صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
71. باب وفد بني حنيفة، وحديث ثمامة بن أثال:
باب: وفد بنو حنیفہ اور ثمامہ بن اثال کے واقعات کا بیان۔
حدیث نمبر: 4375
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ، أُتِيتُ بِخَزَائِنِ الْأَرْضِ، فَوُضِعَ فِي كَفِّي سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ، فَكَبُرَا عَلَيَّ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيَّ أَنِ انْفُخْهُمَا فَنَفَخْتُهُمَا، فَذَهَبَا فَأَوَّلْتُهُمَا الْكَذَّابَيْنِ اللَّذَيْنِ أَنَا بَيْنَهُمَا صَاحِبَ صَنْعَاءَ وَصَاحِبَ الْيَمَامَةِ".
ہم سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ان سے معمر نے ان سے ہمام نے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”خواب میں میرے پاس زمین کے خزانے لائے گئے اور میرے ہاتھوں میں سونے کے دو کنگن رکھ دئیے گئے۔ یہ مجھ پر بڑا شاق گزرا۔ اس کے بعد مجھے وحی کی گئی کہ میں ان میں پھونک ماروں۔ میں نے پھونکا تو وہ اڑ گئے۔ میں نے اس کی تعبیر دو جھوٹوں سے لی جن کے درمیان میں، میں ہوں یعنی صاحب صنعاء (اسود عنسی) اور صاحب یمامہ (مسیلمہ کذاب)۔“ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4375]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بحالتِ خواب مجھے روئے زمین کے خزانے دے دیے گئے اور سونے کے دو کنگن میرے ہاتھوں میں پہنائے گئے جو مجھے بہت بڑے (بھاری) معلوم ہوئے۔ پھر مجھے بذریعہ وحی حکم ہوا کہ میں ان پر پھونک ماروں۔ میں نے ان پر پھونکا تو وہ دونوں اڑ گئے۔ میں نے خواب کی تعبیر یہ سمجھی کہ دو کذاب ہیں، جن کے درمیان میں خود ہوں: اور وہ دونوں صاحبِ صنعاء (عنسی) اور صاحبِ یمامہ (مسیلمہ) ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4375]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3621
فَأَخْبَرَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ فِي يَدَيَّ سِوَارَيْنِ مِنْ ذَهَبٍ فَأَهَمَّنِي شَأْنُهُمَا، فَأُوحِيَ إِلَيَّ فِي الْمَنَامِ أَنِ انْفُخْهُمَا، فَنَفَخْتُهُمَا فَطَارَا، فَأَوَّلْتُهُمَا كَذَّابَيْنِ يَخْرُجَانِ بَعْدِي فَكَانَ أَحَدُهُمَا الْعَنْسِيَّ، وَالْآخَرُ مُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابَ صَاحِبَ الْيَمَامَةِ".
(ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ) مجھے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ”میں سویا ہوا تھا کہ میں نے (خواب میں) سونے کے دو کنگن اپنے ہاتھوں میں دیکھے۔ مجھے اس خواب سے بہت فکر ہوا، پھر خواب میں ہی وحی کے ذریعہ مجھے بتلایا گیا کہ میں ان پر پھونک ماروں۔ چنانچہ جب میں نے پھونک ماری تو وہ دونوں اڑ گئے۔ میں نے اس سے یہ تعبیر لی کہ میرے بعد جھوٹے نبی ہوں گے۔“ پس ان میں سے ایک تو اسود عنسی ہے اور دوسرا یمامہ کا مسیلمہ کذاب تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 3621]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: مجھے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک دفعہ میں سو رہا تھا کہ میں نے (خواب میں) اپنے دونوں ہاتھوں میں سونے کے دو کنگن دیکھے۔ مجھے ان کی وجہ سے بہت پریشانی ہوئی۔ مجھے خواب ہی میں وحی آئی کہ آپ دونوں کو پھونک مار دیں۔ میں نے انہیں پھونکا تو وہ دونوں اڑ گئے۔ میں نے اس خواب کی تعبیر یہ کی کہ میرے بعد دو کذاب ظاہر ہوں گے۔ ان میں سے ایک اسود عنسی تھا اور دوسرا مسیلمہ کذاب ہو گا جو یمامہ کا رہنے والا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 3621]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7034
فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: ذُكِرَ لِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ أَنَّهُ وُضِعَ فِي يَدَيَّ سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ فَفُظِعْتُهُمَا وَكَرِهْتُهُمَا، فَأُذِنَ لِي، فَنَفَخْتُهُمَا فَطَارَا، فَأَوَّلْتُهُمَا كَذَّابَيْنِ يَخْرُجَانِ"، فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: أَحَدُهُمَا الْعَنْسِيُّ الَّذِي قَتَلَهُ فَيْرُوزٌ بِالْيَمَنِ، وَالْآخَرُ مُسَيْلِمَةُ.
تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ مجھ سے کہا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ دو سونے کے کنگن میرے ہاتھ میں رکھے گئے ہیں تو مجھے اس سے تکلیف پہنچی اور ناگوار ہوئی پھر مجھے اجازت دی گئی اور میں نے ان پر پھونک ماری اور وہ دونوں اڑ گئے۔ میں نے اس کی تعبیر لی کہ دو جھوٹے پیدا ہوں گے۔ عبیداللہ نے بیان کیا کہ ان میں سے ایک تو العنسی تھا جسے یمن میں فیروز نے قتل کیا اور دوسرا مسیلمہ۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 7034]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرے پاس اس بات کا تذکرہ کیا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ایک دفعہ سویا ہوا تھا، اس دوران میں میں نے دیکھا کہ میرے ہاتھوں میں سونے کے دو کنگن رکھے گئے ہیں تو مجھے ان سے تکلیف پہنچی اور انتہائی ناگواری محسوس ہوئی۔ پھر مجھے اجازت دی گئی تو میں نے ان کو پھونک ماری، چنانچہ وہ دونوں اڑ گئے۔ میں نے ان کی تعبیر یہ کی کہ دو کذاب ظاہر ہوں گے۔“ (راویِ حدیث) عبیداللہ نے کہا: ان میں سے ایک تو اسود عنسی تھا جسے یمن میں فیروز نے قتل کیا تھا اور دوسرا مسیلمہ کذاب تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 7034]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة