🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
26. باب أيام الجاهلية:
باب: جاہلیت کے زمانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3835
حَدَّثَنِي فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" أَسْلَمَتِ امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ لِبَعْضِ الْعَرَبِ وَكَانَ لَهَا حِفْشٌ فِي الْمَسْجِدِ، قَالَتْ: فَكَانَتْ تَأْتِينَا فَتَحَدَّثُ عِنْدَنَا فَإِذَا فَرَغَتْ مِنْ حَدِيثِهَا، قَالَتْ: وَيَوْمُ الْوِشَاحِ مِنْ تَعَاجِيبِ رَبِّنَا أَلَا إِنَّهُ مِنْ بَلْدَةِ الْكُفْرِ أَنْجَانِي فَلَمَّا أَكْثَرَتْ، قَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ: وَمَا يَوْمُ الْوِشَاحِ، قَالَتْ: خَرَجَتْ جُوَيْرِيَةٌ لِبَعْضِ أَهْلِي وَعَلَيْهَا وِشَاحٌ مِنْ أَدَمٍ فَسَقَطَ مِنْهَا , فَانْحَطَّتْ عَلَيْهِ الْحُدَيَّا وَهِيَ تَحْسِبُهُ لَحْمًا , فَأَخَذَتْ فَاتَّهَمُونِي بِهِ فَعَذَّبُونِي , حَتَّى بَلَغَ مِنْ أَمْرِي أَنَّهُمْ طَلَبُوا فِي قُبُلِي , فَبَيْنَاهُمْ حَوْلِي وَأَنَا فِي كَرْبِي إِذْ أَقْبَلَتِ الْحُدَيَّا حَتَّى وَازَتْ بِرُءُوسِنَا ثُمَّ أَلْقَتْهُ فَأَخَذُوهُ، فَقُلْتُ: لَهُمْ هَذَا الَّذِي اتَّهَمْتُمُونِي بِهِ وَأَنَا مِنْهُ بَرِيئَةٌ".
مجھ سے فروہ بن ابی المغراء نے بیان کیا، کہا ہم کو علی بن مسہر نے خبر دی، انہیں ہشام نے، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک کالی عورت جو کسی عرب کی باندی تھی اسلام لائی اور مسجد میں اس کے رہنے کے لیے ایک کوٹھری تھی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا وہ ہمارے یہاں آیا کرتی اور باتیں کیا کرتی تھی، لیکن جب باتوں سے فارغ ہو جاتی تو وہ یہ شعر پڑھتی اور ہار والا دن بھی ہمارے رب کے عجائب قدرت میں سے ہے، کہ اسی نے (بفضلہ) کفر کے شہر سے مجھے چھڑایا۔ اس نے جب کئی مرتبہ یہ شعر پڑھا تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس سے دریافت کیا کہ ہار والے دن کا قصہ کیا ہے؟ اس نے بیان کیا کہ میرے مالکوں کے گھرانے کی ایک لڑکی (جو نئی دولہن تھی) لال چمڑے کا ایک ہار باندھے ہوئے تھی۔ وہ باہر نکلی تو اتفاق سے وہ گر گیا۔ ایک چیل کی اس پر نظر پڑی اور وہ اسے گوشت سمجھ کر اٹھا لے گئی۔ لوگوں نے مجھ پر اس کی چوری کی تہمت لگائی اور مجھے سزائیں دینی شروع کیں۔ یہاں تک کہ میری شرمگاہ کی بھی تلاشی لی۔ خیر وہ ابھی میرے چاروں طرف جمع ہی تھے اور میں اپنی مصیبت میں مبتلا تھی کہ چیل آئی اور ہمارے سروں کے بالکل اوپر اڑنے لگی۔ پھر اس نے وہی ہار نیچے گرا دیا۔ لوگوں نے اسے اٹھا لیا تو میں نے ان سے کہا اسی کے لیے تم لوگ مجھے اتہام لگا رہے تھے حالانکہ میں بےگناہ تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3835]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ایک حبشی عورت جو کسی عربی کی لونڈی تھی وہ مسلمان ہو گئی۔ مسجد میں اس کا چھوٹا سا جھونپڑا تھا۔ وہ ہمارے پاس آیا جایا کرتی تھی اور باتیں کیا کرتی تھی۔ جب وہ اپنی باتوں سے فارغ ہوتی تو یہ شعر ضرور پڑھتی: کمر بند یار والا دن ہمارے رب کے عجائبات میں سے ہے۔۔۔ کہ اس نے مجھے شہر کفر سے نجات دی جب کئی مرتبہ اس نے یہ شعر پڑھا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس سے دریافت کیا کہ اس شعر کا پس منظر کیا ہے؟ اس نے کہا: میرے مالک کی ایک لڑکی باہر نکلی جو سرخ چمڑے کا ایک ہار پہنے ہوئے تھی۔ وہ اس سے گر گیا تو ایک چیل اس پر جھپٹی اور وہ اسے گوشت سمجھ کر اٹھا لے گئی۔ لوگوں نے مجھ پر تہمت لگائی اور مجھے سخت سزا دینے لگے یہاں تک کہ انہوں نے میری شرمگاہ کی بھی تلاشی لی۔ تاہم جب وہ میرے چاروں طرف جمع تھے اور میں اپنی مصیبت میں مبتلا تھی اس دوران میں وہ چیل آئی اور ہمارے سروں کے اوپر اُڑنے لگی۔ پھر اس نے وہی ہار نیچے گرا دیا۔ لوگوں نے اسے اٹھایا تو میں نے ان سے کہا: یہ وہ ہار ہے جس کی تم نے مجھ پر تہمت لگائی تھی، حالانکہ میں بالکل بے گناہ تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 3835]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 439
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ،" أَنَّ وَلِيدَةً كَانَتْ سَوْدَاءَ لِحَيٍّ مِنْ الْعَرَبِ فَأَعْتَقُوهَا، فَكَانَتْ مَعَهُمْ، قَالَتْ: فَخَرَجَتْ صَبِيَّةٌ لَهُمْ عَلَيْهَا وِشَاحٌ أَحْمَرُ مِنْ سُيُورٍ، قَالَتْ: فَوَضَعَتْهُ أَوْ وَقَعَ مِنْهَا، فَمَرَّتْ بِهِ حُدَيَّاةٌ وَهُوَ مُلْقًى، فَحَسِبَتْهُ لَحْمًا فَخَطِفَتْهُ، قَالَتْ: فَالْتَمَسُوهُ فَلَمْ يَجِدُوهُ، قَالَتْ: فَاتَّهَمُونِي بِهِ، قَالَتْ: فَطَفِقُوا يُفَتِّشُونَ حَتَّى فَتَّشُوا قُبُلَهَا، قَالَتْ: وَاللَّهِ إِنِّي لَقَائِمَةٌ مَعَهُمْ إِذْ مَرَّتِ الْحُدَيَّاةُ فَأَلْقَتْهُ، قَالَتْ: فَوَقَعَ بَيْنَهُمْ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: هَذَا الَّذِي اتَّهَمْتُمُونِي بِهِ، زَعَمْتُمْ وَأَنَا مِنْهُ بَرِيئَةٌ وَهُوَ ذَا هُوَ، قَالَتْ: فَجَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمَتْ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَكَانَ لَهَا خِبَاءٌ فِي الْمَسْجِدِ أَوْ حِفْشٌ، قَالَتْ: فَكَانَتْ تَأْتِينِي فَتَحَدَّثُ عِنْدِي، قَالَتْ: فَلَا تَجْلِسُ عِنْدِي مَجْلِسًا إِلَّا قَالَتْ: وَيَوْمَ الْوِشَاحِ مِنْ أَعَاجِيبِ رَبِّنَا أَلَا إِنَّهُ مِنْ بَلْدَةِ الْكُفْرِ أَنْجَانِي قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ لَهَا: مَا شَأْنُكِ لَا تَقْعُدِينَ مَعِي مَقْعَدًا إِلَّا قُلْتِ هَذَا؟ قَالَتْ: فَحَدَّثَتْنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ".
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے ہشام کے واسطہ سے، انہوں نے اپنے باپ سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ عرب کے کسی قبیلہ کی ایک کالی لونڈی تھی۔ انہوں نے اسے آزاد کر دیا تھا اور وہ انہیں کے ساتھ رہتی تھی۔ اس نے بیان کیا کہ ایک دفعہ ان کی ایک لڑکی (جو دلہن تھی) نہانے کو نکلی، اس کا کمر بند سرخ تسموں کا تھا اس نے وہ کمر بند اتار کر رکھ دیا یا اس کے بدن سے گر گیا۔ پھر اس طرف سے ایک چیل گزری جہاں کمر بند پڑا تھا۔ چیل اسے (سرخ رنگ کی وجہ سے) گوشت سمجھ کر جھپٹ لے گئی۔ بعد میں قبیلہ والوں نے اسے بہت تلاش کیا، لیکن کہیں نہ ملا۔ ان لوگوں نے اس کی تہمت مجھ پر لگا دی اور میری تلاشی لینی شروع کر دی، یہاں تک کہ انہوں نے اس کی شرمگاہ تک کی تلاشی لی۔ اس نے بیان کیا کہ اللہ کی قسم میں ان کے ساتھ اسی حالت میں کھڑی تھی کہ وہی چیل آئی اور اس نے ان کا وہ کمر بند گرا دیا۔ وہ ان کے سامنے ہی گرا۔ میں نے (اسے دیکھ کر) کہا یہی تو تھا جس کی تم مجھ پر تہمت لگاتے تھے۔ تم لوگوں نے مجھ پر اس کا الزام لگایا تھا حالانکہ میں اس سے پاک تھی۔ یہی تو ہے وہ کمر بند! اس (لونڈی) نے کہا کہ اس کے بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اسلام لائی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ اس کے لیے مسجد نبوی میں ایک بڑا خیمہ لگا دیا گیا۔ (یا یہ کہا کہ) چھوٹا سا خیمہ لگا دیا گیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ وہ لونڈی میرے پاس آتی اور مجھ سے باتیں کیا کرتی تھی۔ جب بھی وہ میرے پاس آتی تو یہ ضرور کہتی کہ کمر بند کا دن ہمارے رب کی عجیب نشانیوں میں سے ہے۔ اسی نے مجھے کفر کے ملک سے نجات دی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اس سے کہا، آخر بات کیا ہے؟ جب بھی تم میرے پاس بیٹھتی ہو تو یہ بات ضرور کہتی ہو۔ آپ نے بیان کیا کہ پھر اس نے مجھے یہ قصہ سنایا۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 439]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ عرب کے کسی قبیلے کے پاس ایک سیاہ فام باندی تھی جسے انہوں نے آزاد کر دیا مگر وہ ان کے ساتھ ہی رہا کرتی تھی۔ اس کا بیان ہے کہ ایک دفعہ اس قبیلے کی کوئی بچی باہر نکلی، اس پر سرخ تسموں کا ایک کمربند تھا جسے اس نے اتار کر رکھ دیا یا وہ ازخود گر گیا۔ ایک چیل ادھر سے گزری تو اس نے اسے گوشت خیال کیا اور جھپٹ کر لے گئی۔ وہ کہتی ہے کہ اہل قبیلہ نے کمربند تلاش کیا مگر نہ ملا تو انہوں نے مجھ پر چوری کا الزام لگا دیا اور میری تلاشی لینے لگے یہاں تک کہ انہوں نے میری شرمگاہ کو بھی نہ چھوڑا۔ وہ کہتی ہیں: اللہ کی قسم! میں ان کے پاس ہی کھڑی تھی کہ اتنے میں وہی چیل آئی اور اس نے وہ کمربند پھینک دیا تو وہ ان کے درمیان آ گرا۔ میں نے کہا: تم اس کی چوری کا الزام مجھ پر لگاتے تھے، حالانکہ میں اس سے بری تھی، لو اب اپنا کمربند سنبھال لو۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: پھر وہ لونڈی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں چلی آئی اور مسلمان ہو گئی۔ اس کا خیمہ یا جھونپڑا مسجد میں تھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: وہ میرے پاس آ کر باتیں کیا کرتی تھی اور جب بھی میرے پاس بیٹھتی تو یہ شعر ضرور پڑھتی: کمربند کا دن اللہ تعالیٰ کی عجیب قدرتوں سے ہے، اس نے مجھے کفر کے ملک سے نجات دی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے اس سے کہا: کیا بات ہے جب بھی تم میرے پاس بیٹھتی ہو تو یہ شعر ضرور پڑھتی ہو۔ تب اس نے مجھ سے اپنی یہ داستان بیان کی۔ [صحيح البخاري/كتاب مناقب الأنصار/حدیث: 439]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں