانٌ قَتَلَكِ؟ فَخَفَضَتْ رَأْسَهَا، فَدَعَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَقَتَلَهُ بَيْنَ الْحَجَرَيْنِ".
ہم سے محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن ادریس نے خبر دی، انہیں شعبہ نے، انہیں ہشام بن زید بن انس نے، ان سے ان کے دادا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مدینہ منورہ میں ایک لڑکی چاندی کے زیور پہنے باہر نکلی۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر اسے ایک یہودی نے پتھر سے مار دیا۔ جب اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو ابھی اس میں جان باقی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تمہیں فلاں نے مارا ہے؟ اس پر لڑکی نے اپنا سر (انکار کے لیے) اٹھایا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تمہیں فلاں نے مارا ہے؟ لڑکی نے اس پر بھی اٹھایا۔ تیسری مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا، فلاں نے تمہیں مارا ہے؟ اس پر لڑکی نے اپنا سر نیچے کی طرف جھکا لیا (اقرار کرتے ہوئے جھکا لیا) چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو بلایا تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو پتھروں سے کچل کر اسے قتل کرایا۔ [صحيح البخاري/كتاب الوصايا/حدیث: 6877]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مدینہ طیبہ میں ایک لڑکی چاندی کے زیورات پہنے باہر نکلی، ایک یہودی نے اسے پتھر مارا۔ اس میں آخری سانس تھی کہ اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تجھے فلاں نے مارا ہے؟ لڑکی نے (انکار کرتے ہوئے) اپنا سر اٹھایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ پوچھا: کیا تجھے فلاں نے مارا ہے؟ لڑکی نے پھر (انکار کرتے ہوئے) اپنا سر اوپر کیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ پوچھا: کیا تجھے فلاں نے مارا ہے؟ تو اس نے (ہاں کرتے ہوئے) اپنا سر نیچے کر لیا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (یہودی) کو بلایا اور اس کا سر دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الوصايا/حدیث: 6877]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6884
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا حَبَّانُ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ" أَنَّ يَهُودِيًّا رَضَّ رَأْسَ جَارِيَةٍ بَيْنَ حَجَرَيْنِ، فَقِيلَ لَهَا: مَنْ فَعَلَ بِكِ هَذَا أَفُلَانٌ أَفُلَانٌ؟، حَتَّى سُمِّيَ الْيَهُودِيُّ، فَأَوْمَأَتْ بِرَأْسِهَا، فَجِيءَ بِالْيَهُودِيِّ، فَاعْتَرَفَ، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرُضَّ رَأْسُهُ بِالْحِجَارَةِ"، وَقَدْ قَالَ هَمَّامٌ: بِحَجَرَيْنِ.
مجھ سے اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم کو حبان بن ہلال نے خبر دی، کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک یہودی نے ایک لڑکی کا سر دو پتھروں کے درمیان میں لے کر کچل دیا تھا۔ اس لڑکی سے پوچھا گیا کہ یہ تمہارے ساتھ کس نے کیا؟ کیا فلاں نے کیا ہے؟ کیا فلاں نے کیا ہے؟ آخر جب اس یہودی کا نام لیا گیا تو اس نے اپنے سر کے اشارے سے (ہاں) کہا پھر یہودی لایا گیا اور اس نے اقرار کر لیا چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اس کا بھی سر پتھر سے کچل دیا گیا۔ ہمام نے دو پتھروں کا ذکر کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الوصايا/حدیث: 6884]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے کسی لڑکی کا سر دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دیا۔ اس لڑکی سے پوچھا گیا: تیرے ساتھ یہ برتاؤ کس نے کیا ہے؟ کیا فلاں نے کیا ہے؟ کیا فلاں نے کیا ہے؟ آخر جب اس یہودی کا نام لیا گیا تو اس نے سر سے اشارہ کیا۔ پھر اس یہودی کو لایا گیا تو اس نے اعتراف کر لیا۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے اس کا سر بھی پتھروں سے کچل دیا گیا۔ راویِ حدیث ہمام نے کہا: اس یہودی کا سر دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دیا گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الوصايا/حدیث: 6884]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6885
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتَلَ يَهُودِيًّا بِجَارِيَةٍ قَتَلَهَا عَلَى أَوْضَاحٍ لَهَا".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی کو ایک لڑکی کے بدلہ میں قتل کرا دیا تھا، یہودی نے اس لڑکی کو چاندی کے زیورات کے لالچ میں قتل کر دیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الوصايا/حدیث: 6885]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی کو ایک لڑکی کے بدلے میں قتل کرا دیا تھا کیونکہ یہودی نے اس لڑکی کو اس کے زیورات کے لالچ میں قتل کر دیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الوصايا/حدیث: 6885]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں