صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
149. باب لا يعذب بعذاب الله:
باب: اللہ کے عذاب (آگ) سے کسی کو عذاب نہ کرنا۔
حدیث نمبر: 3017
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، حَرَّقَ قَوْمًا فَبَلَغَ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: لَوْ كُنْتُ أَنَا لَمْ أُحَرِّقْهُمْ لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللَّهِ، وَلَقَتَلْتُهُمْ"، كَمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ".
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ‘ ان سے ایوب نے ‘ ان سے عکرمہ نے کہ علی رضی اللہ عنہ نے ایک قوم کو (جو عبداللہ بن سبا کی متبع تھی اور علی رضی اللہ عنہ کو اپنا رب کہتی تھی) جلا دیا تھا۔ جب یہ خبر عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو ملی تو آپ نے کہا کہ اگر میں ہوتا تو کبھی انہیں نہ جلاتا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ کے عذاب کی سزا کسی کو نہ دو ‘ البتہ میں انہیں قتل ضرور کرتا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جو شخص اپنا دین تبدیل کر دے اسے قتل کر دو۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3017]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہیں خبر ملی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کچھ لوگوں کو آگ میں جلا دیا ہے تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اگر میں ہوتا تو انہیں ہرگز نہ جلاتا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”اللہ کے عذاب (آگ) کے ساتھ کسی کو عذاب نہ دو۔“ ہاں، میں انہیں قتل کروا دیتا جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ”جو شخص اپنا دین بدل لے، اسے قتل کر دو۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3017]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6922
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: أُتِيَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِزَنَادِقَةٍ، فَأَحْرَقَهُمْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: لَوْ كُنْتُ أَنَا لَمْ أُحْرِقْهُمْ، لِنَهْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَا تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللَّهِ، وَلَقَتَلْتُهُمْ، لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ".
ہم سے ابوالنعمان محمد بن فضل سدوسی نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے، انہوں نے ایوب سختیانی سے، انہوں نے عکرمہ سے، انہوں نے کہا علی رضی اللہ عنہ کے پاس کچھ بےدین لوگ لائے گئے۔ آپ نے ان کو جلوا دیا۔ یہ خبر ابن عباس رضی اللہ عنہما کو پہنچی تو انہوں نے کہا اگر میں حاکم ہوتا تو ان کو کبھی نہ جلواتا (دوسری طرح سے سزا دیتا) کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آگ میں جلانے سے منع فرمایا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آگ اللہ کا عذاب ہے تم اللہ کے عذاب سے کسی کو مت عذاب دو میں ان کو قتل کروا ڈالتا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جو شخص اپنا دین بدل ڈالے اسلام سے پھر جائے اس کو قتل کر ڈالو۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 6922]
حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس زندیق لائے گئے تو انہوں نے انہیں جلایا۔ یہ بات حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما تک پہنچی تو انہوں نے فرمایا: ”اگر میں ہوتا تو انہیں نہ جلاتا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے فرمایا ہے: ”اللہ کے عذاب کے ساتھ کسی کو عذاب نہ دو“ بلکہ میں انہیں قتل کرتا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ”جو شخص اپنا دین بدل دے اسے قتل کر دو۔“““ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 6922]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة